کارکنوں کی تربیت ضروری ہوگئی ہے

جمعہ مئی    |    محمد ثقلین رضا

زمانہ طالبعلمی میں ایک طلبہ تنظیم سے وابستگی رہی‘ ملک کے طول وعرض میں جہاں کہیں بھی کنونشن ہوتا تو شرکت کرناپڑتی تھی۔ اس مختلف قسم کے کنونشز کے دوران ایک بات بہت ہی زور دیکر سکھائی پڑھائی جاتی تھی کہ کس انداز میں ڈسپلن قائم رکھنا ہے‘ اپنی جماعت کے پروگراموں میں آپ کس قسم کارویہ اختیارکریں گے اور کسی دوسری جماعت کے پروگرام میں آپ کارویہ کیاہوناچاہئے؟ سکول‘ کالجز کی سرگرمیوں میں آپ کیسے شامل ہونگے یا آپ کا رویہ کیاہوناچاہئے؟ گویا وہ تنظیم ایک پوری درسگاہ کادرجہ رکھتی تھی۔
اس دورمیں سیاست میں پیسے کا عمل دخل ابھی شروع نہیں ہوا تھا نہ ہی سیاست میں خریدوفروخت ہوتی تھی‘ کارکنوں کو تو نہ تو مفادات سے غرض ہوتی اورنہ ہی انہوں نے کبھی تنظیم کی آڑ میں ٹھیکیداری سے لیکر دیگر مفادات کی سوچ کبھی ذہن میں رکھی ہوئی تھی۔

(خبر جاری ہے)


وہ دور گزرگیا ‘جنرل ضیا الحق کے بعد پاکستانی سیاست عجیب وغریب بل کھاتی ہوئی اس نہج سے آغاز کرتی ہے کہ سیاست میں کئی طرح کی تبدیلیاں رونماہوئیں‘ ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کیلئے چھانگامانگا کی پہاڑیاں سجائی گئیں تو مری کے ریسٹ ہاؤس بھی ان ”پارلیمانی گھوڑوں“ کے سج گئے جہاں ان بیچے اورخریدے گئے گھوڑوں کو ”محفوظ“رکھاگیا۔

