کالاباغ ڈیم

جمعرات فروری    |    محمد ثقلین رضا

کالاباغ ڈیم کئی عشروں سے سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھنے والا وہ عظیم منصوبہ ہے جس کی عظمت کو جانچے پرکھے بغیر سیاسی فتوی بازوں نے اس کی تعمیر کو ملکی سلامتی کیلئے نقصا ن دہ قرار دیا ہے۔ عوامی سطح پر اس منصوبے کے حوالے سے کیارائے موجود ہے عوا م کس قدر خواہشمندہیں اس منصوبے کے طفیل ان کی ضروریات کو کس قدر پورا کیا جا سکتاہییہ آج تک کسی نے جانچنے پرکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی؟ اس منصوبے کے حوالے سے گو کہ پاکستان کی تین صوبائی اسمبلیاں قراردادیں منظورکرچکی ہیں لیکن زمینی حقائق یہ کہتے ہیں کہ اسمبلیوں کی قراردادیں منظورہونابھی سیاسی سنٹنٹ کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے منصوبہ جات ہمیشہ ملکی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیئے جاتے ہیں دوسرے ممالک کی مثال اس لئے بھی دینا نہیں چاہتے کہ وہاں ظرف صبر برداشت کا معیار کچھ مختلف انداز میں موجود ہے تاہم بھارت کو ہی لے لیجئے کہ قیام پاکستان کے بعد اس نے کئی طرز کے ڈیموں کی تکمیل کی ہے ہم روتے پیٹتے رہ جاتے ہیں کہ بھارت پاکستانی زمینوں کوبنجر کرناچاہتا ہے اور پاکستان کی طر ف آنیوالے دریاں پر مسلسل کئی طرح کے ڈیم بناکر وہ پاکستان میں قحط کا ساسماں پیداکرناچاہتاہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس چیخ وپکار کے سواکچھ کیا بھی ہے یانہیں؟
دوسری جانب واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملکی ترقی کیلئے نہایت ہی ضروری ہے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہارخیال کے دوران سابق چیئرمین واپڈا کا کہناتھا کہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں صرف اے این پی ہی اس منصوبے کی مخالفت کررہی ہے جبکہ گزشتہ عام انتخابات میں اسے مجموعی طورپر صرف پانچ لاکھ افراد نے ووٹ دئیے گویا اسی سے پچاسی فیصد لوگوں نے اس پر اعتماد ہی نہیں کیا ان کاکہناتھا کہ محض پانچ لاکھ افراد کی حمایت والی جماعت نے لاکھوں لوگوں کے دل کی آواز کو نہ سنا ان کا کہناتھا کہ پانی کے ذریعے پیداہونیوالی بجلی کی لاگت ایک روپے سے زائد ہوتی ہے جبکہ تھرمل یا دیگرذرائع سے حاصل ہونیوالی بجلی سولہ سترہ روپے فی یونٹ خرچ آتا ہے ان کا ایک ہی سوال تھا کہ اب تک کالاباغ ڈیم نہ بننے سے خیبرپختونخواہ کو کیا فائدہ حاصل ہوا ؟انہوں نے نقصان فائدے کو ایک پلڑے میں تولنے کے بعد کہا کہ اس ڈیم کی بدولت پورا پاکستان فائدے میں رہیگا جبکہ نقصان کی شرح بیحدمعمولی ہوگی۔

(خبر جاری ہے)


