دعاؤں کا خزینہ چلا گیا

بدھ دسمبر    |    ممتاز امیر رانجھا

موت انسان کو ضرور مار دیتی ہے لیکن اچھے اخلاق والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں،دلوں میں،لفظوں میں اور دعاؤں میں۔یہ بات سچ ہے کہ ساری مائیں اچھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ماں تو کچھ زیادہ ہی اچھی نکلی۔خود ان پڑھ ہونے کے باوجود ہم پانچ بھائیوں کو پڑھانے میں کامیاب رہیں۔یقینا ان کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ انہیں خود کسی بچے کے سکول جانے کی ضرورت نہیں پڑھی ۔ہمیشہ ہمارے فرسٹ کلاس رزلٹ کی مبارکبادی لوگ دروازے پر آ کر دیتے۔
والد صاحب ہم سارے بھائیوں کو شام کی اذان کے بعد گھر دے نکلنے پر نہ صرف ناراض ہوتے بلکہ منع فرماتے اور ہم بھی ان کے حکم پر عمل پیرا ہوتے۔سرگودھا کے ایک پسیماندہ گاؤں چک 67جنوبی میں دس فیصد لوگ پڑھے لکھے اور تین فیصدملازمت پیشہ ہیں جن میں ماشاء اللہ ہم بھائی سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور ملازمت یافتہ ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ہمارے ان پڑھ اور عظیم والدین نے ہماری تربیت بھی ایسی کی کہ شاید کی کسی اور کی ایسی بہترین تربیت ہو۔

والد محتر م پانچ وقت کے پکے نمازی ،شام سے عشاء تک نوافل ادا کرتے ،جب پوچھتے کہ ابا جان اتنے فالتو نوافل کیوں ادا کرتے ہیں تو کہتے کہ بیٹا یہ سب میں آپ بچوں کے لئے پڑھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب بہن بھائیوں پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے۔والد صاحب نے 2010ءء میں اس جہان فانی چھوڑا مگر اللہ تعالیٰ گواہ ہے ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہمارے خاندان پر اتنی رحمت ہوتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ واقعی والدین کی دعائیں زندگی سنوار دیتی ہیں۔

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
خدانے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے
والدہ رات کو نیند سے پہلے،رات کو آنکھ کھلنے پر ،صبح جاگنے پر کلمہ طیبہ بآواز بلند پڑھتیں۔ یقین کریں آج جب وہ ہم میں نہیں رہیں لیکن ایسالگتا ہے کہ ان کے کلمہ پڑھنے کی آواز کہیں سے گونج رہی ہو۔ہم پانچ بھائیوں کی بیویوں کے ساتھ ان کا رویہ نہایت دوستانہ اور شفیقانہ رہا۔کسی بیٹے کے ساتھ ان کی بیوی کا گلہ تک نہیں کیا اور نہ ہی کسی بہن بھائی،بھابھی،رشتہ دار یا پڑوسی میں خدانخواستہ پھوٹ ڈالنے والی کبھی کوئی بات کی۔
ہمیشہ سب کو یکجا رہنے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کی۔ہماری تربیت میں لڑائی جھگڑا نہیں بلکہ پیار محبت ڈالا اور ہمیں ہر انسان کی عزت کرنا سکھایا۔
تمہارے دم سے ہیں مرے لہو میں گُلاب
مرے وجود کا سارا نصاب تم سے ہے
حضرت موسی ٰ کو تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا دیاتھا کہ موسیٰ اب ذرا دھیان سے ادھر آنا اب تمہارے لئے دعائیں کرنے والی تمہاری والدہ نہیں رہیں۔ہم تو گناہگار لوگ ہیں۔
اب ہمارے لئے دعا کریں کہ ہم ثابت قدم رہیں۔والدین کی عدم موجودگی میں ہم یا ہماری طرح کے لوگوں کو دعاؤں اور احتیاط کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔واقعی کسی نے خوب کہا ہے کہ سب سے غریب وہ ہوتا ہے جس کے پاس اس کے والدین نہیں ہوتے۔
کہاں بساطِ جہاں اور میں کمسن ونادان
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
میری والدہ مجھے نومبر 2016کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔
وہ والدہ جس نے مجھے اور ہم سارے بہن بھائیوں کو باقی ماؤں کی طرح چلنا،سنبھلنا ،دوڑنا اور وقت سے لڑنا سکھایا ،خود اس زندگی کے ہاتھوں دم ہار کے منوں مٹی تلے چلی گئیں۔رحمتوں،شفقتوں اور دعاؤں کا خزینہ چلا گیا۔اب میں بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہوں جس کو دعا دینے والی ماں نہیں رہی۔یقین کریں جب سے والدہ گئی ہیں کئی بار کالم لکھنے کا سوچا لیکن میرا ذہن ماؤف اور ہاتھ خدانخواستہ فالج ذدہ دکھائی دیئے۔
جن بہن بھائیوں نے فیس بک اور واٹس اپ پر یا براہ راست والدہ کا افسوس کیا ،اللہ تعالیٰ ان کے مرتبے مزید بلند کرے۔میرے والدین کو قبر اور جنت الفردوس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ کامیابیاں نصیب ہوں۔آمین
قارئین آج کا کالم ذاتی نوعیت کا تھا لیکن یقین کریں میری 38سالہ مختصر زندگی کا یہی نچوڑہے کہ دنیا میں سونے چاندی سے کہیں زیادہ قیمتی والدین کا رشتہ ہے۔ان کی بہت قدر کرو۔جب زندہ ہوں تو شاید ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا یقین کرو والدین کے دنیا سے جانے کے بعد ان کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے اور اس وقت ہمارے پاس محض پچھتاوے کے کچھ بھی نہیں ہوتا پھر یہ وقت لوٹ کا نہیں آتا ۔
یہ امر ربی ہے کہ ایک نہ ایک دن سب کے والدین چلے جاتے ہیں۔ظالمو جن کے والدین زندہ ہیں وہ اپنے والدین کی خدمت اور حرمت میں کبھی کمی نہ آنے دو۔
جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام تم سے ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com