پاکستان اور پرسیپشن!

پیر فروری    |    محمد عرفان ندیم

شیخ سعدی فارسی ادب کا بڑا نام ہیں ،ان کی دو مشہور کتابیں گلستان اور بوستان فارسی ادب کا بہترین سرمایہ ہیں ۔ شیخ سعدی نے گلستان میں ایک بڑا خوبصورت واقعہ نقل کیا ہے میں اس واقعے کی طرف نہیں جانا چاہتا ، اس واقعے کے آخر میں شیخ سعدی نے ایک بڑاخوبصورت جملہ لکھا ہے ،میں نے ان کی کتاب گلستان آج سے بارہ سال پہلے پڑھی تھی لیکن وہ جملہ آج بھی میرے ذہن پر نقش بن کر ثبت ہے ،وہ لکھتے ہیں ” تو اچھا ہو اور لوگ تجھے برا کہیں ،یہ بہتر ہے اس سے کہ تو برا ہو اور لوگ تجھے اچھا کہیں “ ۔
بنیادی طور پر اس جملے میں شیخ سعدی نے ” پر سیپشن“ کا تصور دیا ہے ،ہم اپنی زندگی میں مختلف چیزوں اور افراد کے بارے میں مختلف پرسیپشنز بنا لیتے ہیں اور پھر ہر چیز کو اسی پرسیپشن کے تناظر میں دیکھتے ہیں ، یہ پرسیپشن بنانے میں ہمارا میڈیا ، ہمارے دوست ،ہمارا ماحول اور معاشرہ بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

ہمارا کوئی بے تکلف دوست کسی وجہ سے سنجیدگی اختیا ر کر لے تو ہماری فورا یہ پرسیپشن بن جاتی ہے کہ یہ مغرور ہو گیا ہے ، کوئی دوست کسی اچھی پوسٹ پے چلا جائے اور مصروفیات کی وجہ سے رابطہ نا رکھ پائے تو ہم اس کے بارے میں ایک خاص پرسیپشن بنا لیتے ہیں ،ہم پرسیپشن بنانے اور اس بنیاد پر فیصلے کرنے میں ذیادہ تکلف نہیں کرتے حالانکہ ہماری پرسیپشن اور ریالٹی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔

