ایک شیخ رشید کوتونہیں پکڑسکے

پیر اکتوبر    |    محمد ثقلین رضا

”یار شیخ رشید تو چھلاوہ بن گیا“ ۔ ”لگتاہے کہ شیخ رشید جنتر منتر جانتا ہے ، ہمیں تو موٹرسائیکل پرجاتا دکھائی دیامگر پولیس اور حکومت کی آنکھیں ضرور اندھی ہوگئیں “ ۔ ”جمعہ کے روز راولپنڈی میں ہونیوالا میچ تو شیخ رشید جیت گیا،حکومت چچیرے اور پولیس ناکام ہوگئی“۔ ”ایک رشید سب پر بھاری، لگتا ہے کہ اب شیخ رشید شریف حکومت کے چچیروں کو ناکوں چنے چبوائے گا“
ارے صاحب یہ فرامین ہمارے نہیں، بلکہ گزشتہ روز کی آنکھ مچولی کے بعدان لبوں سے نکلے جنہیں ہم عام آدمی کہہ سکتے ہیں۔
اب بعض لوگوں کو شکایت ہوگی کہ عام کی نہیں خواص کی بات کریں،لیجئے اگر خواص کو ہی مثال بنانا ہے تو بھلا کس کی مثال دیں نہ تو خواجہ سعد میں اتنا دم خم ہے کہ وہ مثال بن سکے ،نہ پرویز رشید اتنی ہمت رکھتا ہے کہ اس کی کوئی پیروی کرسکے، رہا عابد شیر علی تواس کے پلے ہے ہی کیا، راناثنا اللہ کے بارے بات کرنابھی فضول ، بقول بھولا جس کے منہ سے کبھی خیر کی بات ہی نہ نکلے اسے بھلا کیوں زیربحث لایاجائے ۔

(خبر جاری ہے)

اب مل ملا کے رہ گئے شریف برادران․․․․․ بھولے کے مطابق ایسے لوگوں کاکیاذکر خیر کرنا کہ جن کے نام سے ساتھ بڑے حروف میں لکھا ہوا ہو، ”کرپشن“
فرض کریں کہ محلے کے کسی نہایت ہی ی ی ی ی شریف آدمی کی دختر نیک اختر کے گھر کوئی رشتہ لیکر آئے ، اب رشتہ لیکر آنیوالا تھوڑا کم شریف ہو، اسے نہایت ہی ی ی ی ی ی شریف آدمی کی طرف سے انکار کا سامنا کرناپڑے اب ذرا کم شریف آدمی کے پاس دو راستے ہیں کہ وہ چپ چاپ چلاجائے یاپھر احتجاج کرے۔
اس محلے کے کم شریف نوجوان نے دوسرا راستہ اپنا یا۔ لیکن یہ احتجاج نہ توڑپھوڑ والا تھا اور نہ ہی کسی سے ٹانگ اڑائی، بس آتے جاتے کو بتاتا کہ یہ شخص جو ہے ناں، بہت ہی کرپٹ آدمی ہے، اوپر کی کمائی سے حج کیا ہے اوراب بال بچوں کوپال رہا ہے“
ذرا تصور کیجئے اس نہایت ہی ی ی ی ی ی شریف آدمی کی عزت خاک رہ جائیگی۔(یہ محض ایک مثال ہے اسے کسی صورت کسی سیاسی جماعت سے مشابہ نہ سمجھاجائے)
صاحبو!بات بھول بھلیوں کی طرف نکل گئی، اصل کہانی اوراصل موضوع تو شیخ رشید ہی تھے،دوران احتجاج جب شیخ رشیدموٹرسائیکل کی سواری کامزہ لیتے ہوئے کمیٹی چوک پہنچے تو انہوں نے فورا ہی للکارا ”نواز شریف میں آگیا، روک سکتے ہوتو روک لو“ شیخ صاحب نے خطاب کیا اورپھر موٹرسائیکل منگوائی اور اڑن چھو، یعنی نہ تو انہیں پولیس پکڑسکی نہ ہی شریف حکومت کے ہتھے آسکے۔
البتہ کیمروں کی آنکھ ان کا پیچھا کرتی رہی اور ہماراخیال یہ ہے کہ گذشتہ رو ز کی سب سے زیادہ دیکھی جانیوالی ویڈیو وہی ہے جس میں شیخ رشید موٹرسائیکل سوار کے پیچھے بیٹھے گلیوں سے گزرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کرہاتھ ہلانے کے علاوہ سبھی کو کمیٹی چوک پہنچنے کیلئے اشارے کررہے تھے ۔ باعث حیرت امر یہ تھا کہ ہم نے ہرکسی کے منہ سے ایک ہی نعرہ سنا” گو․․․․․ گو“ پتہ نہیں راولپنڈی کی وہ کونسی گلیاں ہیں جہاں ”ہک واری فیر․․․․․․․․․“ کا نعرہ لگتا ہے۔

