سیاست کا عذاب

بدھ نومبر    |    محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم
ملک میں سیاست کا بازار گرم ہے اور سیاست کو ہی تبدیلی کا واحد راستہ سمجھ لیا گیا ہے ، سوال یہ ہے کہ احتجاج کر نے والے اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیاملک میں تبدیلی آ جائے گی ؟یا موجودہ حکمران اپنا اقتدار بچا کر ملکی ترقی کی رفتار تیز کر دیں گے ؟ میرے خیال میں اگر ہم تاریخ سے یہی سوال کریں تو جواب ایک سو اسی زاویے الٹ ہو گا ۔میں مغربی اقوام اور آج کے ترقی یافتہ معاشروں کی چند مثالوں سے بات واضح کر نا چاہتا ہوں ۔
یہ بات اب قطعا نہیں جھٹلائی جا سکتی کہ یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہوں سے ملی تھی، اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا تھاجس میں عربی زبان کے علوم کو لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی کام میں خوب حصہ لیااور عربی زبان کی بڑی بڑی کتابوں کو لاطینی زبان میں منتقل کرنے کا کام نہایت تیزی سے ہوا ، ان تراجم نے مغربی قوموں میں علم و فن کی روشنی بخشنی شروع کی جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ میں اور نئی امنگ کےساتھ ابھرنے لگی اورعربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا ۔

(خبر جاری ہے)

اس اداروں میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ ، طبعی اور عقلی علوم پر مشتمل تھا اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور بو علی ابن سینا جیسے اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ماہرین کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیں ان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیااور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، ان کتابوں میں سے اکثر و بیشتر پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں اور اہل مغرب ان سے استفادہ کرتے رہے۔
اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی۔پرتگال کے پرنس ہنری نے ایک عظیم بحری اکیڈمی قائم کی تھی جس میں تدریس و تربیت کے لیے عرب اور یہودی علماء مقرر ہوئے تھے۔ اسی درس گاہ سے واسکوڈی گاما نے تعلیم حاصل کی تھی جو پرتگال سے چل کر ہندوستان میں پہنچا تھا اور یہ پہلا یورپی ملاح تھا جس نے یورپ سے ہندوستان جانے کا راستہ معلوم کیا تھا۔
یورپ میں پندرہویں صدی تک کوئی ایسا مصنف نہیں تھا جو عربوں کا ناقل نہ ہو۔ راجر بیکن پادری طامس، البرٹ بزرگ اور الفونسو دہم وغیرہ یا تو عربوں کے شاگرد تھے یا ناقل۔ البرٹ بزرگ نے جو کچھ پایا، ابن سینا سے پایا اور سینٹ طامس نے اپنا فلسفہ ابن رشد سے لیا۔فریڈرک دوم نے نیپلز میں ایک یونیورسٹی بنائی تھی جس میں ابن رشد کا فلسفہ اور ارسطوکے عربی تراجم بطور نصاب پڑھائے جاتے تھے اور اس کے دارالکتب میں عربی کی کتابیں بڑی تعداد میں تھیں۔
اسی طرح ایک ادارہ طلیطلہ کے بشپ ریمنڈ نے قائم کیا۔ اس میں عربی و لاطینی کے بڑے بڑے عالم جمع کیے۔ ان کا کام تدریس کے علاوہ ترجمہ بھی تھا۔ یہ ادارہ تین صدیوں تک جاری رہا۔ ان علماء نے ابن رشد، رازی، سینا وغیرہ کے علاوہ ارسطو، بقراط، جالینوس، اقلیدس، ارشمیدس اور بطلیموس کے عربی تراجم لاطینی میں منتقل کیے۔ ان تراجم کی تعداد تین سو سے زیادہ تھی۔ولیم فاتح برطانیہ کے ہمراہ یہودیوں کی ایک خاصی تعداد فرانس سے برطانیہ میں پہنچی تھی۔
یہ لوگ عربی کے عالم تھے۔ انہوں نے انگلینڈ میں عربی مدارس کھولے۔ ایک ادارہ آکسفورڈ میں جاری کیا جہاں دوسو سال بعد راجر بیکن بحیثیت طالب علم داخل ہوا تھا۔ راجر بیکن بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر مقرر ہوا۔ یہ اپنے طلبہ سے کہا کرتا تھا کہ حقیقی علم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اٹلی کی پڈوا یونیورسٹی میں ابن رشد کا فلسفہ شامل نصاب تھا۔
اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی قومیت نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔
اس مقصد کے لیے اہل مغرب نے پریس اور مطابع جاری کیے اور عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں،اہلِ یورپ نے مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے خاص خاص کتب خانے قائم کیے اور کتابیں یکجا کیں، انیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی ڈھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلین، لندن، اکسفورڈ، روم، اسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمیوں کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا، سب سے قدیم انجمن 1781ء میں جاوا کے دارا لحکومت میں قائم کی گئی، پھر کلکتہ میں سر ولیم جونس نے 1784ء میں عربی کی اشاعت کے لیے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی اور 1788ء سے 1836ء تک بیس جلدوں میں اس سلسلہ کی کتابیں شائع ہوئیں، کلکتہ کی اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی 1833ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا، جو برابر شائع ہوتا تھا۔
اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاء اس کے ممبر تھے۔1820ءمیں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اور انہوں نے اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جن میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکاڈمی اور سوسائٹی قائم کی، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ۔
کیا ممکن ہے کہ کوئی سیاست دان ترقی اور تبدیلی کے ان مفاہیم پر بھی غور کرے اور اپنی سیاست کا رخ اس نہج پر موڑ کر اس ملک اور قوم پر احسان کرے ،شاید نہین کیونکہ اس قوم کی قسمت میں عمران خان ، نوازش شریف ،دھرنے اور پانامہ لیکس ہی لکھا ہے اور بیس کروڑ عوام کو اب یہ عذاب بھگتنا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com