شہادت حسین بہت کچھ سکھاتی ہے

بدھ اکتوبر    |    محمد ثقلین رضا

حضرت امام حسین  کی شہادت کو آج کم وبیش چودہ صدیاں بیت چکی ہیں مگر غم بالکل اسی طرح ہی تازہ دکھائی دیتا ہے جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد تھا۔ بلکہ ایک دانشور کے مطابق جونہی امام حسین کانام لبوں پر آتا ہے تو دوافعال انجام پاتے ہیں ایک دل ادب سے جھک جاتا ہے، آنکھوں سے برسات کی جھڑی شروع ہوجاتی ہے۔ اسے امام حسین سے عقیدت کہتے ہیں تاہم اگر اسے دوسری نظر سے دیکھاجائے کہ آج بھی دنیا کے کسی بھی مظلوم انسان سے پوچھ لیں کہ اس کی طاقت کیا ہے؟یقینا اس کاجواب ہوگا”حسین“ ۔
امام حسین  نے طاقتو ر کے ظلم کو اپنی صبرورضااوراستقامت سے اس انداز میں شکست دی کہ آج تک ظلم کرنیوالوں کیلئے مقام عبرت ہے۔ تاریخ کے چہرے پرلکھے جملے آج بھی فکر کے طالب ہیں کہ دو افراد یا گروہوں کی جنگ میں عموماً شکست کھانے والا یا قتل ہوجانے والے لشکر کانام ونشان تک باقی نہیں رہتا مگر کربل کے میدان میں تاریخ کو بالکل ہی الٹ کررکھ دیا کہ ظاہراً شہیدہونیوالوں کانام آج بھی عقیدت واحترام سے لیاجاتا ہے لیکن ظاہری فتح پانیوالے ، فتح پر ناز کرنیوالوں کو پوچھتا تک کوئی نہیں بلکہ ان کے ذکر بھی ابتر سمجھاجاتا ہے۔

(خبر جاری ہے)


آج سے کم وبیش چودہ سو سال قبل جب واقعہ کربلا رونما ہوا، یقینا آسمان اورزمین بلکتے روتے رہے ہونگے ، فضاکانیلگوں رنگ سرخی مائل رہاہوگا کہ سلطان کائنات ﷺکے عزیز ترین نواسے کو اپنے رفقا سمیت شہید کیاگیا پھرنواسہ بھی جس کا رتبہ نبی مکرمﷺ نے اپنے ان الفاظ سے بیان فرمادیا”الحسین منی وانا من الحسین“یعنی ذات نبیﷺ اورذات حسین میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں دونوں لازم وملزم ہیں بلکہ یوں کہاجائے کہ ایک مصطفیﷺ ہے تو دوسرا جان مصطفی، ایک حسین ہے تو دوسرا حسین ہے۔
ایک نبیوں کا امام ہے تو دوسرا دنیا بھر کے شہیدوں کا امام۔
اب اگر فلسفہ شہادت امام حسین پر غور کیاجائے تو سوچنے کیلئے کئی درکھلتے چلے جاتے ہیں، تاریخ خود بخود دعوت فکر دیتی نظرآتی ہے، سب سے بڑا درس یا تاریخ عالم پر احسان ہے کہ حسین نے مظلوم کو جینے کاسلیقہ سکھایا،حق کیلئے ڈٹ جانے کادرس دیا، صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ ہرمذہب کے لوگوں کیلئے حق کی خاطر ڈٹ جانے کاایک ایسا درس جو صرف زبان سے نہیں نکلا بلکہ میدان کربلا میں عملی شکل لیکر سامنے آیا۔

