تعلیم اورمرچ مصالحہ مکس

اتوار اپریل    |    محمد ثقلین رضا

خوش فہم قوم
قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد کی تو خبر نہیں مگر جب سے سن شعور سنبھالا ہے ‘ دنیا کے حالات کاجائزہ لیا مگر اتنی خوش فہم قوم آج تک نہیں دیکھی‘ دیکھئے کہ جو چیز ہماری قومی شناخت بن چکی ہو ‘اس کی بابت بھی امید رکھے ہوئے ہے کہ یہ ”باعث عبرت “ بنادی جائیگی‘ یعنی کہ خوش فہمی کی بھی کوئی حدہوتی ہے مگر اپنی قوم کا یہ تو عالم ہے کہ انتخابات میں ”کسی کو“ بھی سرپر بٹھالیتی ہے اورپھر دو سال بعد پرانے زمانے کی عورتوں کی طرح بال نوچتے ہوئے چیختی چلاتی نظرآتی ہے کہ ”ہائے ظلم ہوگیا“ پھر اونٹ کے لٹکتے ہوئے ہونٹ کی طرح منتظر رہتی ہے کہ اب گرا کہ تب۔

خیر ان دنوں میں بھی خوش فہمیاں ادھر ادھر کودتی پھلانگتی نظرآتی ہیں ‘بیس کروڑ عوام( ان میں سے اندھی عقیدت کے ماروں‘ مال متاع لیکر بک بکا جانے والوں کے علاوہ)کو امید ہے کہ استعفیٰ اب آیا کہ تب‘ مگر قوم یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ پچھلے ساٹھ اڑسٹھ سالوں میں کسی بھی ایسے استعفیٰ کا نمونہ پیش نہیں کیاگیا جس کا تعلق ”ضمیر “ یا ”قومی غیرت “ سے ہو‘ ظاہر ہے کہ جب ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تو پھر حکمرانوں کو خواہ مخواہ کیوں مجبور کیاجائے کہ وہ انہونی کو ہونی کردیں پھر حکمران بھی ایسے کہ جنہیں ”بیچنے ‘خریدنے “ کاہنرخوب آتا ہو‘ جو سیاست میں صنعت اورصنعت میں سیاست کی ملاوٹ بھی کرلیتے ہیں وقت پڑنے پر سیاست میں صنعت کاری اورصنعت کاری میں وقت پڑنے پر سیاست کو گھسیٹ لاتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

