ہماری حکومت اور اس کی ترجیحات

پیر مارچ    |    نبیل اقبال بلوچ

الیکشن2013میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد قسمت کی دیوی ایک بار پھر میاں محمد نواز شریف صاحب پر مہربان ہوئی اور وہ تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ۔اب کی بار تمام سیاسی حلقوں او ر عوام کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ میاں صاحب نہ صرف اپنے گزشتہ ادوار میں ہونے والی غلطیوں سے سبق حاصل کر چکے ہوں گے بلکہ ملک میں بہترین قیادت کے خلاء کو احسن طریقے سے پر کر کے ایک تجربہ کار سیاستدان ہونے کا ثبوت دیں گے اور اپنی طویل جلا وطنی اور سیاسی جدوجہد کاحق ادا کریں گے لیکن بدقسمتی سے معاملہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور وہ اقتدار پر براجمان ہوتے ہی بادشاہت کے نشے میں چور ہو کر قوم سے کیئے گے تمام عہد و پیماں بھول گے ۔
موجودہ دورحکومت میں میاں صاحب اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے خود کو ایک لبرل اور سیکولر حکمران ثابت کرنا چاہتے ہیں اور وہ عملی میدان میں کئی بار اس کا ثبوت دے چکے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

یہ اور بات کہ میاں صاحب ابھی تک وہ راستہ نہیں دیکھ پائے جو سیدھا انھیں تھرلے جائے اوروہ وہاں پہ موجود بھوک سے نڈھال بچوں کا حال پوچھ سکیں ، اسی طرح میاں صاحب خیبر پختونخواہ میں لاکھوں بے گھر آئی ڈی پیز کی واپسی سے بھی بری الزمہ ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں لیکن چونکہ وہ ملک میں بسنے والی تمام قومیتوں کے وزیر اعظم ہیں اسی لئے ہولی کے رنگ میں رنگنا ان کی وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ منصب کا تقاضہ ہے ،اور اگر معاشی استحکام چاہئے تو سود کے لئے گنجائش نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے
کئی ہفتوں پہلے پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ تحفظ حقو ق نسواں بل مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں میں زیر بحث ہے ، یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ عورت کی تمام تر اہمیت کے باوجوداُسے و ہ مقام و مرتبہ نہیں دیا گیا جس کی وہ حقدار ہے ، چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور رنجشوں پہ عورتوں کی پٹائی کرنا اور جہالت پر مبنی اسی طر ح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ، عورتوں کے ساتھ روا رکھاجانے والا یہ بھیانک رویہ نہ صرف انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں بلکہ اسلام کی اصل روح، روایات اور تعلیم کے بھی سراسر خلاف ہیں ۔

مغرب نے عورت کو مردانہ خواہشات پر مبنی معاشرے کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے جس کے بعد عورت کی حیثیت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ کی نہیں رہی ۔اس ضمن میں سب سے معتدل نظریہ اسلام کا ہے جس نے عورت کو انتہائی زیادہ عزت بخشی ۔ ہمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے ، اور ہمارے ملک کا دستوربھی خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے ، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسا قانون بنانے کی ضرورت پیش آئی جس میں کہا گیا کہ اگر میاں بیوی کے مابین جھگڑا ہو جائے تو مرد کو دو دن تک گھر سے باہر رکھا جائے ، گویا دوسرے لفظوں میں اگر ان کے درمیان 48گھنٹوں میں کوئی صلح کی توقع بھی ہو تو وہ اس قانون کے مطابق اب ختم کر دی جائے ۔
بد قسمتی سے مغربی آقاؤ ں کو خو ش کرنے کے لئے بنائے جانے والے ایسے تمام قوانین نہ صرف قرآن و سنت کے منافی بلکہ ہمارے معاشرتی اور سماجی اقدار کے سرا سر خلاف ہیں۔
دراصل کسی بھی حکومت کی کارکردگی میں اس کی ترجیحات اور نیت کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے، ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جس کے بھکاری حکمران اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے بنائے گئے منصوبو ں کی خاطر قرض لیتے ہیں جس کو ہماری آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں ، سوال یہ ہے کیا ہمارے حکمران پورے پنجاب میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی سہولیات کا بندو بست کر چکے ہیں اور اب مسئلہ صرف حقوق نسواں کا رہ گیا ہے ؟ جس ملک کی70فی صدآبادی پینے کے صاف پانی ، تعلیم او ر صحت جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہو وہاں اورنج ٹرین منصوبے پر فی کلو میٹر چھ ارب روپے خرچ کیئے جائیں تو ایسی صور ت میں پور ی قوم حکمرانوں کی عقل پہ ماتم کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتی ہے ،یہ ہیں ہماری ترجیحات اور یہ ہے حکمرانوں کی سیاسی بصیرت جو اس بات سے با لکل غافل ہیں کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے اور وہ ان سے ان کو دیئے گے تمام اختیارات کے بارے میں سوال کرے گا ۔
میاں صاحب کو اللہ نے ایک بار پھر موقع فراہم کیا کہ وہ مظلوم لاچار اور دکھی انسانیت کی خدمت کر کے اپنی عاقبت سنوار سکیں وگرنہ اس فانی دنیا کا کیا بھروسہ کب زندگی کی شام ہو جائے۔ بقول شاعر ۔
کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل،زمرد،سیم و زر
جب پونجی باٹ میں بکھرے گی پھر آن بنے گی جان اوپر
نقارے نوبت، بان،نشاں، دولت، حشمت،فوجیں،لشکر
کیا مسند،تکیہ،ملک،مکاں، کیا چوکی، کرسی،تخت،چھتر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارا
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com