ٹیٹو

بدھ دسمبر    |    محمد واجد طاہر

کل میری ایک دوست نے اپنے بازو پر نیا ٹیٹو بنوایا۔وہ ٹیٹو ایک تصویر پر مبنی تھا ۔اور تصویر ایک خاتون کی تھی جو کہ گرد اور خون میں اٹی ہوئی تھی ۔ ٹیٹوزبنوانے کا رواج یورپ بھر میں بہت زیادہ مقبولیت پا چکا ہے ۔ لڑکے اور لڑکیاں مختلف ڈیزانز کے ٹیٹو بنواتے ہیں مگر ایسا ٹیٹو دیکھنے میں کم ہی ملتا ہے۔میری یہ دوست ادیان کے تقابل میں پی ایح ڈی کر رہی ہے۔مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنا اور ان پر بحث کرنا اس کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔
اس کی ظاہری شخصیت جیساکہ جسم کے نمایاں حصوں پر بنے ہوئے ٹیٹوز ۔سرخ رنگے ہوئے بال۔اور کثرت سے سیگریٹ نوشی ۔اس کے مقابل کو اس کے علمی قد کے بارے میں اکثر دھوکہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔
تم نے یہ مختلف قسم کا ٹیٹو بنوایا ہے۔

(خبر جاری ہے)

میں نے کھوجتے ہوئے پوچھا۔ وہ مسکرا دی او ر پوچھا کیوں تم کو اچھا نہیں لگ رہا۔ایک خاتون کے جسم پر ایک دوسری گرد اور خون میں اٹی ہوئی خاتون بھلا ایک مرد کو کیسے اچھی لگ سکتی ہے۔

میں نے اسکو ہنس کر جواب دیا۔وہ میرا مذاق سمجھ کر ہلکا سا مسکرا دی مگر ساتھ ہی اسکی آنکھوں میں آنسوٹپک پڑے۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں اس صورتحال میں کیا کروں۔وہ خود ہی بولی میں پچھلے ہفتے بون میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے گئی تھی۔کانفرنس کا عنوان پری انیڈ پوسٹ کلونیل اسٹیٹس تھا ۔دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ اس کانفرنس میں مدعو تھے ۔ایک ریسرچر انڈیا سے بھی مدعو تھا۔اس نے جب اپنی ریسرچ پریزنٹ کی تو ہال میں موجود سب ہی لوگوں کو شاید سانپ سونگ گیا۔
اور میرے جیسے کمزور دل کے لوگ اسکی ریسرچ کے نتائج سن کراپنے آنسو نہیں روک پائے۔
اسکی تمہید نے میرے بے چینی بڑھا دی۔آخر ایسا کیا تھا اس انڈین کی ریسرچ میں جس نے ایک سانٹفیک کانفرنس میں آسودگی کا ماحول پیدا کر دیاتھا۔میرے چہرے کی جھنجالاہٹ کو بھانپتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی اور سوالیہ انداز میں مجھ سے پوچھا۔کیا تم کو پتا ہے کہ جب برصضیربرطانوی راج سے آزاد ہونے جا رہا تھا توتمہارے ملک کے باشندوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک پاکستان کا مطالبہ کر دیا تھا اور یہ مطالبہ دو قومی نظریہ پر کیا گیا تھا جسکی بنیاد مذہبی بنیادوں پر رکھی گئی تھی ۔
اس کے نتیجے میں بہت خون بہا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ا طرف سے بے شمار عورتوں کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔ایسی عورتیں ہزاروں کی تعداد میں تھیں جو کہ ہجرت کے دوران بارڈر کراس نہیں کر پائیں۔مسلمانوں نے ہندو اور سکھ عورتوں کو باندی بنا لیا اور ہندو اور سکھوں نے مسلمان عورتوں کو۔یہ عورتیں کئی سالوں تک یا پھر ساری ہی زندگی بغیر شادی کے مسلمانوں اور ہندو اور سکھوں کے بچے پیدا کرتی رہیں۔
کچھ نے مجبورا اور کچھ نے خوشی سے اپنا مذہب بدل لیا۔
جہاں تک دو ملکوں کے وجود میں آنے کی بات ہے تو میں تمہارے علم سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے اسے جواب دیا۔ مگر جہاں تک عورتوں کی بے جرمتی کی بات ہے تو ہماری طرف سے ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا تھا۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ بہت ساری مسلمان عورتیں ہندوں اور سکھوں نے زبردستی اغوا کر لیں تھیں یا پھر وہ اپنے خاندانوں سے ہجرت کے دوران بچھر گئی تھیں۔
اس نے کافی غصیلے انداز سے مجھے گھورا اور بولی اچھا تو تمہارا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے مذہب کے لوگوں نے کسی ہندو یا سکھ عورت کو ہجرت کے دوران نہیں روکا صرف دوسرے مذاہب کے لوگوں نے یہ جرم کیا۔ بلکل ہم نے اپنے بزرگوں سے ایسا ہی سنا ہے اور اپنی کتابوں میں بھی یہ ہی پڑھا ہے۔ میں نے جواب دیا۔
میں آج تک یہ سمجھتی تھی کہ تم ایک ایسے ریسرچر ہو جو علم کو دلیل اور حقائق کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔
لیکن تم تو ایک کنزرویٹو مسلمان اور پاکستانی ہو جس کو اس بات کا تو یقین ہے کہ دو ملکوں کی علیحدگی کے دوران مسلمان عورتوں کی تو بے حرمتی ہو سکتی ہے مگر مسلمان اسکے برعکس ایسا نہیں کر سکتے۔ جانتے ہو اس انڈین ریسرچر کی تحقیق کے مطابق ہندو اور سکھ عورتوں کی تعداد مسلمان عورتوں سے زیادہ تھی جو کہ پاکستان میں رہ گئیں تھیں کیونکہ بہت سے مسلمانوں نے تو انڈیا سے ہجرت کی ہی نہیں۔ آج بھی انڈیا میں پاکستان سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔
جبکہ ہندو اور سکھ تو پاکستان میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہ اس بات کی عقلی دلیل ہے کہ یاتو انکی تعداد پہلے سے ہی کم تھی یا پھر ذیادہ تر نے ہجرت کر لی تھی۔اسکے علاوہ اس ریسر چر نے یہ بھی بتایا کہ علیحدگی کے کچھ عرصہ بعد ایک آزاد کمیشن کا وجود آیا جس کے ذمہ دونوں اطراف سے محصور عورتوں کی بازیابی تھا۔اس کمیشن کی کاوشوں سے دونوں اطراف سے کچھ عورتوں کا حصول ممکن تو ہوا۔لیکن پھر بھی ہزاروں کی تعداد میں عورتیں دونوں ممالک اور انکے مذاہب میں گم ہو گئیں۔

