بھارت نواز علیحدگی پسند

اتوار ستمبر    |    محمد ثقلین رضا

خان آف قلات بلوچ رہنما میرسلیمان داؤد احمدزئی نے ایک بھارتی اخبار کو انٹرویود یتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر بلوچستان کی آزادی کیلئے اسرائیل سے بھی مدد لینا پڑی تو گریز نہیں کرینگے“انہوں نے بلوچستان کے حوالے بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریر پر شکریہ بھی اداکرتے ہوئے کہاکہ آنیوالی بلوچ نسلیں ان کا یہ احسان یاد رکھیں گے ان کا مزید فرما ن ہے کہ بھارت اس معاملے میں اقوام متحدہ میں ہماری آواز بلندکرے“
یہ دوسرے بلوچ رہنما کا فرمان ہے قبل ازیں براہمداخ بگتی بھی ایسے ہی الفاظ میں بھارتی وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرچکے ہیں کہ ان کی وجہ سے دنیا میں بلوچستان میں جاری مظالم بے نقاب ہوئے۔
براہمداخ بگتی کے حوالے سے بتادیں کہ یہ علیحدگی پسند بلوچ رہنما کافی عرصہ سے بیرون ممالک رہائش پذیر ہے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے اسے بھارتی حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی ملتی ہے ۔

(خبر جاری ہے)


تیسرا کردار بھی ابھی چند ہی دن قبل بے نقاب ہوچکا ہے‘ ایم کیو ایم کے بانی ورہنما الطاف حسین نے بھی دہائی دیتے ہوئے انڈیا سے اس معاملے میں مدد طلب کی تھی بلکہ چیخ وپکار کے دوران انہوں نے اقوام متحدہ کو کراچی میں مہاجروں پر(بقول ان کے ) جاری مظالم کا نوٹس لینے کامطالبہ کیا‘ بعدمیں معافی تلافی کی کوششیں ہوتی رہیں پھر اچانک الطاف حسین کی کئی ایک آڈیوٹیپس بھی سامنے آئی جس میں وہ بھارتی ہندوؤں سے معذرت کرتے پائے گئے ‘پھر کئی رہنماؤں کی طرف سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے پر انہیں لعن طعن بھی کی
ان تینوں کرداروں کو سامنے رکھئے موخرالذکر دو کردار تو خیر کافی عرصہ سے بھارت نوازی کے حوالے سے کافی شہرت کے حامل ہیں‘ بلکہ باایں ہمہ یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہے کہ انہیں اپنے نظریات کو پھیلانے اور لوگوں میں پاکستان کے بارے نفرت کا بیج بونے کیلئے را سمیت پاکستان دشمن قوتوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔


تسلیم کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ‘ تاہم اس معاملے میں کسی بھی حکومتی ادارے یاکسی بھی حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایاجاسکتا‘ بلوچستان کی اس محرومی کی سب سے بڑی وجہ وہاں پر رائج سسٹم اور اس سسٹم پر مسلط وڈیرے ہی ہیں‘ خاص طورپر وہاں آباد قبائل کے سرخیلوں کاذکر ضروری ہے‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بعض سرداروں نے خو د تو حکومتوں سے فائدہ بھی اٹھایا اور پھر بلیک میل کرکے ذاتی مفادات تو حاصل کرتے رہے مگر عام بلوچ شہری تک سہولیات نہ پہنچ پائیں۔
کسی ایک سردارکی نشاندہی نہیں کی جاسکتی اس معاملے میں الا ماشا اللہ سبھی نے حصہ بقدر جسہ حاصل کیا ۔ ماضی میں بھارت اور اس کے حامیوں نے سادہ لوح بلوچ شہریوں کو بھٹکانے اوربھڑکانے کی کوشش کی مگر یہ اثرات بہت کم محسوس ہوتے رہے تاہم نواب اکبر بگتی کے قتل کے بعد یہ سلسلہ تیز تر ہوتا دکھائی دیتاہے علیحدگی پسندانہ سوچ کے حامل افراد نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوان ہوتی نسل کو باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستانی حکومت اورافواج ان کی دشمن ہیں جس کانتیجہ ہے کہ آج اس نظریات کے حامی لوگوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔

