گوادر، چاہ بہار اور افغان کہانی!

پیر مئی    |    انجینئر عثمان حیدر

اس کہانی کا باقاعدہ آغا ز آج سے کوئی ساڑھے چھتیس برس قبل ہوتا ہے جب 24 دسمبر 1979 بروز سوموار آج کا روس اور اس وقت کی سویت یونین نامی عالمی طاقت نے افغانستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ سویت یونین کا بنیادی مقصدافغانستان پر کامیاب فوجی چڑھائی سے اپنے عالمی سپر پاور ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کرنا اور مستقبل میں گرم پانیوں تک براہِ راست رسائی کو یقینی بنانا تھا۔اور یہ رسائی پاکستان سے گزر کر ہی ممکن تھی۔
امریکہ کو چونکہ روس کا سپر پاور بنناکسی بھی صورت برداشت نہ تھا سو وہ بھی پاکستان اور سعودی عرب کے ذریعے اپنے انداز سے اس جنگ میں کود گیا۔پاکستان چونکہ روسی مداخلت سے خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگا تھا چنانچہ پاکستانی قیادت نے امریکی کیمپ کا انتخاب کرتے ہوئے روس کے خلاف ”طالبان مجاہدین“ کے ذریعے افغانستان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

(خبر جاری ہے)

یوں امریکہ،سعودی عرب، پاکستان اور افغان مجاہدین یا طالبان پر مشتمل یہ زنجیر آخر کار 15 فروری 1989 کو نو سال ایک مہینہ تین ہفتے اور ایک دن جاری رہنے والی اس طویل جنگ میں روس کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب رہی۔

یہاں سے کہانی میں ایک نہیں بلکہ کئی نئے موڑ آتے ہیں جس میں امریکی بے اعتنائی، قبائلی خلفشار، افغانستان میں اقتدار کی جنگ اور پھر 1996 میں افغان طالبان کا اقتدار شامل ہیں۔ طالبان کے اقتدار کے بعد کہانی کچھ دیر کیلئے ردھم میں آتی ہے تو القاعدہ کا مسئلہ درمیان میں آ ٹپکتا ہے۔ اور معاملہ نائن الیون کے خون آشام قصے میں تبدیل ہو جاتا ہے، امریکہ کسی بپھرے ریچھ کی مانند افغانستان پر چڑھ دوڑتا ہے اور پاکستان اپنی عافیت اس عالمی دیو ہیکل کی حمایت کرنے میں ہی محسوس کرتا ہے۔
لیکن کہانی چونکہ ابھی باقی تھی تو چند برس کے اندر ہی معاملات دوہری پالیسیوں کی طرف بڑھتے ہیں اور تقریباََ تمام فریق اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنے دوہرے پن کو تقویت دینے میں لگ جاتے ہیں۔ اس دوران بھارت افغانستان میں اپنی موجودگی کو مزید مظبوط کرنے اور پاکستان کو دونوں اطراف سے جکڑنے کی پالیسی اپناتا ہے تو امریکہ بھارت کو افغانستان میں مضبوط کر کے اپنے معاشی حریف چین پر گرفت کرنے کی پالیسی کو آگے بڑھانا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی امریکی کیمپ میں جانے کے فیصلے پر اضطراب کا شکار تھا تو دوسری طرف بھارت کا افغانستان میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور اسے حاصل امریکی حمایت نے اسے دوبارہ سے دوہری پالیسی اپنانے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان کیلئے اچھی خبر یہ تھی کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ بیک ڈور روابط مکمل ختم نہیں کیے تھے۔لہٰذا دوہری پالیسی پر عمل کرنے میں اسے کوئی خاص دقت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ خیر کہانی اسی طرح کئی موڑ کھاتی ہوئی 2 مئی 2011تک آپہنچتی ہے جب امریکی فورسز ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو دھونڈنے اور ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

