ظالم بھیڑیئے !

جمعہ جولائی    |    محمد عرفان ندیم

ایک بار اس سے پوچھا گیا "آ پ اپنے ملازمین سے اتنی شفقت سےکیوں پیش آتے ہیں،آخر اس کی وجہ کیاہے؟اس کے جسم پر سرد مہری کی ایک لہر چھا گئی ،اس نے سر نیچے جھکایا، اس کے ہونٹ کانپنے لگےاور اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، وہ کچھ دیرخاموش رہا اور بولا:"اس کی وجہ میرا بچپن ہے،میں بچپن میں اپنے گاوں میں رہتا تھا ،میراگاؤں بہت خوب صورت تھا، ہر طرف سبزہ اور شادابی تھی، میں گاؤں میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اورزندگی ہنسی خوشی سے گزر رہی تھی۔
میں صبح سویرے اٹھتا، دوستوں کے ساتھ مل کر اسکول جاتا لیکن ایک روز ایک اچانک حادثے نے میرے چہرے سے خوشی کے تمام آثار چھین لیے، میری مسکراہٹ کافور ہو گئ، اسکول جانا بھی چھوٹ گیااور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں گھومنا پھرنا بھی ختم ہو گیا۔

(خبر جاری ہے)

اب میرا سب کچھ لُٹ چکا تھا۔ میرا باپ اس وقت فوت ہوا جب میری عمر صرف 12 سال تھی۔ باپ کا سایۂ شفقت میرے سر سے اٹھ چکا تھا۔ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔

