پاکستان کے محسن !

منگل مئی    |    محمد عرفان ندیم

یہ دو منٹ کا ویڈیو کلپ تھا اور اس دومنٹ کے ویڈیو کلپ میں دبئی سے ایک خوبصورت لطیفہ شیئر کیا گیا تھا ،میں اس لطیفے کےکردار اور اس کے الفاظ بھول چکا ہوں لیکن اس کا مفہوم میری روح اور میرے تخیل کےسا تھ چپک گیا ہے اور میں جب بھی کوئی خبر یا ایسا واقعہ سنتا ہوں تو وہ مفہوم مجسم ہو کر میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ۔ کوئی لطیفہ ہو یا کہاوت اس کے پیچھے صدیوں کے تجربات جمع ہوتے ہیں تب کہیں جا کر کوئی لطیفہ یا کہاوت جنم لیتی ہے ،ہم سمجھتے ہیں شاید لطیفہ ایک وقتی تفریح ہوتی ہے اور لطیفے کی زندگی دو سے پانچ منٹ کے بعد ختم ہو جاتی ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ۔
ہر لطیفہ اپنے ضمن میں ایک سبق اور درس لیے ہوتا ہے اور اس میں حکمتوں کے ہزاروں راز پوشیدہ ہوتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

آ پ آج سے غور کرنا شروع کر دیں آپ سفر میں ہوں یا حضر میں آپ کا کوئی دوست لطیفہ پھینکے تو آپ صرف دوچار قہقہے لگا کر خاموش نہ ہو جائیں بلکہ اس لطیفے کے پس منظر، اس کی نفسیات اور اس کے بیک گراونڈ کا جائزہ لیں آپ کو اس لطیفے سے عقل و خرد کے ہزاروں چشمے پھوٹتے نظر آئیں ، ہم میں سے نناوے فیصد افراد لطیفے کو لطیفہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ کوئی ایک لطیفہ ہمیں زندگی کا بہترین سبق دے سکتا ہے ۔

اس ویڈیو کلپ میں بھی ایک ایسا ہی لطیفہ شیئر کیا گیا تھا اور یہ کلپ ایک پاکستانی پردیسی بھائی نے دبئی سے اپ لوڈ کیا تھا ،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پاکستانی دبئی کے صحرا میں لگے ایک درخت سے مختلف قسم کے موبائل توڑ رہا ہے ، بالکل ایسے جیسے کسی درخت سے پھل توڑے جاتے ہیں ، پاس کھڑے کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی آپ کیا کر رہے ہو ؟وہ بیچارہ بڑی معصومیت سے جواب دیتا ہے کہ ابھی پاکستان سے فلاں فلاں رشتے دار اور دوستوں کا فون آیا تھا کہ ہمارے لیے فلاں کمپنی کاموبائل بھیجو ، وہ شاید سمجھتے ہیں کہ یہاں درختوں پر موبائل لگتے ہیں اس لیے میں اس درخت سے موبائل توڑ کر انہیں بھیج رہا ہوں ۔
کچھ ہی دیر بعد وہ ایک دوسرے درخت کی طرف بڑھتا ہے اور اس سے ڈالر توڑ کر شاپر میں ڈالنا شروع کر دیتا ہے ،لوگ پوچھتے ہیں آپ کیا کر رہے ہو ، وہ جواب دیتا ہے کہ ابھی پچھلے دنوں پچاس ہزار روپیہ پاکستان بھیجا تھا آج پھر فون آ گیا کہ پیسے بھیجو شاید وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں درختوں پر پیسے لگتے ہیں اس لیے اس درخت سے پیسے توڑ کر گھر بھیج رہا ہوں ۔ کہنے کو یہ صرف ایک لطیفہ ہے اور ہمارے نزدیک اس کی قیمت صرف دو چار قہقہے ہیں اور بس لیکن اس کے پیچھے جو نفسیات اور جو درد موجودہے اس کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو دبئی کے صحرا میں پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے ۔

ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کے جو مسائل ہیں انہیں چار پانچ پہلووں کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ہماری حکومت اپنے افراد کو روز گار مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے ، پچھلے پچیس تیس سالوں میں جس رفتار سے آبادی بڑھی ہےاور خاندانوں کا معاشی بوجھ بڑھا ہے ہماری کسی صوبائی یا مرکزی حکومت نے اس معاشی بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی پالیسی ترتیب نہیں دی اس کا نتیجہ کیا نکلا ہمارے ستر اسی لاکھ ورکرز اور ہمارے سارے انسانی وسائل بیرون ملک منتقل ہو گئے ، اس وقت دنیا میں جتنے بھی وسائل موجود ہیں ان میں سب سے ذیادہ اہمیت انسانی وسائل کی ہے ، آج اگر چین چین اور جاپان جاپان ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کی حکومتوں نے اپنے انسانی وسائل کو اسکلز اور مہارتیں سکھا کر انہیں روز گار مہیا کر دیا ہے اور اب یہ افراد اپنے گھروں میں مال تیار کر کے پوری دنیا میں مارکیٹ کر رہے ہیں ، ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ہمارا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو سب سے ذیادہ انسانی وسائل رکھتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
آپ پنجاب کے گاوں دیہات کا سروے کر لیں آپ کو نظر آئے گا کہ ہر دوسرے گھر کا فرد روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہے ۔ یہ ہماری حکومتوں اور ہمارے حکمرانوں کی نااہلی ہے اور یہ انہیں تسلیم کرنی چاہیئے ۔ سمندر پار پاکستانیوں اور خصوصا گلف کنٹریز میں کام کرنے والے پاکستانیوں کا ایک اہم مسئلہ ڈیوٹی ٹائمنگ اور ڈیوٹی کی نوعیت ہے ، یہاں ڈیوٹی کچھ بتائی جاتی ہے اور وہاں جا کے پتا چلتا ہے کہ یہ تو کچھ اور ہی نکلا ، کہنے کو دبئی منی یورپ ہے لیکن یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو یہاں سیر و تفریح کے لیے آتے یا یہاں کے مقامی باشندے ہیں ورنہ دیگر ممالک کی جو لیبر وہاں کام کرتی ہے یہ سب ان کے لیے بھیڑ بکریاں ہیں ۔
سولہ سولہ گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے اور کوئی اوور ٹائم نہیں دیا جاتا ،کوئی زبان کھولے تو اسے اسی وقت واپسی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے ۔ ہماری حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کے لیے انٹر نیشنل اداروں سے بات کرے اور بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے بارے میں لیبر قوانین کی پابندی کروائی جائے ۔ یہ صورتحال ذیادہ تر گلف کنٹریز میں ہے ورنہ، امریکہ ، کوریا اور یورپی ممالک میں لیبر قوانین کی سختی سے پابندی کی جاتے ہے۔
کوریا سے ایک دوست بتا رہے تھے کہ 1935 سے 1947 تک کوریا کے لوگ روزگار کے لیے گلف کنٹریز جایا کرتے تھے ،وہاں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا تھا اور جس طرح سے لیبر قوانین کو نظر انداز کیا جاتا تھا بعد میں جب کوریا نے ترقی کی اور لوگ روز گار کے لیے کوریا جانے لگے تو ان لوگوں نے اپنے تلخ تجربات کو مد نظر رکھ کر لیبر قوانین وضع کیے اور ان پر سختی سے پابندی کروائی ۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ اس وقت سب سے ذیادہ پاکستانی گلف کنٹریز میں ہیں اور مقامی افراد اور کمپنیوں کے ظالمانہ رویے برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔
گلف کنٹریز کی ترقی، انفراسٹکچراور سڑکوں کی تعمیر میں سب سے ذیادہ پاکستانی لیبر کا کام ہے ۔ اس وقت سعودی عرب میں تقریبا 21 لاکھ ، بحرین میں 11 لاکھ ، کویت میں 11 لاکھ ، یو اے ای میں 13 لاکھ ، قطر میں دس لاکھ ، امریکہ میں 9 لاکھ ، برطانیہ میں 18 لاکھ ، اسپین ، ساوتھ افریقہ اور ملائیشیا میں 1 لاکھ ،اٹلی میں ایک لاکھ دس ہزار ، یونان میں ستر ہزار ، جرمنی اور فرانس میں ایک ایک لاکھ کینیڈا میں دولاکھ ، آسٹریلیا میں ایک لاکھ ،ڈنمارک میں 35 ہزار ، چین میں 15 ہزار اور آسٹریا میں دس ہزار پاکستانی لیبرموجود ہے،یہ پاکستان کے وہ محسن ہیں جو خود پاکستان سے دور رہ کر ایک طرف اپنے خاندان کا سہارا بنے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اربوں ڈالر کا سرمایہ بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔
سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کا ایک اہم پہلو ٹیکس کی شرح ہے ، جب مہینے بھر کی کمائی پاکستان بھیجنے کا وقت آتا ٹیکس کی شرح دیکھ کر کئی لوگ ہنڈی کا رسک لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس میں ریاست اور فرد دونوں کا نقصان ہے ، میری حکومت اور خصوصا اوور سیز پاکستانی کمیشن سے درخواست ہے اس ٹیکس کی شرح کو کم کیا جائے ،سردست اگر حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم انہیں ٹیکس کی شرح میں ریلیف دے کران کی تکلیف کو کم تو کر سکتی ہے ۔
سمندر پار پاکستانیوں کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ساری زندگی باہر رہ کر جو جمع پونجی جمع کرتے ہیں اور پاکستان میں جو تھوڑی بہت جائیداد بناتے ہیں یہاں انہیں اغواء برائے تاوان اور ان کی جائیداد ہتھیانے کی کوشس کی جاتی ہے ۔ کہنے کو تو مرکزی سطح پر سمندر پار پاکستانیوں کی وزات قائم ہے لیکن اس مردے گھوڑے میں جان ڈالنے کی ضرورت ہے،میرے خیال میں ہر صوبے کو صوبائی سطح پر اس طرح کے مسائل کو دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے ، ہر صوبے میں اوور سیز پاکستانی کمیشن قائم کیا جائے اور اس کو مکمل اختیارات دے کر اسے فعال بنایا جائے ۔
پنجاب گورنمنٹ اس حوالے سے سبقت لے گئی ہے اور یہاں شاید 2014 سے یہ کمیشن وجود میں آکر اپنا کام کر رہا ہے ۔شنید ہے کہ کمیشن کے موجودہ وائس چیئر مین کیپٹن ر خالد شاہین بٹ بلا معاوضہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اوور سیز پاکستانیوں کی بہتری اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کافی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں ۔ اگر یہ واقعی سچ ہے تو یقینا یہ ایک حیران کن بات اور وہ ہماری بیوری کریسی کے لیے ایک عمدہ مثال ہیں ۔ مسائل بہت ذیادہ ہیں اور اس وقت ہمیں ایسے ہی محنتی ،مخلص اور ایما ندار افراد کی ضرورت ہے ۔سمندر پار پاکستانی پاکستان کے وہ محسن ہیں جو اپنے وطن سے دور رہ کر اربوں ڈالر کا سرمایہ بھیج کر ہماری معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں اس لیے ان بھائیوں کے مسائل کا حل ہماری ہر حکو مت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان


متعلقہ کالم