لیکن یہاں بحث کا نقطہ یہ نہیں کہ کس مذہب سے تعلق رکھنے والی کتنی عورتوں کی عزت پامال ہوئی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دو ممالک ادیان کے تقابل میں ایک دوسرے سے الگ ہو رہے تھے توکیا ایک مذہب سے تعلق رکھنے والی عورتیں دوسرے مذاہب کے مردوں کے لیے اس وقت حلال ہو گئی تھیں۔ جہاں تک میرا علم ہے یقینا کوئی بھی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ میں یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ آج پاکستان میں ہندو اور سکھ عورتیں اور انڈیا میں مسلمان عورتیں اسی طرح کے حالات سے دوچار نہیں ہیں۔
اور اگر آج مذہب کو بنیاد بنا کر عورتوں کی پامالی نہیں ہوتی تو پھر اس وقت بھی جن لوگوں نے یہ وحشی پن دکھایا ہو گاانکا دو مختلف ممالک بنانے میں کوئی ذاتی مفاد تو ضرور ہو گا۔ مگر اس عمل سے کسی بھی طرح دین کی کوئی خدمت نہیں ہو سکتی ۔
جانتے ہو اس ریسرچر نے ایسے شواہد بھی دکھائے جن سے پتا چلا کہ بہت سی عورتوں کی عزت لوٹنے کے بعد انکو اذیتیں دیکر قتل کر دیا گیا تھا۔ اور انکے جسموں پر مختلف اوزاروں سے میرے ٹیٹوز کی طرح نعرے بھی درج کیے گئے تھے ۔جئے ہند ۔ اور۔پاکستان زندہ آباد۔میرا یہ ٹیٹو شاید تمہا رے لیے تو ایک سوال ہے مگران عورتوں سے اظہارہمدردی ہے جو کہ دو ملکوں کی سیاست اور مذہب کی بھنیٹ چڑھ گئیں تھیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com