اب ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی میرے کندھوں پر آپڑی تھی۔ میری ماں گھریلو کام کے ساتھ باہر گاؤں میں بھی محنت مزدوری کرنے لگی۔ یہ دیکھ کر مجھ سے برداشت نہ ہو سکا کہ میں اسکول میں پڑھتا رہوں اور میری ماں باہر کھیتوں میں کام کرتی پھرے۔
میرا تعلیمی سلسلہ رک گیا تھا اور میں ایک کوئلے کی کان میں کام کرنے لگا۔ میری عمر زیادہ نہیں تھی، اس وجہ سے زیادہ مزدوری بھی نہ ملتی ، حالانکہ کام بہت کرنا پڑتا تھا۔
مجبوری کی وجہ سے میں وہاں کام کرتا رہا۔ اگر مجھے کوئی ڈانٹتا تو میں خاموش ہو جاتا۔ یہاں سے جو اجرت ملتی، اس سے گھر کا بمشکل گزارہ ہو تا تھا۔ میں پائی پائی جمع کرتا رہا کہ اسٹاک ہوم جا کر کوئی میکنیکل کام سیکھ سکوں۔ نوسال کی مسلسل اور لگاتار محنت مزدوری سے اب اتنی رقم جمع ہو چکی تھی کہ میں اسٹاک ہوم جا سکتا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ گھریلو ذمہ داریوں میں میرا ہاتھ بٹا سکتے تھے۔
میں نے گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اتار کر چھوٹے بھائیوں کے حوالے کیا اور اسٹاک ہوم چلا آیا۔ یہاں آ کر کئی دن ملازمت ڈھونڈنے میں لگ گئے۔ مختلف کمپنیوں کے دَر کھٹکھٹائے، بیسیوں کمپنیوں کی خاک چھانی، آخر ایک کمپنی میں نوکری مل گئی۔ اس میں معمولی تنخواہ تھی۔ میرے پاس ہنر تو تھا نہیں۔ میری مثال ایک کورے کاغذ کی سی تھی۔ یہاں جاب مل جانا میرے لیے غنیمت تھا۔ دن گزرنے کے ساتھ کام سیکھتا گیا۔
اس کے بعد میری تنخواہ بھی بڑھ گئی۔ یہاں بھی کوئی برا بھلا کہتا تو خاموش رہتا۔ میری کوشش یہ ہوتی تھی کہ جس سے مجھے سیکھنے کے لیے کچھ مل سکتا ہے، اس کے مزاج اور رویے کی پراوہ کیے بغیر اس سے استفادہ کرلوں۔ میری اس عادت سے بہت سارے ملازمین میرے دوست بن گئے۔ وہ مجھے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ مختلف چیزیں سکھاتے۔ یہاں سے میری ملازمین سے دوستی ہو گئی۔ میں جس کمپنی میں جاب کرتا تھاوہ ٹیلی گراف کے آلات بناتی تھی۔
اس میں رہتے ہوئے میرے پاس اب اتنا ہنر آ چکا تھا کہ واپس جا کر اپنا بزنس چلا سکتا سکوں، لیکن میں نے واپس جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور اسٹاک ہوم میں ہی ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاب کی بنیاد رکھی۔ میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھاکہ اس کے لیے جگہ خرید سکوں۔ میرے پاس صرف چند ایک اوزار اور ایک 12 سالہ لڑکامزدور تھا جو ٹیلی فون کے آلات وغیرہ کی مرمت کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ میرا کاروبار بڑھنے لگا۔
جو بھی گاہک میرے پاس آتا، میں اس کا کام پوری دیانت داری سے کرتا،اس طرح کسٹمرز مجھ سے بہت خوش تھے۔ کاروبار کی ترقی کے ساتھ کام بھی بڑھتاگیا۔ اب ہم دو آدمی ناکافی تھے۔ ملازمین کی ضرورت پڑی تو میں نےملازمین رکھ لیے۔ میں ان کی ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ کوئی ملازم مجھے چھوڑ کر نہ جاتا، بلکہ دلجمعی اور دیانتداری کے ساتھ کام کرتا۔ میں اپنی کامیابی کا راز ملازمین کو سمجھتا ہوں۔
آپ کا رویہ اور برتاؤ اپنے ملازمین کے ساتھ جتنا اچھا ہو گا، یہ آپ کا کام بھی اتنے اچھے طریقے سے سر انجام دیں گے۔ میں نے کبھی اپنے ملازمین کو حقیر نہیں سمجھا اور میں آج بھی ان کی قدر کرتا ہوں، انہیں کمپنی کی جان سمجھتا ہوں۔اچھے ملازمین کے بغیر دنیا کی کوئی کمپنی ترقی نہیں کر سکتی، بلکہ کمپنی کا وجود ہی ملازمین کے دم قدم سے ہوتا ہے۔میں جب ملازم تھا تو میرے باس اور منیجرز کا رویہ سنگدلانہ ہوتا تھا،۔
مجھے اس کا بارہا تجربہ ہوا۔ کسی ملازم سے غلطی ہو جاتی تو اسے فورا نکال دیاجاتا، یہ سب دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا تھا اور میرا دل بہت کڑھتا تھا،تب سے میں نے ارادہ کیا کہ اگر خدا نے مجھے کو ئی کمپنی بنانے کا موقعہ دیا تو میں اپنے ملازمین کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز برداشت نہیں کروں گا ،یہی وجہ ہے کہ آج میں اپنے ملازمین کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آتا ہوں ۔میں نے جب اپنا کام شروع کیا تو میری ایک چھوٹی سی ورکشاپ تھی ، اپنے ملازمین کے ساتھ اچھے تعلقات اور بہترین رویے کی وجہ سے ٹھیک 6 سال کے بعد یہ Ericsson کمپنی کی شکل اختیار کر گئ اور آج اس کی پروڈکٹس دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔
اس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہےاور اس کی سالانہ آمدن 230 ارب ڈالر ہے۔"
پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی " جاب سکیورٹی" ہے ، ادارے کے مالکان کسی بھی وجہ سے بغیر پیشگی نوٹس کے کسی بھی وقت کسی بھی ملازم کو فارغ کر دیتے ہیں ،ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جس بندے کو وہ نکال رہے ہیں وہ اپنے گھر کا واحد سہارا ہے ، اس کی معمولی سی تنخواہ سے اس کی والدہ کی دوا بھی آتا ہے ، چھوٹے بچوں کے لیے دودھ بھی لیا جاتا ہے ، بجلی اور گیس کے بل بھی ادا کیے جاتے ہیں اور مہینے بھر کا راشن بھی اسی معمولی تنخواہ سے خریدا جاتا ہے ۔
پرائیویٹ اداروں کے مالکان کے اس رویے کی وجہ سے میں نے پہلے بھی لکھا تھا یہ وہ خونخوار بھیڑیے ہیں جو اپنے ملازم کی دس سالہ خدمات کو بھول کر اس کی معمولی سی غلطی کی وجہ سے اسے فارغ کر دیتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ سرکاری نوکری خواہ وہ چپڑاسی ،خاکروب اور نائب قاصد کی ہی کیوں نہ ہو اسے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں جاب سکیورٹی ، پنشن اور تنخواہ میں سالانہ اضافے جیسے فوائد مل رہے ہوتے ہیں ۔
آپ پرائیویٹ ادارے میں ساری زندگی کھپا دیں آپ کی تنخواہ جہاں سے شروع ہوئی تھی ساری زندگی وہیں رہے گی اور جس دن آپ بیمار ہو کر ہسپتا ل پہنچ گئے یا آپ کی وفات ہو گئی آپ کی کمپنی نیا بندہ ہائر کرلے گی اور بس۔ میں نے عرصہ پہلے اس موضوع پر ایک کالم لکھا تھا ،لاہور سے ایک قاری نے ایک فیکٹری کے بارے میں کچھ معلومات مجھ سے شیئر کیں کہ کس طرح ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے،یورپی یونین کی طرف سے مزدوروں کے حقوق کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی اور یہاں کے مقامی انسپکٹر اس کی انسپکشن کرتے ہیں لیکن اول تو انسپکٹر انتظامیہ کے ساتھ مل کر اپنا حصہ ہڑپ کر لیتے ہیں اور اگر کبھی باہر کا کوئی نمائندہ وزٹ کرنے آ جائے تو ملازمین کے ترلے منت کر کے سب اوکے کی رپورٹ لکھوا دی جاتی ہے ۔
مجھے اگرکبھی کسی پرائیویٹ ادارے میں جانے کا اتفاق ہو تو ملازمین سے سوالات کرتا رہتا ہوں اور مجھے آج تک کوئی ایسا ادارہ نہیں ملا جس کے ملازمین اس سے خوش ہوں ، اکثر اداروں میں ملازمین کو 15 تاریخ سے پہلے تنخواہیں نہیں دی جاتی ، یہ وجہ نہیں کہ کمپنی کے اکاونٹس میں پیسے نہیں بلکہ جان بوجھ کر ایسا کیا جاتا ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں جس قوم کےپیغمبر کی یہ تعلیمات ہوں کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردو اور جس مذہب کی تعلیمات میں ہاتھ سے کمانے والے کو اللہ کا دوست کہا گیا ہو اور اس قوم کے سرمایہ دار اور اداروں کے مالکان اپنے ملازمین کی تنخواہیں دبا کر ان کے چولہے بجھادیں اور ان کی بوڑھی ماں کی دوا اور چھوٹے بچے کا دودھ چھین کر ہاتھوں میں تسبیحات پکڑ پیشانیوں پر محرابیں سجا لیں تو ان سے بڑا ظالم اور منافق اور کون ہو سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com