گو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سیاست پورے عروج پرتھی‘ تحریک نظام مصطفی کے دوران بھی سیاسی ہنگامہ خیزی رہی مگر جو عجب انداز 90 ء کی دہائی شروع ہوتا دکھائی دیا وہ بذات خود افسوسناک رہا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکن تو ایک طرف رہے جب براہ راست قائدین ہی الٹی سیدھی اور شرم وحیا سے عاری بیان بازی کرتے رہے‘ اسی دور میں مسلم لیگی میڈیا سیل بینظیر بھٹو‘ نصرت بھٹو کی قابل اعتراضات تصاویر کنگھال لایاتو جواب میں پیپلزپارٹی بھی پیچھے نہ رہی۔
ظاہر ہے کہ جب قائدین خود بھی اس قسم کی مغلظات میں مبتلاہونگے تو پھر کارکنوں کو دوش دینا درست نہیں ہوتا۔یہ سلسلہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے تک جاری رہا تاہم ہرآمر کی طرح پرویز مشرف کے جاتے ہی سیاست نے نئی انگڑائی لی اور پھر ن لیگ اور پیپلزپارٹی جو ”راکھی بند ھ بہن بھائی “ بن چکے تھے انہیں تحریک انصاف کی صورت ایک بڑے چیلنج کاسامناکرناپڑا۔بعض شاہدین کے مطابق پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان ”ایک تمہارا ایک ہمارا اقتدار “ کے حوالے سے معاہدہ ہواتھا ۔
اس معاہدہ کی روشنی میں پی پی اپنا حصہ وصول کرچکی اور اب مسلم لیگ کو حصہ وصولتے ہوئے تین سال گزر چکے ہیں۔ ان آٹھ سالوں کے دوران پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی طرف سے ایک دوسرے پر رکیک حملے نہیں کئے گئے (جو نوے کی سیاست کے دوران دونوں کاخاصہ رہا ) تاہم مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی قیادتوں نے بھی اس کی ضرورت محسوس نہ کی اور نہ ہی کارکنوں کے سدھار کا کوئی سوچاگیا‘ لازمی بات ہے کہ جب ایک لیڈر سٹیج پر کھڑے ہوکر مخالفین کیلئے اخلاقیات سے گرے ہوئے جملے استعمال کریگا تو پھر کارکنوں کے انداز میں بھی وہی ”لطافت “ ہوگی۔
اسے آپ ستم ظریفی سے منتج کرسکتے ہیں کہ اس دور میں کئی طرح کا میڈیا جنم لے چکا ہے الیکٹرانک کی بہار کے دوران ہی سوشل میڈیا نے نہ صرف جنم لیا بلکہ پاؤں پاؤں چلنے کی بجائے دوڑتا دکھائی دیتاہے ۔ اس میڈیا پر چیک اینڈبیلنس کا فقدان ہونے کے باعث ”آزادی اظہار رائے“ کے نام پر جس قسم کی غلاظتیں بکھیری گئیں ان کااثر نہ صرف عام جلسوں میں نظرآیا بلکہ لیڈران کرام کے رویئے بھی اسکا واضح ثبوت ہیں۔
پچھلے دنوں ایک معروف ٹی وی اینکر انکشاف فرمارہے تھے کہ مریم نواز ناشتے کی ٹیبل پر خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ تجزیہ کرتی پائی جاتی ہیں کہ رات کو کس مسلم لیگی کارکن‘ رہنما نے مخالفین کی ”ایسی تیسی “ کی اورپھر اس حوالے سے ان رہنماؤں کیلئے ”نمبر“ تجویز کرتی ہیں۔ پھر اسی حساب سے مسلم لیگی لیڈران کو ”نیا “ٹاسک دیاجاتاہے۔ یعنی جو مخالفین کیلئے غلیظ ترین القابات استعمال کرے گا اسے اتنا ہی ”پروٹوکول “ ملے گا۔
مشہور زمانہ دھرنے کے دوران جب مسلم لیگی ریلی سے خطاب کے دوران ”طلال چوہدری“ فحش اشارہ بازی کے ذریعے عمران خان کو نشانہ بنارہے تھے تو اسی وقت اندازہ ہوگیاتھا کہ طلال چوہدری آنیوالے وقتوں میں مسلم لیگ کا بڑا لیڈر ہوگا اورپھر ہوا بھی وہی کہ آج موصوف بڑے بڑے پروگراموں میں مسلم لیگ کے ترجمان بن کر سامنے آتے ہیں۔یہی حالت تحریک انصاف کے چھوٹے موٹے لیڈران ‘کارکنان سے لیکر مرکزی قیادت تک کی ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا بڑی واضح اورحقیقی تصویرپیش کررہا ہے۔
صاحبو! سوال محض اتنا ہے کہ کیا ہم اخلاقی طورپر اس قدر گراوٹ کا شکارہوچکے ہیں کہ مخالفین پر تنقید کیلئے ہم اندر کی غلاظت کو باہر لانے سے گریز نہیں کرتے ۔ سیاست ایک کھیل ہے دوسرے ممالک میں اس کھیل کومخصوص چالوں کے ذریعے ہی کھیلاجاتاہے اور وقت پڑنے پر اپنے مہرے استعمال کئے جاتے ہیں مگر ہمارے جیسی سیاست کسی ملک میں نظرتک نہیں آتی ۔
نوے کے عشرے سے لیکرمابعد جس قدر سیاسی شدت پسندانہ روئیے سامنے آئے وہ بذات خود افسوسناک ہیں۔ رویوں کی اسی شدت پسند ی کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنان کسی بھی جگہ اکٹھے بیٹھ نہیں سکتے۔ لیڈران کی لگائی ہوئی آگ اور غیر سیاسی روئیے کی بدولت آج دونوں سیاسی جماعتوں کی سیاسی لڑائی اب ذاتیات پر مبنی جنگ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس امرکا ادراک دونوں جماعتوں کے لیڈران کو شاید نہ ہو کہ آنیوالے سالوں میں اس سیاسی کلچر کے مضمرات کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔
اگرمسلم لیگ اور پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کارکنوں کی تربیت کا اہتمام کریں تو سیاسی کلچر میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے مگر ایک سیاسی دانشور کاخیال ہے کہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف بھگوڑوں پر مبنی جماعتیں اوران کی مثال ”کہیں کی اینٹ کہیں کاروڑہ ‘بھان متی نے کنبہ جوڑا“ جیسی ہے۔ ایسی اینٹ پتھر سے بنائی گئی جماعتوں کایہی حال ہوتاہے۔ دوسری اورآخری بات کہ سیاسی کارکنوں کی تربیت کے حوالے سے یقینا جماعت اسلامی کی مثال دی جاسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر کارکنوں کی تربیت اورنظم وضبط کے حوالے سے اس کی مثال ہی کافی ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com