اب دیکھئے کہ معاملہ صنعت کاری کا تھا (یعنی اتنا مال متاع کہاں سے آیا کہ بیرون ممالک فیکٹریاں قطار اندر قطار بچے ہی جنم دیتی جارہی ہیں) لیکن درمیان سیاست گھسیٹ لی گئی‘ چاہئے تو یہ تھا کہ جو ”مطعون“ٹھہرائے جارہے ہیں وہ بولتے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ”چھاج کیا بولے‘ بولے چھاننی“
خوشی فہمی کی ایک اورمثال بھی لے لیجئے آرمی چیف نے بارہ تیرہ افسر ‘جوان برطرف کردئیے ‘ خوش فہمی کا شکار ہوچکی کہ شاید اس ”قومی غیرت “ کے نمونہ کو دیکھ کر ہی ”بڑا استعفیٰ“ آجائے ۔
مگر صاحبان خاطر جمع رکھئے کہ ابھی ”ضمیر “ میٹھی لسی پی کر سورہا ہے اوربیچارے کو جگانے کی کوشش مت کیجئے کہیں کچی نیند کا جاگا ہوا ”ضمیر“ رولا شولا نہ ڈال دے۔
نظریات سے کھلواڑ
قیام پاکستان سے لیکرآج سے کچھ ہی عرصہ قبل ہمیں دو قومی نظریہ اتنے تواتر سے پڑھایا سمجھایااور سکھایاگیا کہ ہر بچہ برصغیر پاک وہند کی تقسیم کی بنیادی وجوہات سے آگاہ ہوگیا‘ ہمیں اقبال ‘قائد اعظم سمیت دیگر بانیان پاکستان کی بابت خوب خبر ہے‘ اسلام کی بنیاد کیا ہے؟ اسلام کے بنیادی ارکان میں کیا کیا شامل ہیں؟ایک اچھے مسلمان کو کیسا ہوناچاہئے؟ یہ سارے امور میٹرک تک کے نصاب میں پڑھ لیاکرتے تھے‘ مگر عجب کہانی ہے کہ حکمرانوں نے سارا معاملہ الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا اول تو یہ چیزیں نصاب میں ملتی ہی نہیں اگر کہیں ملتی بھی ہیں تو اپنی ہیئت کے سراسر خلاف۔
آگے چلئے ‘کبھی اس قوم کو اسلام کے نام پر عجیب وغریب متنجن کھلایاجاتاہے آج کل اسے ”لبرل ازم“ کی گھٹی دینے کی کوشش کی جارہی ہے‘ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ جو لوگ ماضی میں اپنے قدسے زیادہ بڑھ چڑھ کر اوراچھل کود کرکے اسلام کانام نامی استعمال کرکے اقتدار میں آتے رہے اب انہوں نے بوتل کے ساتھ ساتھ اس کا لیبل بھی تبدیل کردیا۔ ہوسکتاہے کہ یہ زمانہ جدید کی ضرور ت بھی ہو اور سیاسی مجبوری بھی ‘مگر بندہ جب اپنا ”ڈی این اے“ ہی تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہو تو پھر حیرت ہی نہیں پریشانی بھی لاحق ضرور ہوتی ہے
تعلیم برائے فروخت
یوں تو قیام پاکستان کے مابعد تعلیم سے آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے مگر جس قدر حیران کن مذاق موجودہ دور میں ہورہا ہے وہ اپنی جگہ الگ مثال کے مترادف ہے‘ تعلیمی اداروں کی نجکاری ‘پھرکئی دوسری ڈرامہ بازی بھی بالکل بندر کی پھرتیوں جیسی مثال پیش کررہی ہیں یعنی ”آوت جاوت ہے مگر عمل کچھ نہیں“
اب دیکھئے پنجاب کے سکولوں پر ”پیف “ کو مسلط کردیا گیا پہلے پہل یہ کرم فرما ادارہ نجی سکولوں کی سرپرستی کرتا رہا مفت کتابیں‘ نہ فیس نہ باقی لوازمات ‘ مگر ہوا یہ کہ ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“ کے مصداق آج تک کسی پیف کے گود لئے گئے ادارہ کو سکھ سلامت کے ساتھ نہیں دیکھا ۔
پھلتے پھولتے نامی گرامی اداروں نے جونہی پیف کی چھتری تلے پناہ لی ‘ یہ ادارہ ”آکٹوپس “ کی طرح یوں چمٹا کہ بیچارہ پھلتا پھولتا درخت بھی سوکھ گیا۔ یہ کوئی طنز یا تنقید نہیں حقیقت ہے بلکہ اب تو مثال بن کر سامنے آچکی ہے کہ جس بھی تعلیمی ادارے پر ”پیف“ کا بورڈ لگادو والدین فوراًمنہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہتے ہیں”بکا ہوا ادارہ“
دیکھئے کہ اب صوبائی حکمرانوں نے میرٹ کے نام پر میرٹ کی یوں ٹانگیں توڑیں کہ بیچارہ چلنے پھرنے تو کجا بیٹھے کے قابل بھی نہیں رہا ۔
صوبہ بھر کے ہزاروں سکولوں کو نتائج‘ بچوں کی تعداد کے نام پر اس ادارہ کے سپرد کردیاگیا ‘ ان سکولوں میں تعینات لاکھوں اساتذہ کو محکمہ میں ہی ایڈجسٹ کرنے کی خوشخبری بھی سنائی گئی ہے ‘باقی رہ گئیں عمارات تو ان میں کم تنخواہ پر نیا سٹاف بھرتی کرلیاگیا جو سرکاری عمارات میں تعلیم تعلم کاسلسلہ شروع کریگا ‘ ویسے کتنی حیرت کی بات ہے کہ جن سرکاری عمارات میں سرکاری سکول قائم تھے ‘ وہاں تو بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ‘کیا پیف کے تنخواہ داروں کے پاس اللہ دین کا چراغ ہے کہ جسے رگڑتے ہی وہ عمارات سے بھرجائیں گی۔
پھر یہ کہ موجودہ تعلیمی نتائج کا ہی جائزہ لے لیاجائے کہ پیف کی زیرنگرانی کام کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے نتائج کیا رہے؟ دور جانے کی ضرورت ہی نہیں 2016کے پرائمری‘ مڈل کے نتائج ہی پیف سے بہت سی توقعات وابستہ کرنیوالوں کی ساری قلعی کھل جائیگی۔ یعنی بچوں کو صرف کتابیں دینے یافیس معاف کرنے سے کچھ نہیں ہوگابلکہ بہترین تعلیم سے ہی ادارے بنتے ہیں۔
خیر عجب مذاق ہے کہ پیف کی گود میں ڈالے گئے ہزاروں تعلیمی اداروں سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ”معیارتعلیم ‘’‘ بنائیں گے‘”مفت تعلیم “ کے نام پر بچوں کے والدین کے سرسے مہنگائی کا بوجھ کم ہوجائیگا اور ایک بہترین تعلیم یافتہ قوم سامنے آئے گی۔
مگر ایک دانشور کا قول بھی یاد رکھئے کہ قرض لینے والی ساری قومیں اپنا آپ گروی رکھ دیتی ہیں مگر تعلیم کے معاملے میں کبھی کمپرومائز نہیں کرتیں سوائے ہمارے۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے تعلیم کو ہی گروی رکھناپسند کرتے ہیں۔ قومی غیرت اور ”ضمیر“ تو ہمارے ہاں سے پہلے کے ہی رخصت ہوچکے

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

تعلیم


متعلقہ کالم