کچھ عرصہ قبل سابق وزیر احمدمختیار نے فرمایاتھا کہ غیر ملکی قوتیں کالاباغ ڈیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں پتہ نہیں انہوں نے یہ بیان جاری کرتے ہوئے کس جانب اشارہ کیاتھا ؟؟ آج سے محض چند ماہ قبل ہی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی کہ کالاباغ ڈیم سمیت دیگرڈیموں کی تعمیر رکوانے کیلئے بھارت دو ار ب روپے خرچ کررہاہے جس پر ایوان مچھلی منڈ ی بن گئے دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے اوپر تنقید قرار دیاتھامگر آج گزرے وقت کے ساتھ یہ بات سچ ثابت ہوچکی ہے خاص طورپر ایم کیو ایم کے حوالے سے یہ بات سامنے لائی جاچکی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ایم کیو ایم کو اہم پاکستانی منصوبہ جات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے پیسے دیتی رہی ہے۔
اس ضمن میں عرض کرناضروری ہے کہ جب سابقہ دور میں قومی اسمبلی میں یہ آواز اٹھی تو اس وقت سب سے زیادہ چیخ وپکار ایم کیو ایم کی طرف سے تھی یا پھر یہ آواز خیبر پختونخواہ کی جماعت اے این پی نے بھی بلند کی ۔فی الوقت اے این پی پرایسے کسی الزام کے ضمن میں کچھ ثابت نہیں ہوسکا البتہ ایم کیو ایم تاحال الزامات کی زد میں ہے۔ ہم نے کچھ عرصہ قبل بھی عرض کیاتھا کہ ایسے منصوبہ جات جن کا براہ راست قومی مفاد سے تعلق ہوتاہے ایسے منصوبہ جات پر خدارا کوئی سیاست نہ کی جائے اورنہ ہی ایسے منصوبہ جات کو ذاتی نفع نقصان کے پلڑے میں تولاجائے بلکہ ان کے بارے میں بحیثیت پاکستانی ہی سوچااور پرکھا جاناچاہئے ۔
مزید کچھ عرض کرنے سے قبل دو خبریں بھی قارئین کی توجہ کیلئے پیش کریں گے نیپرا کے مطابق پاکستان اس وقت تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتاہے جبکہ اس وقت پیدوار صرف پندرہہزار میگاواٹ سے زائد ہے (تادم تحریر کہاجارہاہے کہ اب یہ سترہ ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچنے کو ہے) جس میں سے چالیس فیصد بجلی لائن لاسز چوری کی نذر ہوجاتی ہے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کام چونکہ بغیر حساب کتاب کے ہورہاہے اس لئے کوئی چیک اینڈبیلنس بھی نہیں ہے جبکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور تقسیم کارکمپنیوں میں خریدوفروخت کا معاہدہ بھی نہیں ہے ۔
دوسری خبر گوکہ معمول کی کہانی ہی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ چار پیسے اضافہ کیاجاتا ہے تواس چار پیسے کو ایک یونٹ کے پلڑے میں نہیں تولناچاہئے بلکہ ہزاروں لاکھوں یونٹ کے پلڑے میں دیکھاجائے تویہ رقم کروڑوں تک جاپہنچتی ہے یقینا یہ رقم اگر عوام کی جیبوں میں رہے اورانہیں لوڈشیڈنگ جیسے عذاب سے بھی نجات مل جائے ان کے روزگار پر برقی عذاب نازل نہ ہو توانائی کے بحران کے حل ہونے پر انہیں روزگار میسرآجائے دیہاڑی دار طبقہ کے چولہے پھر سے گرم ہوجائیں تو یقینا یہ نفع معمولی نقصان سے کہیں زیادہ ہے ۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ماہرین آب کے مطابق آنیوالے دنوں میں پانی پر ہی جنگیں لڑی جائیں گی بات کس حد سچ ہے یا ا س میں جھوٹ کی کوئی ملاوٹ شامل ہے ہم اس بحث میں پڑے بغیر اتنا عرض کریں گے کہ پاکستان پانی کاقلت کاشکار نہیں ہوسکتا کہ اگر وسائل کو باقاعدہ پلاننگ کے مطابق استعمال کیاجائے یہ بھی حقیقت ہے کہ موسم برسات میں جس قدر سیلابی اور پہاڑوں سے آنیوالا پانی اگر جمع(سٹور)کیاجائے تو یہ سال بھر کیلئے پاکستانی ضروریات کیلئے کافی ہوگا نہ صرف بلکہ اس پانی کی بدولت توانائی کے بحران پر بھی قابو پایاجاسکتاہے۔
جیسا کہ نیپرارپورٹ میں کہاگیا ہے کہ چونکہ پلاننگ کا فقدان ہے اس لئے وسائل استعمال نہیں کئے جارہے اگر توانا ئی کے بحران پرقابو پانا ہے تو اول پلاننگ پر توجہ دیناہوگی دوئم کسی بھی منصوبے کو سیاسی مفاد کے پلڑے میں تولنے سے گریز کرناہوگا سوئم ڈیم چاہے کا لاہویاسفیدعلاقائیت لسانیت کی بنیادوں پر ان منصوبوں کی تخصیص ختم کرناہوگی چہارم صرف کالاباغ ‘بھاشا ڈیم ہی نہیں بلکہ مستقبل کے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کئی چھوٹے بڑے ڈیم بناناہونگے اور اس ضمن میں جہاں جہاں ممکن ہو یہ منصوبے شروع کئے جائیں
پنجم یہ کہ ان منصوبہ جات کے ضمن میں ایک حکومت کی مخالفت سامنے رکھ کر دوسری حکومت ختم کرنے کی کوشش نہ کرے ۔اگر ان اقدامات کو یقینی بنالیاجائے توپاکستان توانائی کے عذاب سے نجات حاصل کرلے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com