بھارت مشرقی پاکستان علیحدگی میں اپنے کردار سے منکر نہیں اور وہ یہ بھی مانتاہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو اس کی حمایت حاصل ہے۔ چند ہی دن قبل بھارتی سرکار نے انڈین ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر بلوچی سروس شرو ع کرنے کی اجازت دیدی۔ یہ رویہ صرف بھارت سرکارکا نہیں بلکہ میڈیا بھی جلتی پرتیل کاخوب کام کررہاہے ۔ابھی چند ہی دن قبل ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک انڈین چینلز کی اینکر پرسن سے لیکر تجزیہ نگاروں تک سبھی شاداں نظرآئے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کے ثبوت ملنے کے بعد جب بھارت سرکار نے بلوچستان میں مداخلت کی اور بلوچ عوام پر مظالم اور محرومیوں کاقصہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے تو پاکستان کیوں چیخ رہا ہے“ ایک بیچارے پاکستانی تجزیہ نگار نے ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر جہاں اینکرہی جانبدار ہو وہاں بھلا کون ان کی سنتا۔
یہی سلوک بھارتی پرنٹ میڈیا کا بھی ہے اخبارات میں بلو چ عوام کی محرومیوں کے قصے عام ہیں‘ اب تو الطاف حسین نے ان اخبارات اور چینلز کو کراچی کی مہاجر کمیونٹی کی محرومیوں کاخود ساختہ قصہ بھی سنا دیا ہے۔ گو کہ بلوچستان ور کراچی کے عوام نے مودی سرکار کی خوش فہمیوں کو دورکرنے کیلئے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگادئیے مگر ایک بات بہرحال طے ہے کہ بھارتی سرکار کی دونوں پاکستانی صوبوں میں مداخلت کوئی آج کی بات نہیں بلکہ یہ برسوں پرانا قصہ ہے ‘ بھارتیہ سرکار نے تو جنوبی پنجاب کے سرائیکی عوام (رحیم یار خان سے لیکر ڈیرہ غازی خان تک کی پھیلی پسماندگی اور محرومی دنیا کے سامنے واضح ہے) کی محرومیوں کو کیش کرانے کی کوشش کی اس ضمن میں بعض لسانیت پسندوں کو بھارت بلاکر نوازاگیا مگر یہ قصہ بھی تمام ہوچکا ہے۔

صاحبو! بلوچستان کے ضمن میں ایک اوربات بھی عرض کریں گے کہ اس صوبہ میں جہاں بھارت نواز قوتیں دندناتی پھرتی رہیں وہاں ایک اوربرادراسلامی ملک کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے‘ گویا دونوں ملکوں کی ایجنسیز اور ان کے ہمنواؤں کا کھیل جاری ہے اوراس کھیل سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے غیر سنجیدہ اقدامات بھی سامنے ہیں گو کہ حکومتی سطح پر ان محرومیوں کے ازالہ کے ضمن میں بلند وبانگ دعوے جاری ہیں ‘اخبارات سے لیکر الیکٹرانک میڈیا ‘سوشل میڈیا تک یہی راگنی جاری ہے کہ بلوچ عوام کی محرومیوں کاازالہ کیاجارہا ہے مگر حقائق کچھ اورہی کہتے نظرآرہے ہیں۔
البتہ افواج پاکستان کے کردار کو نہ سراہنا بھی زیادتی ہوگی‘چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستان آرمی نے جہاں امن کیلئے کردار ادا کیا وہاں تعمیر وترقی کے ضمن میں اقدامات جاری ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے کس حد تک سنجیدہ کرداراداکرتی ہے۔ تاہم بعض حلقوں کے مطابق الطاف حسین کی بھارت نوازی اور پاکستان دشمنی کھل کرسامنے آنے کے باوجود حکمران جماعت کے چیختے چلاتے وزرا کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے ( یہ وزرا مخالفین کی معمولی سے بات پر بھی بلبلاتے ‘چیختے چلاتے نظرآتے ہیں مگر الطاف حسین کی ملک دشمنی واضح ہونے کے باوجود یہ صاحبان خاموش ہیں)
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

بھارت


متعلقہ کالم