یہ لوگ !

پیر دسمبر    |    محمد عرفان ندیم

دربان آگے بڑھا، ہاتھ سینے پر رکھا اور ”با ادب باملاحظہ ہوشیار “ کی صدا بلند کر کے دروازہ کھول دیا ۔ شہزادہ دیوان خاص میں داخل ہو ا ، بادشاہ سلامت تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ،دائیں بائیں کھڑے ملازم کھجور کے بڑے بڑے پنکھوں سے بادشاہ سلامت کو جھول رہے تھے ، شہزادہ آگے بڑھا اور بادشاہ کے تخت کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ بادشاہ نے سامنے بیٹھے مشیروں پر ایک نظر دوڑائی اور شہزادے کی طرف دیکھ کر بولے” میں اپنی زندگی کی آخری بہاریں دیکھ رہا ہوں ، میں نے اپنی ساری زندگی اپنی رعایا کو خوش رکھنے کی کوشش کی ہے ، آپ جانتے ہیں جب میں نے یہ ملک سنبھالا یہاں خاک اڑتی تھی ، لوگ ظلم کا شکار تھے ، امیر اور غریب کا فرق واضح تھا ،معاشرے میں فقیروں ،گداگروں اور دھوکے بازوں کی لمبی قطاریں تھیں ،شہر گندے تھے ، جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر تھے ،گلیاں تنگ اور دکانیں گندی تھیں ،شہروں میں اکثر بدبو اور شور و غل رہا کرتا تھا۔

(خبر جاری ہے)

“ بادشاہ سلامت رکے ، شہزادے کی طرف دیکھا اور دوبارہ گویا ہو ئے” رات کو روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا ، گلیاں اکثر تاریک ہوتی تھیں ،گھروں میں دھواں بھر جاتا تھا،کپڑے دھونے کا رواج بہت کم تھا ، عوام تنگ نظراور کم ظرف تھے ، ماحول میں تشدد غالب تھا ،کوئی کسی کو برداشت کرنے کے لیئے تیار نہیں تھا ، لوگ ایک دوسرے کو آنکھیں نکالتے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ، تفریح کے لیئے انسانوں اور جانوروں کی لڑائیاں اور مقابلے ہوا کرتے تھے ، لوگوں کی عمریں ذیادہ نہیں ہو ا کرتی تھیں ، بیماریں عام تھیں لیکن معالج اور ڈاکٹر ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتے تھے ۔
بیماریوں اور فسادات میں لوگ بڑی تعداد میں مر جاتے تھے لیکن اس سب کے باوجود میں نے اپنی اولاد کو کبھی ریاستی امور میں دخل دینے کی اجازت نہیں دی لیکن اب میں محسوس کر رہا ہوں میرا آخری وقت قریب آ چکا ہے اور اب میں نے اپناولی عہدمقرر کرنے اور اسے حکمرانی کے گر سکھانے کا ارادہ کیا ہے ، کیا آ پ اس شہزادے کے ولی عہد ہونے پر متفق ہیں ؟“ تمام مشیروں نے بادشاہ سلامت کی تائید کی، باشاہ سلامت نے شہزادے کی طرف دیکھا اور بولا ” کل سے تمہیں میں ایک جنگل میں بھیج رہا ہوں ،تم ایک ہفتہ اس جنگل میں گزار کے آوٴ گے اور اس ایک ہفتے میں تم جو سیکھو گے ایک ہفتے بعد اس کا امتحان ہوگا،اگر تم امتحان میں کامیاب ہو گئے تو تمہیں ولی عہد کی کرسی پر بٹھا دیا جائے گا “شہزادے نے سینے پر ہاتھ رکھ کر آداب کہا اور اسی کے ساتھ مجلس بر خاست ہو گئی ۔