افراد ،اقوام اور ملکوں کے بارے میں بھی ایک خاص پرسیپشن مشہور ہو جاتی ہے اور ہم چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا سکتے ۔ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر جو پرسیپشن بن چکی ہے اس میں اور ریالٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود اس پرسیپشن کو بدلنا نہیں چاہتے۔دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے اور انٹرنیشنل میڈیا ہمارے بارے میں کیا دکھا تا ہے اس کو ایک لمحے کے لیے سائڈ پے رکھ دیں اور بتائیں کہ ہم، ہمارے رویے اور ہماری اپنی پرسیپشن اس ملک کے بارے میں کیا ہے ؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم خود اس پرسیپشن کو بدلنا نہیں چاہتے ،تبدیلی اور اصلاح ہمیشہ اندر سے جنم لیتی ہے ، پہلے ہمیں خود اپنے ملک کے بارے میں اپنی پرسیپشن کو بدلنا ہو گا اور ” یہ پاکستا ن ہے یہاں سب چلتا ہے “ ہمیں ان نفسیات سے جان چھڑانی ہو گی۔
دنیا میں جب بھی تبدیلی کا سفر شروع ہوا اس کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات اور اپنے متعلقین سے ہوا، آپ دیکھ لیں دنیا میں جتنے بھی انبیا آئے سب نے پہلے اپنے خاندان اور فیملی والوں کی اصلاح کی کوشش کی ،محسن انسانیت کو بھی سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم دیا گیا تھا ۔جب تک ہم خود اس ملک کے بارے میں اپنی پرسیپشن کو نہیں بدلیں ہم کسی اور کو قائل نہیں کر سکیں گے۔
میں نے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ یہ ملک ویسا نہیں جیسی اس کے بارے میں ہمای پرسیپشن بن چکی ہے ،اس ملک کی مٹی بڑی زرخیز ہے اور اس ملک کا مستقبل بہت روشن ہے ۔
ہمارے صرف تین چار بڑے بڑے مسائل ہیں اگر وہ مسائل حل ہو جائیں تو بہت جلد ہماری یہ پرسیپشن غلط ثابت ہو جائے ۔ دنیا میں اس وقت ساٹھ اسلامی ممالک ہیں اور پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ ان سب کی قیادت کرے اور پاکستان کا مستقبل ان سب سے روشن ہے ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ عرب ممالک پاکستان سے کہیں آگے ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں عرب ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا دار ومدار صر ف تیل پر ہے اور اگلے پچاس سال کے اندر تیل کے یہ کنویں ختم ہو جائیں گے اور عرب ممالک کی ساری چکاچوند ماند پڑ جائے گی ۔
وجہ یہ ہے کہ ان ممالک نے تیل سے کمائی ہوئی دولت کو محض عیاشی اور فضول خرچی میں اڑایا ہے انہوں نے اس دولت سے علم ،فن یا ٹیکنالوجی کی خدمت نہیں کی لہذا کل جب ان کے پاس سے تیل کی دولت ختم ہو گی تو علم ،فن یا ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کنگھال ہو جائیں گے۔ جبکہ پاکستان کا یہ مسئلہ نہیں ،یہاں علم اورفن بھی سکھایا جا رہا ہے اور ٹیکنالوجی پر بھی کام ہو رہا ہے ۔ میرے ایک دوست دبئی ایئر پورٹ پر ہوتے ہیں وہ بتا رہے تھے کہ دبئی کی ریتلی مٹی اتنی زرخیز ہیں کہ اس میں گھاس اور پودے ا گ سکیں اس مقصد کے لیے پاکستان سے مٹی منگوائی جاتی ہے۔
ہمارے شمالی علاقہ جات دنیا کی بہترین تفریح گاہیں ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ سوئزر لینڈ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور ہم ابھی تک یہ نہیں کر پائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد مایوس ہو جانے والی قوم ہیں ، پاکستان سے ہماری یہ توقع کہ آذادی کے صرف پچاس سال بعد یہ عالمی طاقتوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا یہ اس ملک کے ساتھ ناانصافی ہے ،ہمیں اس ملک کو تھوڑا وقت دینا چاہیے ، یہ ملک اپنی عمر اور قد سے بڑھ کر ترقی کر رہا ہے ، ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے ، ہم ایٹمی ممالک کی صف میں کھڑے ہیں اور ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج موجود ہے ، جنوبی ایشیا کا کوئی مسئلہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور ہم امریکہ و روس دونوں عالمی طاقتوں کے لیے مجبوری بن چکے ہیں اور مستقبل کی عالمی طاقت چین ہم سے بنا کر رکھنا چاہتا ہے ۔
دنیا کے ساٹھ اسلامی ممالک کا کوئی مسئلہ ہو تو دنیا کی نگاہیں ہمارے طرف اٹھتی ہیں ،ایران سعودیہ تنازع ہو یا افغانستان کا مسئلہ دنیا بہر حال ہماری طرف دیکھتی ہے ۔ دہشت گردی اس وقت دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن پاکستان نے کافی حد تک اس مرض پر قابوپا لیا ہے،ہم اس مرض سے بچ نکلے ہیں لیکن دنیا ابھی تک اس چیلنج سے نمٹنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ،برطانیہ جیسا ملک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہم سے مدد کا طلبگار ہے اور پچھلے دنوں جب میاں شہباز شریف برطانیہ گئے تھے تو برطانوی حکام نے باقاعدہ اس کی درخواست کے تھی ۔
ہم اندرونی طور پر بھی خوشحال ہو رہے ہیں ،آپ مانیں یا نا مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرہ بڑی تیزی سے اعتدال کی جانب بڑھ رہا ہے ، ہمارے ہاں ماضی میں شدت پسندی کا جو رجحان تھا وہ کافی حد تک کم ہوا ہے ،لوگ ایک دوسرے کو برداشت کرنے لگے ہیں ،ایک دوسرے کی مساجد میں بلا خوف و خطر چلے جاتے ہیں اور ہماری نوجوان نسل نے سرکاری اور پرائیویٹ ادارو ں میں نیا خون بھر دیا ہے ،پرانے اور بوڑھے لوگ اداروں سے نکل رہے ہیں اور نئی نسل نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ،یہ نوجوان نسل اپنے عہد کے مسائل کو بھی جانتی ہے اور یہ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی بھر پور صلاحیت بھی رکھتی ہے اس لیے اب پٹوار خانے سے پارلیمنٹ تک اور صحت سے لے کر تعلیم تک ہر جگہ تبدیلی نظر آ رہی ہے ۔
میں نوجوان نسل سے درخواست کروں گا کہ آپ جن جن اداروں میں جا رہے ہیں وہاں جا کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ،ہم سے پہلے جو طبقہ اور نسل تھی انہوں نے درختوں کے پتوں اور ٹوٹے پھوٹے فرنیچر سے کا م شروع کیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ہمیں ایک ایٹمی پاکستان دینے میں کامیان ہو گئے ہیں اور اب اگلی ذمہ داری ہماری ہے ، ہم نے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور اب ہمارا دور شرو ع ہو چکا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان


متعلقہ کالم