جھوٹی سیاست

پیر اکتوبر    |    نبی بیگ یونس

#ایک مسلمان نوکری کرے، تجارت کرے یا سیاست، اُسکا ہر کام اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے بتائے اور سکھائے طریقہ کار کے مطابق ہو تو کامیابی اور کامرانی ضرور قدم چومتی ہے،لیکن اگر یہ کام جھوٹ، فریب، دھوکہ اور مکاری پر مبنی ہوں تو اِس دنیا میں بھی ناکامی اور آخرت میں بھی رسوائی۔ مسلمان صوم و صلات سے نہیں بلکہ معاملات سے پہچانا جاتا ہے،لہذا مسلمان کے معاملات اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔

مدینہ اور مشرکین مکہ کے درمیان مارچ 628ء میں صلح حدیبیہ ہوا۔ مشرکین کے شرائط غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل قبول تھے لیکن رسول اللہ ﷺ نے حکمت کے تحت شرائط قبول کئے اور قبول کرنے کے بعد اُن پر مکمل عمل درآمدبھی کیا۔

(خبر جاری ہے)

ہمارے پیارے محمد ﷺ صادق اور امین تھے، انسانیت کے پیکر تھے اور سچ کے علمبردار تھے، اسی لئے مشرکین بھی اُنکی بات پر یقین کرتے تھے۔تاریخ گواہ ہے جب کوئی بھی مسلمان اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا تومقدر کامیابی ہی بنی۔


عمران خان نے 2014کو دھرنے سے پہلے واضح کیا تھا کہ وہ آبپارہ میں دھرنا دیں گے اور اِس سے آگے کسی صورت نہیں جائیں گے، لیکن وہ نہ صرف آگے بڑھے بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے اور وفاقی دارلحکومت کے تمام نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔آدھی رات کو آبپارہ سے پیش قدمی کرنے والے عمران خان اور طاہرالقادری کے بلٹ پروف کنٹینروں کے ہمراہ میں بھی تھا۔ تین منٹ کی ڈرائیو کا سفر ان کنٹینروں نے لوگوں کے بہت بڑے ہجوم کے ساتھ تقریباً اڑھائی تین گھنٹے میں طے کیا۔
عمران خان نے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے کنٹینر پر پہلی تقریر میں کہا کہ میں مروں گا بھی اسی کنٹینر میں جیوں گا بھی، نواز شریف کے استعفے تک اِس کنٹینر سے نہیں نکلوں گا، لیکن کنٹینر میں صرف دو گھنٹے گزار کر اپنی کالے رنگ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر بنی گالہ روانہ ہوئے۔ اُس کے بعد 126دن کے دھرنے کے دوران موصوف نے جو جھوٹ بولے اُنکی فہرست کافی طویل ہے۔ اس لئے میں گزشتہ ایک ہفتے سے بولنے والی انکی جھوٹ پر آنا چاہتا ہوں۔

عمران خان کافی دنوں سے کھل کر کہتے رہے کہ وہ اسلام آباد کا لاک ڈاوٴن کریں گے، اسلام آباد بند کردیں گے، دارلحکومت کو مفلوج کردیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 27اکتوبر جمعرات کو پی ٹی آئی لاک ڈاوٴن کے بارے میں تفصیلی فیصلہ آیا جس میں عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ لوگوں کو انکے بنیادی حقوق، نقل وحرکت، تعلیم اور تجارتی سرگرمیوں کی آزادی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ، عدالت نے کہا کہ عمران کی تقاریر سے برملا تاثر ملتا ہے کہ دھرنے کا مقصد اسلام آباد کو لاک ڈاوٴن اور حکومتی مشینری کوجام کرنا ہے۔
اسلاآباد لاک ڈاوٴن کرنے سے آرٹیکل نو، چودہ، پندرہ، سولہ، اٹھارہ اور انیس کے تحت شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق سلب ہونگے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان 31اکتوبر کو عدالت میں حاضر ہو کر وضاحت کریں انہوں نے کس قانون کے تحت اسلام آباد لاک ڈاوٴن کرنے کا اعلان کیا۔
پھر کیا ہوا، فیصلہ آنے کے فوراً بعد عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس کی اور عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد ہر صورت لاک ڈاوٴن کردیں گے۔
اُن کے اِس اعلان کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور کہا کہ اسلام آباد لاک ڈاوٴن کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد عمران خان نے ایک اور یو ٹرن لیا اور کہا کہ ہم پر امن احتجاج کرنا چاہتے ہماری راہ میں روڑے کیوں اٹکائے جارہے۔
عمران خان مثالیں ترقی یافتہ ممالک برطانیہ، سویئزلینڈ اور امریکہ کی دیتے ہیں، اُن سے کوئی پوچھے کہ کیا اِن ممالک میں کسی کو دارلحکومت لاک ڈاوٴن کرنے کی اجازت دی جاسکتی؟
عمران خان اگر واقعی عدم تشدد پر یقین رکھتے تو انہیں دھرنا دینا تھا تو احتجاج کیلئے وقف کی گئی مخصوص جگہ ڈیموکریسی اینڈ اسپیچ کارنر پر کرتے جسکی اجازت انہیں نہ صرف انتظامیہ نے بلکہ عدالت نے بھی دی ہے لیکن وہ کچھ اور ہی چاہتے۔ اُنکی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے اور ایسی سیاست کے ذریعے اُن کے وزیراعظم بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com