قائد ہم شرمندہ ہیں

پیر اگست    |    محمد ثقلین رضا

یقینا آج یوم آزادی ہے لیکن ان کیلئے جو ابھی معصوم جذبوں کے مالک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس ملک سے بہت کچھ پایا‘ بہت کھایا اور دونوں ہاتھوں سے نوچا ‘ وہ لوگ تو خوش دکھائی نہیں دے رہے۔ نجانے کیوں ہمیں باربار احسا س ہورہا ہے کہ ہم نے خود اپنے لئے منز ل کاتعین نہیں کیا اورستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ کوئی ہمارے لئے راہبر بھی نہیں ‘ جو راہبر تھے وہ دنیا سے چلے گئے یاجن کے ذمہ راہبری ہونا تھی وہ بیچارے بہت پیچھے دھکیل دئیے گئے اورجنہیں جیلوں میں یا کال کوٹھڑیوں میں ہوناچاہئے تھاو ہ ہمارے سروں کے تاج بن بیٹھے ہیں۔

قوم کو 69واں جشن آزادی منانے کی تیاریاں کررہی ہے ہمارے سامنے معصوم بچے ہاتھوں میں ہرا جھنڈا اٹھائے پاکستان زندہ باد کے نعرے بلندکرتے گزرگئے اچانک بجلی کی بندش نے یاد دلادیاکہ خوشی کا موقع ہو یا کوئی کٹھن گھڑی بجلی تو بند ضرور ہوگی اوریہ اس بات کا الارم ہے کہ ہم آزاد قوم ہیں جو مرضی آئے کرتے رہیں۔

(خبر جاری ہے)

ابھی بجلی جانے کا سوگ ہی منارہے تھے کہ بے حد بھدی خوفناک آوازیں کانوں کوپھاڑنے لگیں پتہ چلا کہ نوجوان جشن آزادی منانے کیلئے سڑکوں پر آزادی کے گھوم ر ہے ہیں۔