اگلے روز شہزادہ جنگل کی طرف روانہ ہو گیا ، تھکا دینے والے مسلسل سفر کے بعد وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچ گیا ،اس نے سامان نیچے پھینکا اور ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، اس نے دیکھا کہ جنگل میں کو ن کون سے پرندے ، جانور اور درخت پائے جاتے ہیں ، جنگل میں کتنی اقسام کے کیڑے مکوڑے اور جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ جنگل میں کتنے چشمے ، کتنی آبشاریں اور کتنی جھیلیں ہیں ، اس نے یہ بھی نو ٹ کیا کہ اس جنگل میں کتنی اقسام کے پھل اور پھول پائے جاتے ہیں، اس جنگل میں بادشاہت کس کی ہے اور جانور وں کا آپس میں کیسا وریہ ہے ، اس نے جنگل میں بارش، بارش کی بوندیں اور بارش کے پانی کا بہاوٴ بھی نوٹ کیا، اس نے جنگلی جانوروں کی آوازیں ، رات کا سناٹا اور جنگل کے سکوت کی آواز تک نوٹ کی ۔
ایک ہفتے بعد اس نے سامان باندھااور بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو گیا ، تمام درباری اکھٹے ہو گئے ، بادشاہ سلامت نے ایک نظر اپنے درباریوں پر ڈالی اور شہزادے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کیا ” آپ ہمیں بتائیں کہ آ پ نے اس ایک ہفتے میں جنگل میں کیا سیکھا “ شہزادہ آگے جھکا ،سینے پر ہاتھ رکھااور بولا ” بادشاہ سلامت میں نے نوٹ کیا کہ جنگل میں کتنے جانور ،کتنے پرندے اور کتنی اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں ، میں نے جانوروں اورپرندوں کی تعداد اور ان کے نام تک یاد کیئے، میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس جنگل میں کتنے چشمے ، کتنی آبشاریں اور کتنی جھیلیں پائی جاتی ہیں اور میں نے جنگل کا سناٹا اور تاریکی تک کو محسوس کرنے کی کوشش کی “ بادشاہ سلامت نے شہزادے کی تمام باتیں غور سے سنیں اورپو چھا” کیاتم نے جنگل میں کیڑے مکوڑوں کی آوازیں ، پتوں کی سر سراہٹ اور چیونٹیوں کے چلنے کی آوازیں بھی نوٹ کیں“شہزادے نے موٴدب انداز میں سر جھکایااور بولا ” بادشاہ سلامت میں نے یہ سب آوازیں سننے اور نوٹ کرنے کی کوشش کی لیکن میں ایسا نہیں کر پایا “ بادشا ہ سلامت نے شہزادے کو دوبارہ جنگل میں جانے اور ان سب آوازوں کو دوبارہ سننے اور نوٹ کر نے کا حکم دیا ۔
اگلے روز شہزادہ پھر اسی جنگل میں موجود تھا ، تھکا دینے والے سفر کی وجہ سے وہ سخت پریشان تھا ، اسے سخت بھوک لگی تھی اور نیند نے اسے گھیرلیا تھا ، اس نے سامان نیچے پھینکااور ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، اس کی آنکھ کھلی تو وہ سوچنے لگا کہ بادشاہ نے اسے دوبارہ جنگل میں کیوں بھیجا اور اسے چیونٹیوں کے چلنے اور پتوں کے گرنے کی آوازیں نوٹ کرنے کا کیوں حکم دیا کیونکہ نہ پتوں کے گرنے کی آواز کو نوٹ کیا جا سکتا ہے اور نہ چیونٹیوں کے چلنے کی آواز سنی جا سکتی ہے ۔
اس نے اراد ہ کیا کہ اس بار وہ ضرور یہ آوازیں سنے اور نوٹ کر کے جائے گا ۔ وہ اٹھا اور یہ سب آوازیں سننے اور نوٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا ،اس نے تین دن کچھ نہیں کھایااور تین دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ چیونٹیوں کی آوازیں سن سکے ، اس نے کان لگا کر سنا کہ چیونٹیوں کے چلنے کی آواز کیسی ہوتی ہے، اس نے پتوں کے گرنے کی آواز بھی نوٹ کر لی۔ ایک ہفتے بعد وہ پھر بادشاہ کے دربار میں کھڑا تھا ، بادشاہ نے وہی سوال دہرا یا تو شہزادے نے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز ، چیونٹیوں کے چلنے کی آوازیں اور کیڑے مکوڑوں کی آوازیں سب سنا دیں ، بادشاہ بہت خوش ہوا اور بولا ” میرے بیٹے پہلی بار تم نے جو باتیں اور آوازیں سنیں وہ آوازیں تو سب سن سکتے ہیں لیکن دوسری بار تم نے جو آوازیں سنیں انہیں صر ف کوئی کوئی ہی سن سکتا ہے اور میں تمہیں یہی آوازیں سنوانا چاہتا تھا ، کیونکہ کل تم جب بادشاہ بن جاوٴ گے تو تمہیں عوام کی نہ سنائی دینے والی باتیں بھی سننی ہوں گی ،نہ بیان کیا جانے والا دکھ درد بھی محسوس کرنا ہو گا اور نہ سنائی دینے والی آوازیں بھی سننی ہوگی، تب تک تم کامیاب حکمران نہیں بن سکتے جب تک تم اپنی رعایا کی نہ سنائی دینے والی آوازیں بھی سن لو اور نہ محسوس کیئے جانے والے دکھ درد بھی محسوس کر لو۔
اب تم یہ سب باتیں ، سب آوازیں سننے کے قابل ہو چکے ہو تو مجھے امید ہے کہ تم اپنی رعایاکو خوش رکھو گے۔ یہی وہ نکتہ تھا جومیں تمہیں سمجھانا چاہتا تھااور یہی وہ راز ہے جو تمہیں ایک کامیاب حکمران بنا دے گا “ شہزادہ اپنی جگہ سے اٹھا اوربادشاہ کی قدم بوسی کے بعد ولی عہد کا تاج پہن لیا ۔
نواز شریف ہو ں ، عمران خان یا بلاول آ پ لکھ لیں یہ لوگ ہماری قسمت بدل سکتے اور نہ بیس کروڑ عوام کے آنسوپونچھ سکتے ہیں کیونکہ عوام کے آنسوپو چھنے کے لیے عوام بننا پڑتا ہے اور یہ لوگ ماضی میں کبھی عوام بنے اور نہ آئندہ کبھی عوام بن سکیں گے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com