یہاں سے پاک امریکہ تعلقات میں کشدیگی کے راستے کی طرف بڑھنا شروع ہوتے ہیں اور امریکی انخلاء کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ ادھر مشرقِ وسطیٰ میں شام، مصر اور یمن کی صورتحال عالمی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، امریکہ اور روس براہِ راست وہاں مداخلت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان پر امریکی توجہ مزید کم ہو جاتی ہے۔ افغان طالبان اس دوران اپنے حملوں میں شدت لا تے ہوئے اپنی کارروائیوں کو وسیع کرتے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی و فوجی قیادت کی تبدیلی سے کہانی نیا رخ اختیار کرتی ہے۔
کہانی کے اس نئے رخ میں اب کی بار علاقائی اقتصادی معاملات نہ صرف کھل کر سامنے آتے ہیں بلکہ غالب ہونا شروع ہوتے ہیں۔ کہانی کے اس نئے رخ میں امریکہ کے علاوہ علاقائی طاقتیں اپنی مداخلت بڑھاتے ہوئے اپنے اپنے معاشی اہداف کو ترجیح دینا شروع کرتی ہیں۔ چین چونکہ دنیا پر اقتصادی بنیادوں پر حکومت کا خواہاں ہے سو پاکستان سے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ باضابطہ طور پر شروع ہو جاتا ہے۔
گوادر سے چین تک کی یہ مرکزی راہداری جہاں پاکستان اور چین کیلئے مشرقِ وسطیٰ تک براہِ راست تجارت کے ذریعے معاشی انقلاب کی نوید سناتی ہے تو وہیں دوسری طرف امریکی اور بھارتی کیمپ میں سوگ کی سی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دراصل یہ اس کہانی میں اب تک کا سب سے اہم اور نیا موڑ تھا۔ کہ جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں عسکری کی بجائے اقتصادی بنیادوں پر افغانستان پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔
چینی اور پاکستانی پالیسی سازوں کو اس بات کا مکمل ادراک ہو گیا تھا کہ پاک چین اقتصادی رہداری کے مکمل فوائد اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں کہ جب گوادر کو چین کے علاوہ براستہ افغانستان وسط ایشیائی ریاستوں سے منسلک کر دیا جائے۔
اور اس مقصد کے حصول کیلئے ایک مستحکم افغانستان اور اس میں قائم ایسی حکومت ناگزیر تھی جو پاک چین مفادات کیلئے خطرہ نہ بنے۔ لیکن دوسری طرف بھارت امریکہ کی مدد سے افغانستان میں اپنے پاؤں مظبوط کر چکا تھا۔اورموجودہ افغان قیادت بھی اسی کی طرف جھکاؤ رکھتی تھی۔ یہ بات پاکستان اور چین کیلئے کافی پریشان کن تھی، کیونکہ بھارت کا افغانستان میں قیام کا مقصد جہاں پاکستان اور چین پر دباؤ قائم رکھنا تھا وہیں وہ پاکستان کی طرح وسط ایشیائی منڈیوں تک زمینی رسائی کا خواہاں تھا۔
لیکن وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل میں پاک چین اقتصادی راہداری کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا رہا۔ اپنی اسی سوچ کی بنیاد پر اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرتا رہا ۔ بلوچستان میں مداخلت سے لے کر کلبھوشن یادیو نامی بھارتی جاسوس کی گرفتاری تک سارے معاملات بھارت کی اس نیت کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں۔ یوں تو ایران بھی افغان معاملے میں علاقائی سٹیک ہولڈر ہے لیکن پاک چین اقتصادی راہداری اور ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران نے بھی اس معاملے میں اپنے کردار کو کافی وسعت دی ۔
ایران چونکہ طویل عرصہ سے بھارتی حلیف رہا ہے سو ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھارت نے پاک چین اقتصادی منصوبوں کا اقتصادی لحاظ سے توڑ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ اور اس منصوبہ بندی میں اسے ایرانی تعاون درکار تھا جو اسے با آسانی میسر آ گیا۔ ادھر افغانستان اور امریکہ فوجی انخلاء کے باعث طالبان سے مذاکرات پر آمادہ ہوئے اور اس طرح چین، امریکہ، پاکستان اور افغانستان پر مشتمل چار ملکی اتحاد نے افغان امن کیلئے مذاکراتی کاوشوں کا آغاز کیا۔
شروع شروع میں ان کاوشوں کے اچھے نتائج بھی سامنے آئے جس میں پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکرات پر راضی کیا اور انہیں مذاکرات کی میز تک بھی لے آیا۔ لیکن بھارت چونکہ اس مذاکراتی عمل کو اپنے مفادات کے خلاف گردانتا تھا لہٰذا عین وقت پر ملا عمر کی موت کی خبر لیک کر کے اس مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر کی موت کے بعد افغان طالبان کو نئے امیر کی تعیناتی میں اندرونی اختلاف نے گھیر لیا لیکن جیسے تیسے ملا اختر منصور نے نئے امیر کے طور پر مطلوبہ حمایت حاصل کر ہی لی۔
اور افغانستان میں عسکری کارروائیوں کے ذریعے افغان اور امریکی فورسز کی ناک میں دم کر کے رکھ دیا۔لیکن مذاکراتی عمل میں کئی ماہ کے تعطل کے بعد بالآخر پاکستان ایک بار پھر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لے ہی آیا۔اس دوران جن فریقوں کو اس مذاکراتی عمل سے اپنے مفادات خطرے میں محسوس ہو رہے تھے وہ بھی اپنی چال چلتے رہے۔مذاکراتی عمل ایک بار پھر سست روی کا شکار ہوا اور اس دوران امریکہ نے مذاکراتی ادوار میں اپنے وعدے کے برخلاف افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو پاک افغا ن ایران سرحد کے قریب پاکستانی حدود میں ڈرون حملے کا نشانہ بنا دیا۔