شیخ رشید کی آنکھ مچولی پر جہاں عام آدمی کے تبصرے قابل ذکر تھے وہاں سیاسی دانشور بھی پیچھے نہ رہے، ایک صاحب فرمانے لگے ”یہ ہوتی ہے سیاسی تربیت “ اگر عمران خان بھی طالبعلمی کے زمانے سے کسی طلبہ تنظیم سے منسلک ہوتے تو آج وہ بنی گالہ سے نکل کر راولپنڈی پہنچ جاتے ،دوسرا بولا ”عمران خان پہنچ سکتے تھے لیکن وہ دو نومبر سے پہلے اپنی انرجی ضائع نہیں کرنا چاہتے“ خیر کہتے ہیں کہ جتنے منہ اتنی ہی باتیں ،بلکہ بھولاتو اکثر کہتاہے کہ سیاسی دانشوروں کا منہ سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کی قیمت ادا کی جاتی ہے اور یہ قیمت انہی لفظوں کیلئے ہی اداکی جاتی ہے۔
بہرحال اصل ،سچے اورسُچے لفظ تو صر ف عام آدمی کے منہ سے نکلتے ہیں، اخلاقیات اگر اجازت دیتی تو ضرور لکھ دیتے کہ جمعہ کے روز کی آنکھ مچولی نے شیخ رشید کو تو ہیرو بناہی دیا ہے البتہ حکمرانوں کے حوالے عام آدمی جو کہتا ہے وہ․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․
چھوڑئیے میاں جی کی سنتے ہیں ،فرماتے ہیں کہ 2018 میں بھی ہماری ہی حکومت ہوگی ،شاید انہیں زعم ہے کہ ان کی کارکردگی اچھی ہے یا پھربقول ان کے ان کی ٹیم نہایت ہی تجربہ کار ہے اور اسے صورتحال سنبھالنے میں وقت ہی نہیں لگتا( ان کایہ فرمان 2013 کے انتخابات میں کامیابی سے قبل تھا اس وقت انہیں دعویٰ تھا کہ وہ صورتحال سنبھالنے میں وقت نہیں لیں گے)یا پھرانہیں یہ مان ہوکہ وہ جس قسم کی سیاست کے بانی ہیں اس پر انہیں بھرپور عبور حاصل ہوچکا ہے مگر بعض سیاسی دانشوروں کاخیال ہے کہ میاں جی نے حالات سے سبق نہیں سیکھا لیکن اگر حالات نے سبق سکھادیاتوپھر․․․․․․ پھر پھر کی کہانی کو چھوڑئیے ہمارے ذہن میں ابھی تک پرویز الہٰی کے وہ لفظ گونج رہے ہیں موصوف نے جنرل پرویز مشرف کے متعلق فرمایاتھا کہ وہ 2015تک وردی کادفاع کریں گے اور پرویزمشرف کو اس وقت تک وردی اتارنے نہیں دینگے لیکن بعد میں ہوا کیا؟؟؟چھوڑئیے کہ یہ مثال تو ایک ”آمر“ کی تھی لیکن فادر آف ڈیموکریسی یعنی بھٹو کے ایک مشہور جملے کو ہی لے لیں،موصوف فرمایاکرتے تھے کہ ”میری کرسی بہت مضبوط ہے “ مگر کیاہوا ؟؟؟ یقینا نوازشریف کو بھی ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے کہ کرسی کسی کی نہیں ہوتی بلکہ اس پر بیٹھاہوا آدمی ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتاہے اور جسے سب سے پہلے کرسی سے گرایاجاتا ہے وہ وہی شخص ہوتاہے جو اس کرسی پرموجودہو
شیخ رشیدکی کامیاب آنکھ مچولی اور نوازشریف کے مان سمان کے دعوؤں کی حقیقت توپتہ نہیں کیا رنگ لاتی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ”حکومت کا سرا وکھلی “ میں ضرور آگیا ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com