پیو کی بھی سن لیں !

جمعرات مئی    |    محمد عرفان ندیم

اس کام کا آغاز ٹائم مرر کمپنی کی طرف سے کیا گیاتھا ، ٹائم مرر ایک پبلشنگ ادارہ ہے اور امریکہ کا مشہور اخبار ٹائم مرر اسی کمپنی کی ملکیت ہے ۔ اس ادارے نے 1990 کی دہائی میں مختلف ریسرچ پروجیکٹ شروع کیےتھے ،یہ پروجیکٹ سیاست ، سماج اور مذہب کے متعلق تھے ،کچھ عرصے بعد " پیو چیئرٹیبل ٹرسٹ " اس کا سپانسر بن گیا اور اس کا نام " پیو ریسرچ سنٹر " رکھ دیا گیا۔ پیو ریسرچ سنٹر نے آنے والے دنوں میں عوام اور میڈیا کے لیے مختلف ریسرچ پروجیکٹ منعقد کیے ،مختلف رپورٹس تیار کیں اور انہیں انٹر نیٹ پر پھینک دیا ، انٹر نیٹ کے ذریعے یہ رپورٹس دنیا بھر کے میڈیا کے ہاتھ لگیں اور یوں پیو ریسرچ سنٹر امریکہ کا مشہور تھینک ٹینک بن گیا۔
2004 میں واشنگٹن ڈی سی میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا اور اینڈریو kohut اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے ،2004 سے اب تک پیو ریسرچ سنٹر " پیو چیئرٹیبل ٹرسٹ " کے ایک ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے اور اب تک اس کی بیسیوں رپورٹس اور ریسرچ پروجیکٹس منظر عام پر آ چکے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

یہ رپورٹس امریکہ، تیسری دنیا کے ممالک ، سیاست ،مذہب، سماج اور اقتصادیات کے متعلق ہیں ،کچھ ہی دن پہلے اس ادارے نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے ، ادارے نے رپورٹ کی تیاری کے لیے گزشتہ سال 5 اپریل سے 21 مئی کے درمیان دنیا کے دس مسلم اکثریتی ممالک میں 10 ہزار سے زائد افراد سے تین سوالات پوچھے تھے۔

لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کے ملکی قوانین سختی سے قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونے چاہیئں یا صرف اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق ہونا کافی ہے اوران قوانین کو قرآن سے بالکل متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔سروے میں شامل 78 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ملکی قوانین سختی سے قرآنی تعلیمات کے مطابق ہو نےچاہییں جبکہ 16 فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق تو ہونا چاہیئے مگر قران کی سخت پیروی نہیں کرنی چاہیئے۔
صرف دو فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلام سے متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔جائزے میں پورے ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں سے یہ سوالات پوچھے گئے اور ان میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔ در اصل یہاں سوال کرنے والوں نے بنیادی غلطی یہ کی ہے کہ قرآن اور اسلا م کو دو الگ الگ چیزیں بنا کر پیش کیا ہے حالانکہ قرآن اور اسلام کوئی الگ چیز نہیں لہذااس زاویئے سے دیکھا جائے تو گویا ملک کے 94 فیصد لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہونا چاہئے ۔
صرف دوفیصد افراد کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین قرآن و سنت کے تابع نہیں ہونے چاہیئں ۔ رپورٹ کے مطابق اسلام 2070ءتک دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائیگا اور اس طرح عیسائیت کی دو ہزار سال سے سب سے بڑا مذہب ہونے کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی نہ صرف تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ جن علاقوں میں وہ رہتے ہیں وہاں کی آبادی میں انکا حصہ بھی بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے مذاہب کے مستقبل کے حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا 2010ءمیں عیسائیت کو ماننے والوں کی تعداد 6.9 ارب آبادی کا 31 فیصد یعنی 2.2 ارب تھی، مسلمانوں کی تعداد 1.6 ارب تھی جو کل آبادی کا 23 فیصد بنتا ہے تاہم اگلی نصف صدی میں مسلمانوں میں شرح پیدائش میں اضافے کی وجہ سے انکی تعداد بڑی تیزی سے بڑھے گی۔
یہ رپورٹ دنیا کی اسّی زبانوں میں شایع کی گئی ہے۔اس رپورٹ کی تیاری میں اُنتالیس ممالک کے چالیس ہزار افراد کا سروے کیا گیا اور اُن سے مختلف سوالات پوچھے گئے۔ دنیا کی کل مسلم آبادی کا تیرہ فیصد حصہ انڈونیشیا میں، گیارہ فیصد ہندوستان اور پاکستان میں اور آٹھ فیصد مسلمان بنگلہ دیش میں رہائش پذیر ہے۔جبکہ نائجریا، مصر، ایران اور ترکی میں پانچ فیصد اور الجیریا اور مراکش میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا دو فیصد رہائش پزیر ہے، اس طرح مسلمان انچاس ملکوں میں اکثریت میں ہیں ۔
اہم مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد اور ان کے رجحانات کے حوالے سے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عیسائی مذہب کے پیروکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ،اس کے برعکس ہندومت کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہندوستان میں ہی رہتی ہے۔مسلمانوں میں کم عمر افراد بڑی تعداد میں ہیں اور ان میں تئیس سال کے نوجوانوں کی کثرت ہے جبکہ مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کی دیگر قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والوں میں اٹھائیس سال کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔
عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں زیادہ تعداد تیس برس کے افراد کی ہے جبکہ ہندومت کے پیروکاروں میں چھبیس سال کے نوجوانوں کی اکثریت ہے۔اُنتالیس مسلم ممالک میں مذہبی عبادات کا رُجحان مردوں میں عورتوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے۔افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں میں سے دس میں سے آٹھ افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی میں مذہب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں میں دس میں سے چھ افراد مذہب کواہمیت دیتے ہیں۔
وسطی ایشیاء اور سابقہ سوویت یونین کی مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں کے پچاس فیصد افراد مذہب کو اپنی زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔
میرے خیال میں "امریکی پیو " کی یہ رپورٹ میرے ان تمام سیکولر دوستوں کو پڑھ لینی چاہئے جو پاکستان میں سیکولرزم سیکولرزم کھیلتے نہیں تھکتے ۔ انہیں اب سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے خواجہ آصف کو یاد کر لیناچاہئےکیونکہ اب تو ان کے گھر کے فرد کی طرف سے گواہی آ چکی ہے۔ ویسے ہمارے یہ سیکولر دوست ہمیشہ اس بات کا دعوٰ ی کرتے ہیں کہ ہر بات دلائل کے ساتھ کی جائے اور دلائل کی بنیاد پر جو سچائی نکھر کر سامنے آئے اسے اپنا لیا جائے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسروں کو شدت پسندی، دلائل کی بناد پر بات کرنے اور اورروں کو اختلاف رائے کا طعنہ دینے والے خود اپنے موقف پر غور کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com