قیدی ملالہ

اتوار جنوری    |    ندیم تابانی

”کچھ سنا تم نے ؟ “
”اللہ نے دو کان دیے ہی سننے کے لیے ہیں ، سنتا رہتا ہوں ، سن رہا ہوں ، پتا نہیں تم کس چیز کا پوچھ رہے ہو، سنا دو، پہلے نہ سنا ہوا تو اب سن لوں گا۔“
”ملالہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔“
”کس چیز میں ؟“
”دنیا کی پسندیدہ ترین خواتین کے لیے رائے شماری ہوئی ،اس میں ۔“
”ارے تو ملالہ خاتون کب سے ہو گئی؟ وہ تو لڑکی ہے! ۔“
”اُف توبہ ہے تم سے، بال کی کھال ادھیڑنے بیٹھ جاتے ہو۔

”یہ کیا بات ہوئی؟حقیقت بتانا کھال ادھیڑناکیسے بن گیا بھلا! اقوام متحدہ کے اصول18 سال سے کم عمروں کو بچوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں ، ان کی رائے کا اعتبار نہیں ہوتا، ووٹ کا حق بھی نہیں دیا جاتا ،شادی کے لیے بھی کم از کم 18 سال کی عمر ہونا ضروری ہے،لیکن تم کہہ رہے ہو پسندیدہ خواتین میں ملالہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

جب کہ بے چاری ملالہ ابھی چند مہینے پہلے 18سال کی ہوئی ہے، تو لڑکی ہی ہوئی نا! ۔


”تم تو بات کسی اور طرف لے گئے ۔“
”ارے جس طرف بھی لے جاؤں ،ہے تو حقیقت نا، ویسے زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں، جسے تم دوسری پوزیشن کہہ رہے ہو ،اس کی بابت لوگ یہ بھی کہتے ہیں ،پاکستانی دو نمبر لوگ ہیں، اسی لیے دوسرا نمبر ہی پسند ہے انہیں۔ یاد ہے نا سابق ناظم کراچی نے بھی غالبا35میئروں میں”دوسری پوزیشن “حاصل کی تھی ، بڑی دھوم مچی تھی۔اس وقت بھی یہی طعنے سننے کو ملے تھے“۔
اچھا پسندیدہ خواتین میں پہلا نمبر کس نے لیا؟“
”ہیلری کلنٹن نے“
”واہ جی وا! یہ بھی خوب رہی،پہلی پوزیشن انہتر سالہ ”خاتون“ کی اوردوسری پوزیشن ایک لڑکی ،کی جس کا شمار چند ماہ پہلے تک بچوں میں تھا۔ووٹ دینے والوں کے ”ذوق“ کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔“
”پتا ہے مسلسل چودھویں بار ہیلری نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔“
”ٹھیک ہے بھئی ، امریکی خود بھی تو ”ایک نمبر“ ہوتے ہیں، ہیلری پوری پوری مستحق ہیں ایک نمبری کی، ایسا لگتا ہے یہ ووٹنگ بڑی منصوبہ بندی سے ہوئی ہے“
”تم باز نہیں آؤ گے ، ہر چیز کو اپنی آنکھ سے کیوں دیکھتے ہو؟“
”ظاہر ہے اپنی آنکھ سے ہی دیکھوں گا،کسی اور کی آنکھ سے کیوں دیکھنے لگا!نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا،بلکہ اپنے ہی دماغ سے سوچوں گا بھی ،دیکھو نا ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کو ملالہ خاتون بنا ڈالا، تاکہ اس کی بات میں وزن پیدا کیا جا سکے ، کئی سالوں سے اس کے بول ”اقوال زریں“ بنے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بہت بڑی دانش ور ہو ۔
ایک بچی کو دنیا کی چمک دمک دکھا ، ورغلا اور بہکا کے اپنا بنا لیا ، اس کے منہ میں اپنی زبان دے دی ۔اس پر سرمایہ کاری کی گئی، خزانے کے منہ کھول دیے گئے ۔کوئی حساب کتاب جوڑنے والا ہوتوعالمی ریکارڈ حاصل ہوگا ملالہ پر ہونے والی سرمایہ کاری کو، یہی محنت پاکستان ، کوئی دوسرا مسلم ملک ،یا کوئی اسلامی تنظیم اور ادارہ امریکا یا کسی دوسرے ملک کی کسی بچی یا بچے پرکرتا تو امریکا سمیت ساری دنیا چیخ رہی ہوتی کہ ایک بچی کو ورغلایا اور بہکایا جارہا ہے ، لیکن یہی کام امریکا اور اس کے یار کررہے ہیں۔
۔۔۔“
”ہوں! بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو“
”ٹھیک ہی کہوں گا، غلط کیوں کہنے لگا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ غیروں نے تو جو کیا سو کیا، ہماری سادہ دلی بھی قابل داد ہے، اپنی بچی غیروں کی جھولی میں دیکھ کرپوری قوم خوشی سے جھومتی ہے ، ملک کے صدر ،وزیر اعظم سے لے کر ایک عام اور گم نام شہری تک، سب کو فخر ہے اپنی بیٹی اور بچی کے اس اغواپر ، کوئی نہیں جو اس بچی کی واپسی کی بات کرے ۔“
”بچی کی واپسی !! کیا بات نکالی ہے تم نے !“
”بھئی اپنی اپنی سوچ اور اپنا اپنا نظریہ ۔
مجھے تو ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو ملالہ کو برا کہتے اور اس کے پیچھے پڑے ہیں ، اس کی خامیاں ڈھونڈتے ہیں، اس کو دشمن کا آلہ کار کہتے ہیں، یہ کیوں نہیں سوچتے وہ تو بچی تھی ، دنیا کی رنگینی دیکھ کر بڑے بڑوں کی رال ٹپک جاتی ہے، آنکھیں خیرہ اور دل شیرہ ہو جاتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ ہی دشمن کی قید میں نہیں، ملالہ بھی قید میں ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

ملالہ یوسف زئی قیدی


متعلقہ کالم