اب یہاں سے یہ کہانی ماضی بعید اور قریب سے نکل کر حال اور مستقبل میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہاں ان سوالوں کا جواب انتہائی ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر بھارت کو اس مذاکراتی عمل سے چڑ کیوں ہے؟ ایران کی بھارت سے قربت کی کیا وجوہات ہیں؟ امریکہ نے اپنے مذاکراتی وعدوں کے بر خلاف ایک نازک وقت میں طالبان سربراہ کو نشانہ کیوں بنایا؟ پاکستان اور چین افغان طالبان کیلئے نرم گوشہ کیوں رکھتے ہیں؟ پاکستان افغان طالبان کی مبینہ حمایت کیوں کر رہا ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب اگر عسکری کی بجائے معاشی تناظر میں ڈھونڈیں تو زیادہ بہتر جواب مل جاتا ہے۔
آیئے اب اوپر بیان کی گئی اس ساری کہانی کو اقتصادی امور سے منسلک کر کے اس کہانی کے مستقبل کا خاکہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب صورتِ احوال کچھ یوں ہے کہ بھارت اور ایران چاہتے ہیں کہ گوادر کی بجائے چاہ بہار کو فعال کر کے براستہ افغانستان وسط ایشیائی ریاستوں تک زمینی رسائی حاصل کر لی جائے۔اس خواہش کی تکمیل کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ افغانستان میں ایسا حکومتی سیٹ اپ موجود ہو جو ایران اور بھارت کے زیرِ اثر ہو ۔
تا کہ ایران اور بھارت بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ بھارت کی یہ شدید خواہش ہے کہ افغانستان کے اندر پاکستانی اثرات سے مکمل طور پرآزادایسی حکومت قائم ہو جو چاہ بہار کو تو راہداری مہیا کرے لیکن گوادر کیلئے کسی بھی قسم کا زمینی رابطہ قائم کرنے کی اجازت نہ دے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ افغان طالبان کو شکست سے دوچار کیا جائے یا کم از کم انہیں پاکستان سے بدزن کر دیا جائے۔ اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو افغان طالبان کو اتنا نقصان پہنچایا جائے کہ وہ اگر سیاسی عمل کا حصہ بنیں بھی تو اپنی شرائط پر نہیں بلکہ بھارت، ایران اور موجودہ افغان حکومت کی شرائط پر۔
رہی بات ایران کی تو بھارت اور امریکہ کوہمارے اس نام نہاد برادر ہمسایہ ملک ایران کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اب اگر غور کیا جائے تو بادی النظر میں ملا منصور پر امریکی حملہ افغان اور بھارتی عزائم کی تکمیل میں معاونت فراہم کرنے کیلئے ہی کیا گیا ہے۔
دوسری طرف پاکستان اور چین گوادر کو براستہ افغانستان وسط ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان میں ایسی مستحکم حکومت قائم ہو جو کم از کم ایران اور بھارت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔
لیکن بد قسمتی سے افغانستان کا موجودہ سیاسی سیٹ اپ پاکستان کی بجائے بھارت اور ایران کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کیلئے افغان طالبان کی درپردہ حمایت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ بات پاکستان بھی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اب طالبان ماضی کی طرح مکمل طور پر حاوی نہیں ہو سکتے لہٰذا اس وقت پاکستان کی ممکنہ ترجیح یہ ہے کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے طالبان کو سیاسی دھارے میں اس طرح شامل کیا جائے کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے پاکستانی مفادات کے خلاف کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔
کیونکہ مستقبل میں وسطی ایشیا تک گوادر کا انسلاک افغانستان سے پر امن راہداری کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا۔اس لیے پاکستان اور چین کو یہ بات کسی بھی صورت منظور نہیں کہ طالبان کو کمزور پوزیشن میں مذاکرات تک لا کر امریکی و بھارتی شرائط پر سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ کیونکہ اس طرح تو چاہ بہار ہی وسط ایشیاء کی منڈیوں تک واحد فعال رسائی رہ جائے گی۔لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کی نئی قیادت کیا فیصلے کرتی ہے اور پاکستان سے اس کے تعلقات کس نوعیت کے رہتے ہیں۔
اگر طالبان کمزور ہوکر سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو اس کا مطلب گوادر بھی کمزور ہو گی۔ اگر طالبان مضبوط پوزیشن کے ساتھ حصہ بنتے ہیں تو گوادر بھی مضبوط ہو گی۔ اور چاہ بہار کا معاملہ اس کے تقریباََ بر عکس ہو گا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ افغان قضیے اور ان تمام علاقائی اقتصادیات کا آخری حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
آخر میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہماری علاقائی قیادت باہمی رضامندی سے ان معاملات کو سلجھانا چاہے تو ایک راستہ مل بانٹ کر کھانے کا بھی نکل سکتا ہے۔
کیونکہ اگر نقشے اورجغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو وسط ایشیائی ریاستوں میں سے کرغیزستان، تاجکستان اورازبکستان کیلئے افغانستان سے گزر کرگوادر زیادہ موزوں راستہ رہے گا جبکہ ترکمانستان اور آذربائیجان کیلئے چاہ بہار زیادہ بہتر روٹ رہے گا۔ اور قازقستان دونوں بندرگاہوں کے ذریعے اپنی تجارت کو مشرقِ وسطی تک براہِ راست وسعت دے سکتا ہے۔لیکن اس کیلئے ان تمام ریاستوں کو کسی بھی بندرگاہ تک رسائی کیلئے افغانستان سے گزرنا ہوگا۔
لہٰذا افغانستان میں امن دونوں معاشی راہداریوں کیلئے نا گزیر ہے۔ دوسری طرف اگرمشرقِ وسطیٰ کو دیکھا جائے تو اومان، یمن اور سعودی بلاک کیلئے گوادر زیادہ مناسب رہے گی تو عرب امارات، قطر اور کویت کیلئے چاہ بہار زیادہ بہترروٹ رہے گا۔اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ باہمی رضا مندی اورمذاکرات کے ذریعے افغانستان میں ایسا حکومتی نظام رائج ہو جو دونوں راہداریوں کو برابر اجازت دے، کہ پھر جسے جو راہداری مناسب لگے وہ اس کا استعمال کرے۔ اس طرح پورے خطے کو بالعموم اور افغانستان کو بالخصوص معاشی خوشحالی کی ضمانت مل سکتی ہے۔ اوراس سرد اور طویل کہانی کو بھی کوئی خوبصورت موڑ دے کر ختم کیا جا سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com