تُو تُو مَیں مَیں

جمعرات جنوری    |    ندیم تابانی

سعودی عرب اور ایران میں تو تو میں میں ہو گئی ہے ۔رنجشیں تو خیر ہمیشہ سے رہی آئی ہیں اورآئندہ بھی ہمیشہ رہیں گی، لیکن اب سفارتی ،تجارتی تعلقات بھی ختم ہو گئے ہیں، دونوں طرف کے حامی ممالک بھی اپنے اپنے دوست کا ساتھ دینے میں مصروف ہیں، پاکستان کاان دونوں میں کون دوست ہے اس سے قطع نظر پاکستان دونوں کا دوست ہے اور چاہتا ہے ،آئندہ بھی دوست رہے ،اس لیے خود کو مشکل میں پا رہا ہے ،کس کا ساتھ دے ،کس کا نہ دے ، ایران کو خیر پاکستان کی دوستی مطلوب نہیں ،لیکن ایران یہ ضرور چاہتا ہے کہ پاکستان اس پھڈے میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتا تو کم از کم لات دینے کی پالیسی بھی نہ اپنائے ، البتہ سعودی عرب کی خواہش و فرمائش مبینہ طور پر یہی ہے کہ پاکستان اس کے ساتھ مل جائے اور ایران کو چھٹی کے ساتھ ساتھ ساتویں اور آٹھویں کا دودھ بھی یاد دلا دے ۔

(خبر جاری ہے)


دنیا کے دیگر ممالک کا کہنا ہے انہیں اس تو تو میں میں پر بڑی پریشانی ہے ، ان ممالک کی بھی خواہش ہے کہ انہیں دونوں ممالک ثالث مان لیں ، پاکستان میں حزب اختلاف سے متعلق جماعتیں بھی حکومت سے ثالث بننے کی فرمائش کر رہی ہیں ، بلکہ انہیں تو اس پر بھی غصہ ہے کہ میاں جی اس وقت سری لنکا کیا کرنے گئے ہیں ، انہیں سعودی عرب اور ایران جانا چاہیے ۔ فرمائش جتنی بھی اچھی ہو، یہ ملحوظ رہے کہ ثالثی تبھی کی جا سکتی ہے جب دونوں فریق یا تمام فریق مان رہے ہوں ۔
بہر حال ایران و سعودیہ کو مشورہ تو سب طرف سے یہی دیا جا رہا ہے کہ اچھے بچے بن کر رہیں۔ لڑائی بھڑائی چھوڑ دیں۔
####
وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے قوم کو خوش خبری سنائی ہے کہ دو ہزار اٹھارہ میں بھی بجلی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکے گا، خواجہ صاحب کو یہ بات جاننے میں ڈھائی سال لگے ، یاان کی نیت ہی حوصلہ شکن ہے ،یا شاید ان کے عزائم خراش زدہ ہیں ،یا ان کی جد و جہد بیمار ہے ، کچھ بھی ہے لیکن یہ بات بہر حال خواجہ صاحب کو پتا ہونی چاہیے میاں جی کے عشاقان زار کو چھوڑ کر اکثر لوگ اس بات پر پہلے سے یقین رکھتے ہیں کہ بجلی بنانے کے دعوے سب سے آسان اور بجلی بنانا سب سے زیادہ مشکل ہے۔

####
شیخِ کینیڈا مسٹر طاہر القادری ایک بار پھر لاہور میں قدم رنجہ فرما ہیں اور حکومت وقت کو ببانگ دہل چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر ماڈل ٹاؤن والے معاملے پر انصاف نہ کیا گیا تو رائے ونڈ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ مسٹر طاہر القادری کے مزاج شناس جانتے ہیں کہ مسٹر قادری کو اچانک خیال آتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں پر ظلم ہو رہا ہے اور بطور روحانی سربراہ ہونے کے ان یعنی مسٹر طاہر القادری پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ عوام کو ظلم سے نجات دلائیں تو وہ کینیڈا سے اینٹیں بجانی شروع کرتے ہیں بجاتے بجاتے لاہور آتے ہیں ، وہاں سے اسلام آباد ۔
جب تھک جائیں یا تو چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ انٹیں بے چاری فراق شیخ میں رو رو کے ادھ موئی ہوتی رہتی ہیں۔
####
نام ور وکیل اور سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے : میاں نواز شریف اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکیں گے، چوں کہ میاں جی غلطیوں کے عادی ہیں ، اس لیے انہیں کسی بھی وقت جانا پڑ سکتا ہے ۔ ایسا ہی بیان عمران خان بھی دو سے زیادہ بار دے چکے ہیں ، کچھ صحافی بھی اس قسم کی خبریں سناتے نظر آتے ہیں ، شیخ رشید بھی کہہ چکے ہیں مارچ میں دونوں میں ایک ہی شریف رہے گا۔
سراج الحق بھی یکم مارچ سے تاجروں کے لیے میاں جی رعایتی اسکیم کے خلاف احتجاج کا موڈ بنائے پھر رہے ہیں اب اعتزاز احسن بھی یہی کہتے نظر آرہے ہیں اور طاہر القادری بھی اینٹیں بجانے پہنچے ہوئے ہیں ، کیا پھر کوئی کھیل شروع ہونے والا ہے اگر ایسا ہے تو کیا یہ مصرع پڑھا جائے :
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میاں جی گھومتے گھامتے اور جھومتے جھامتے پھر رہے ہیں اور باغ کے کانٹے ہی راہوں میں نہیں پڑے بلکہ بہت سے گل بھی گل کھلانے میں مشغول ہیں ۔
کبھی کبھی شریف جنرل کے بیان میں بھی ایسے جملے اور الفاظ پائے جاتے ہیں کہ حکومتی دل دھک دھک کرنے لگ جاتا ہے اور حکومت مخالف دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔
####
حکومت کے پی کا کہنا ہے راہ داری منصوبے میں وفاق اس کے ساتھ ہاتھ کرنے جا رہا ہے ، اس ہاتھ کو روکنے کے لیے اس کی خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس کا ہاتھ تھام لیں، کیوں کہ وہی وفاقی حکومت کا ہاتھ روک سکتے ہیں، اس طرح تحریک انصاف کی کے پی حکومت کا پہلی بار مولانا سے رابطہ ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق مولانا نے وفد کو ہاتھوں پاتھ لیا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com