آگے بڑھے دیکھا دکانیں عمارتیں جھنڈیوں سے سجی ہیں گھروں پر بھی پرچم لہلہلاتے یاد دلارہے ہیں کہ جشن آزادی قریب ہے لیکن حضورحقیقت کو کھلی آنکھ سے دیکھا جائے تو ہم آزاد کہاں؟نہ تو ہماری معیشت آزاد ‘نہ روح کو آزادی نصیب ‘رہے جسم تو وہ بھی غیروں کے پابند‘ کہ ہر پیداہونیوالا پاکستانی بچہ مقروض ہوتاہے ۔گویا ہمارے جسم بھی غلام ہوگئے ۔ سوچتے رہے بہت سوچتے رہے آنکھیں بھرآئیں جھونپڑیوں پر بھی نظر پڑی کچے پکے مکان نظر سے گزرے اورپھر جب اعلی ایوانوں اور بڑے بڑے محلات پر نظر پڑی توعجب سی تفریق واضح طورپر دکھائی دی ۔
سوچ رہے ہیں کہ آزاد قوم کونسی ہے وہ جو جھونپڑیوں میں بستی ہے کچے نیم پکے مکانوں میں بسیراکئے ہوئے یا پھر وہ قوم آزاد ہے جو اعلی ایوانوں میں قیمتی فانوسوں کے نیچے ٹھنڈے یخ کمرے میں بیٹھی ہے اورجسے نہ تو لوڈشیڈنگ کی فکر ہے نہ مہنگائی بیروزگاری بدامنی کاخطرہ۔سوچئے گا ضرور ۔۔۔
اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ ہم بحیثیت قوم بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے رہے جس کی وجہ سے آج باصلاحیت‘ ذہین ہونے کے باوجود قوموں کی فہرست میں بہت پیچھے نظرآتے ہیں‘ کہنے کو شرح تعلیم کی کمی کو موردالزام ٹھہرایاجاتا ہے لیکن حقائق کی دنیا کہتی ہے کہ دراصل حکمرانوں کے طرزعمل نے ہمیں مسلسل ”غلامی “ کی طرف مائل رکھ کر ہمارے ذہنوں کو ”آکٹوپس“ کی طرح جکڑرکھا ہے اور ہم کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھوتے جارہے ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ ایک انگریز چلاگیا لیکن کالے انگریزوں نے ہمارے جسموں کو نہیں ہمارے ذہنوں کو غلام بنارکھا ہے۔ ہم ذہنی غلامی کے بعد سونے اورجاگنے کی کیفیت کا شکار ہیں جب جاگنے کی باری آتی ہے تو سوجاتے ہیں اور سونے کی باری پر ہم جاگ جاتے ہیں اس عجیب وغریب کیفیت کی وجہ سے ہم قوموں کی فہرست میں بھیڑ سے زیادہ حیثیت نہیں پاسکے
آگے چلئے قربانیوں کی جب کبھی بھی بات چلے گی تو ہمیشہ دیواروں پر سجا ایک ہی جملہ سامنے آئیگا قوم ہی ہردور میں قربان ہوتی رہی‘ کبھی کسی حاکم نے بھی قربانی دینے کاسوچا۔
آزادی کاجشن مناتے ہوئے نجانے کیوں کانوں میں وہ جملے بھی گونجتے رہے ‘کبھی تو وزیراعظم نے کہا اورکبھی صدربول پڑے” ملکی معیشت خطرے سے دوچار ہے ‘ قوم قربانی دے“ لیکن یہ بھی تودیکھئے مشکلات اور مسائل کے باوجود قوم نے نہ تو حکمرانوں کو شرمندہ ہونے دیا اورنہ ہی ملک کو مایوس کیا‘ قوم مایوس ہوئی سو ہوئی لیکن ملک کی آن بان کیلئے ہرلحظہ قربانی دیتی رہی۔ لیکن سودوزیاں کا جب کبھی بھی حساب کیا جائے تو قوم کے حساب میں زیاں ہی زیاں رہا کبھی اسے خوشیاں‘ مسرتیں حاصل نہ ہوسکیں۔
نجانے کیوں حقوق وفرائض کی بات کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ان معصوم اورمسلسل پستے ہوئے لوگوں نے فرائض تو اداکردئیے کبھی انکے حقوق کی بھی فکر کی جائے ۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ جس میں اپنے پیٹ سے آگے کچھ سوچنے سمجھنے کی توفیق نہ ہو وہ دوسروں کیلئے کیا سوچے گا۔ اس دھرتی کامقدر بھی عجب رہا کہ اسے کوئی حقیقی رہبر ورہنما میسر نہیں آسکا وہ جو قائد عظیم تھا وہ ابتدا میں ہی چلا گیا اورجن کے دلوں میں غیرت ایمانی ابھی زندہ تھی وہ بھی پیچھے دھکیل دئیے گئے اور ایسے لوگ چن چن کر مسلط کئے جاتے رہے جن کا نہ تو پاکستان سے اورنہ ہی عوام سے دور دور کا واسطہ رہا۔
ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی مسلط کئے گئے جن کی اپنی کوئی سوچ ‘فکر نہ تھی ۔آج پاکستان جن مسائل اورمشکلات سے دوچار ہے اس کی وجہ بھی محض یہی ہے کہ یہاں عوام کی مرضی کاکوئی حاکم نہیں آسکا۔ کہاجائیگا کہ یہاں تو قائد عوام بھی آئے اور جمہوریت کے شہدا بھی ‘ لیکن حضور کوئی ایسا حاکم تو بتائیے جو ماوزے تنگ کی طرح قربانیوں کاسلسلہ گھر سے شروع کرتا ‘جو چلاتو کروڑوں لوگ پیچھے تھے اورجب منزل پر پہنچاتو چند لاکھ لوگ باقی رہ گئے۔
کوئی تو ایساحاکم ہوتا جو پہلے خود قربانی دیتا ۔ جواب آئیگاکہ کچھ لوگ تو محض پاکستان اورعوام کیلئے پھانسی کی بھینٹ چڑھ گئے یا انہیں سربازار گولی مار دی گئی۔ لیکن حضور وہ نہ توعوام کیلئے مرے اورنہ ہی پاکستان کیلئے ان کی قربانی تھی۔ اقتدار کی بات تھی اوراقتدار کیلئے سب کچھ قربان ہوا۔
قوم تو حقیقی معنوں میں قربان ہوتی رہی کبھی ”قرض اتار وملک سنوارو کے نام پر“ اور کبھی ”عالمی بنکوں کے شکنجے سے نجات کے نام پر “اورآج ایک بار مختلف ناموں اور کاموں سے پھر لوٹاجارہاہے‘ کبھی تو توانائی بحران کے نام پر مسلسل بجلی کے نرخ بڑھاکر اورکبھی ڈوبتی ملکی معیشت کی بحالی کیلئے مہنگائی کاتحفہ دیکرخدارا ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر یہ تو بتائیے کہ اس قوم نے ان پینسٹھ سالوں میں حاصل کیابھی ہے یا ہمیشہ قربانیاں ہی اس کامقدر بنی رہی ہیں۔
یقینا یہ حساب تو وہ کرے جس کے اپنے پلے قربانیاں کے قصے ہوں لیکن آج تو ”انگلی کٹا کے شہیدوں میں “ نام لکھوانے بے شمار ہوگئے لیکن جن کے آبا ء قربان ہوئے جن کے بچوں نے قربانیاں دیں‘ جن کی مائیں بہنیں قربان ہوگئیں وہ یا ان کے خاندان کے لوگ آج انتہائی پسماندگی اورپستی کی زندگی گزاررہے ہیں ‘ کیوں؟ محض اس لئے ان کا قصور محض اتنا ہی تھاکہ انہوں نے اپنا سب کچھ اس دھرتی کیلئے تج دیا‘ اپناآپ بیچ کر انہوں نے دھرتی کو پروان چڑھانے کی خواہش کی۔
ہاں ہم آزاد تو ہیں محض اس معاملے میں کہ ہم قانون شکنی کرسکیں‘ قانون ‘آئین کو ربڑسٹمپ کے طورپر استعمال کرنے میں ہمیں ید طولیٰ حاصل ہے‘ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے آئین کے ساتھ وہ حشر کیا کہ وہ دنیا خود اس پر حیران ہے‘ ہر دوسال بعد ا س میں ہونیوالی تبدیلیاں بذات خود ہمارے رویوں کی عکاس ہیں۔ وہ جو انگریز مفکر نے کہا تھا کہ میں کسی بھی مملکت کی ترقی ‘کامیابی کو ہمیشہ عوام کے طرز زندگی سے جانچتاہوں اورمیرے نزدیک وہی حاکم ‘حکومت کامیاب ہوتے ہیں جن کے دور میں رعایا خوش اورخوشحال ہو ‘ یقینا اگر سود وزیاں کا حساب کیاجائے تو موجودہ حاکمین اورماضی کے حکمرانوں کے ہاتھ سوائے مایوسی اورناامیدی کے کچھ نہیں آئیگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com