دوسری بات کہ امام عالی مقام نے قیامت تک وجود میں آنیوالی نسلوں یہ درس بھی دیا کہ کسی بھی مشکل میں صبرورضاکادامن ہاتھ سے جانے نہ دو، یوں بھی ”ان اللہ مع الصابرین “کادرس خود خداوندقدوس کا ہے لیکن عملی تفسیر جس انداز میں امام حسین نے پیش کی اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔
شہادت امام حسین کویاد رکھتے ہوئے دوباتوں پر غورکرنے کی ضرورت ہے ۔عام انسان اور انبیا ‘ رسل کے خوابو ں میں اتنا ہی فرق ہوتاہے جتنا کہ عام آدمی اورانبیا اوررسل کی زندگیوں میں ہوتاہے۔
اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ انبیا ‘ رسل اللہ کے چنیدہ بندے ہوتے ہیں انہیں عام انسانوں میں تصورنہیں کیاجاناچاہئے وہ توخالق کائنات نے ہماری کم علمی ‘ نالائقی کو پیش نظررکھ کرانہیں عام انسان کے روپ میں زمین پربھیج دیا تاکہ ہم ان کی عادات واطوار کو ملاحظہ کرکے اپنی اصلاح کرسکیں۔ہم انہیں دیکھ کرکھانے پینے ‘ پہننے ‘چلنے پھرنے اورکاروبارزندگی چلانے کاڈھنگ سیکھ سکیں ۔ ورنہ انہیں نہ توکسی چیزکی پرواہ ہوتی ہے اورنہ وہ پرواہ کرتے ہیں کہ انبیا ‘رسل خالق کائنات کے حکم کے ہی پابندہوتے ہیں۔
دوئم بات کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران‘ رسل نے حکم خداوندی کی پاسدار ی کی اورآنیوالی ہر آزمائش پرپورے اترے ۔ ہم نے تاریخ اسلام کا جس حد تک مطالعہ کیا یا پچھلے انبیاء کرام کی زندگی کی بابت پڑھا لیکن ہم نے کہیں ایک جگہ بھی یہ نہیں دیکھاکہ کسی نبی نے اللہ رب اللعالمین سے التجا کی کہ مولا ہم سے یہ امتحان نہ لے۔ حضرت ابراہیم  کی وہ عظیم قربانی کون بھو ل سکتا ہے کہ انہوں نے حکم خداوندی کی تعمیل میں بیٹے کو قربان کرنے کا قصدکرلیا دوسری جانب انہی کی اولاد میں سے آخر ی نبی مکرم ‘جنہیں امام الانبیا ﷺ بھی کہا جاتا ہے کو بھی اپنی زندگی میں میدان کربلا میں پیش آمدہ واقعات لمحہ لمحہ کے اعتبار سے حضرت جبرائیل  نے دکھادئیے تھے۔
آپ ﷺ چاہتے تو اللہ رب اللعالمین سے عرض کرسکتے تھے کہ مولا! میرے نواسے کواس آزمائش سے بچالے‘ لیکن انہوں نے یوں عرض کی ” مولا میرے نواسے کو اس آزمائش میں پورا اتار“ گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضورمکرمﷺ بھی جانتے تھے کہ ان کے دین پروہ وقت بھی آئے گاکہ جب اس پرملوکیت کے اثرات نمایاں ہونے لگیں گے ‘ جب جابر فاسق ‘شرابی مسلط ہونے لگیں گے توان کاخاندان پھر سے آگے بڑھ کر اپنی جان قربان کرکے اس دین متین کو ایک بارپھر حیات جاودانی عطاکریگا۔
بہرحال یہ ایک عجب داستان ہے ۔ اس شہادت کا ایک اورفلسفہ یہ بھی ہے کہ جابر فاسق حکمران کی اطاعت کی بجائے جان قربان کرنے کوترجیح دو۔ یہ فعل احسن بھی ہے اور قابل ستائش بھی‘ لیکن ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں چھوٹے بڑے گویا بے شمار یزید موجود ہیں اورہم ان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بجائے بیعت لینا زیادہ سہل سمجھتے ہیں تبھی توآج ہماری حالت یہی ہے۔ دوسری اور اہم بات کہ جب سے امت محمدیﷺ میں قربانی دینے کاجذبہ ختم ہوا ‘زوال ان کا مقدر بنتا چلاگیا۔
ہم نے مسلمانوں کے ہاتھ مسلمان شہید کراکے جنت کے وہ جھوٹے خواب تو دکھائے جنہوں نے ہمیں دنیائے عالم میں صرف رسوائی ہی دی ہے لیکن ہم کم سن بچوں کو دین متین کااصل سبق نہ سکھا سکے۔ ہم واقعات کربلا تو بیان کرتے ہیں لیکن فلسفہ شہادت امام حسین  کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ امام عالی مقام نے شہادت تک دو چیزوں کو نہیں چھوڑا‘ ایک نماز اور قرآن․․․․․․․․ ہماری حالت کیا ہے․․․․․․․․․․․․ ہم انہی دونوں چیزوں سے بھاگتے ہیں اورپھر بھی دعویٰ امت محمدی کا ہوتا ہے
حضرت امام حسین کی قربانی نے یقینا اسلام کو تابندگی عطاکی‘ اگر وہ اس وقت یزید کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو ان کی زندگی بھی بچ جاتی ‘ ان کی آل اولاد اور رفقا کو بھی ظاہری حیات نصیب ہوجاتی لیکن یہ امر دین متین کو اندھیروں میں لے ڈوبتالیکن آپ نے اپنی ‘ رفقا کی قربانی دیکر کر ان اندھیروں کودور دھکیل دیا۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری تصورکرتے ہیں کہ حضرت امام حسین کربلا کے میدان میں گئے تورضائے الہٰی کیلئے ‘ اپنے نانا کے دین کوبچانے کیلئے ‘ لیکن وہ مجبور نہ تھے‘ محکوم نہ تھے‘ جب یزیدی لشکر نے آپ اور آپ کے رفقا کیلئے پانی بند کیااورایک رفیق پانی پانی کی صدا بلندکرتے آپ سے عرض کرتے ہیں کہ یاحسین پیاس نے برا حال کردیا آپ نے پاؤں زمین پرمارا اوروہاں سے چشمہ جار ی ہوگیا فرمایا اس دنیا کاپانی پیناچاہو گے یا روز حشر اپنے عظیم نانا کے ہاتھوں حوض کوثرسے پانی پیو گے۔ یقینا وہ مجبور بھی نہ تھے اورمحروم بھی‘ وہ لاچار نہ تھے اورنہ ہی کسی کی مجال تھی کہ آپ  کو بے آسرا کرسکتا ۔ وہ جو خدا وندقدوس کا فرمان عظیم ہے کہ میں ہروقت اپنے پیاروں کے ساتھ رہتاہوں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com