اثر اُن کو زرا نہیں ہوتا

جمعہ جون    |    پروفیسر مظہر

امریکہ نے بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اُس کامقصد بھارت کو چین کے سامنے کھڑا کرناہے، جس کے لیے بھارت بھی بخوشی تیاراورہم چیں بہ چیں کہ اس امریکہ بھارت دوستی کے بعد ہمارا یہ حال کہ ”صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔“ ہم نے امریکی دوستی کے شوق میں اپنی معیشت کو عشروں میچھے دھکیل دیا، سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اُٹھایا، ساٹھ ہزار سے زائد فوجی جوان اور شہری شہید کروا لیے اور تب جا کے ہمیں ہوش آیا کہ ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا“ سوال یہ ہے کہ جب امریکی دوستی ہمیں ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے تو ہم اس کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے کیوں نہیں ہو جاتے؟ ہمارے پاس کیا نہیں ہے، کِس چیزکی کمی ہے۔
زمین کے نیچے تہ در تہ سونے، تانبے اور لوہے کے انبار، کوئلے، پٹرول اور گیس کے خزانے، بہتے دریا، گنگناتی ندیاں، گیت گاتے جھرنے، ابلتے چشمے، لہلہاتے کھیت، سونا اگلتی زمینیں، سب کچھ توہے لیکن اگرنہیں تو عزمِ صمیم نہیں اور اب ناکامیوں، نامرادیوں، مایوسیوں اور محرومیوں کے جلو میں قوم کا عالم یہ کہ #
سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں
تخمِ خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا
یہ سب کچھ کیوں ہوا اور ہو رہا ہے؟ وجہ تو بس ایک ہی کہ ہمیں اپنی توانائیوں پر اعتبار نہیں۔

(خبر جاری ہے)

یہ بے اعتباری ان رہنماؤں کی پیداکردہ جو ہم پر یکے بعددیگرے مسلط ہوتے رہے۔ کیا اس پر کسی تجزیے، کسی تبصرے کی ضرورت ہے کہ ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے ”قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند“ ؟۔کیا 9/11 کی جنگ میں کودنے اور امریکہ پر اعتماد کرنے سے بڑی حماقت کوئی ہو سکتی ہے؟۔ آج وزیرِاعظم کے مشیرسرتاج عزیزامریکہ کو مطلب پرست کہہ رہے ہیں لیکن کیا وہ ضیاء الحق کے دور سے ہی اِس”مطلب پرستی“ سے آگاہ نہیں تھے؟ کیا حکمرانوں کو سابق امریکی وزیرخانہ ہنری کنسجر کا یہ کہا بھول گیا کہ امریکہ کی دشمنی بُری لیکن دوستی اس سے بھی بُری؟ کیا حکمران یہ بھول گئے کہ امریکہ انھیں امداد نہیں اپنے حریفوں کے خلاف لڑنے کا معاوضہ دیتا رہا ہے؟ معاوضہ بھی ایسا کہ ایک دے کر دس نکلوا لیے اسی لیے توضیاء الحق نے اِس امدادکو مونگ پھلی کادانہ کہالیکن پھربدقسمتی سے وہ دانہ نگل کرپوری قوم کوکلاشنکوف کلچر کے حوالے کردیا۔
کبھی ہم نے حساب کیاکہ امریکی دوستی میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟
اتنا کچھ ہونے کے باوجود عالم یہ ہے کہ امریکہ خوش ہوتا ہے تو ہماری باچھیں کھل جاتی ہیں اور ناراض ہوتا ہے تو بوکھلا کرایسے گلے شکوے کرنے لگتے ہیں جیسے کوئی محب اپنے محبوب سے کرتاہے ۔ اگر امریکہ کی ناراضی دور کرنا مقصود ہی ہے تو اس کا آسان حل یہی کہ اقتصادی راہداری کو خواب و خیال سمجھ لیں کیونکہ یہی تو ایک سبب ہے امریکی ناراضی کا، ہماری افغان پالیسی نہیں۔
امریکہ خوب جانتا ہے کہ اقتصادی راہداری سے چین کو چار ہزار ارب ڈالر سے زائد تجارت کے لیے دوسرا راستہ نصیب ہو جائے گا اور نرخ بھی پہلے سے کہیں کم۔ اس طرح چین کا خطے میں اہم ترین ملک بن جانا اظہرمن الشمس اور ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی ترقی اپنی رفعتوں کو چھونے لگے گی جو امریکہ کو کسی صورت قبول نہیں۔ ایرانی چاہ بہار کی بندرگاہ کبھی بھی گوادر کا بدل نہیں بن سکتی، اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ بندرگاہ امریکی سرپرستی میں بہت پہلے آپریشنل ہو چکی ہوتی اور ایران کے پیٹ میں بھی گوادر کے مروڑنہ اٹھ رہے ہوتے ۔
ایران نے توچاہ بہار پرنریندرمودی کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ وہی مودی ہے جو نہ صرف ہزاروں مسلمانوں کاقاتل ہے بلکہ مسلمانوں کا ازلی وابدی دشمن بھی ۔ افغانستان بھی چاہ بہارپر سہ فریقی معاہدے کاایک فریق ۔ گویادو ”برادر“ اسلامی ممالک بھارت کے کندھے سے کندھاملا کے کھڑے ہوگئے لیکن حکمرانوں کو اب بھی خبرنہیں کہ پاکستان کوعالمی تنہائی کاشکار کیاجا رہاہے۔
پتہ نہیں یہ احمقانہ سوچ ہم میں کہاں سے پیدا ہو گئی کہ جس افغانستان کو سنبھالتے سنبھالتے روس ٹکڑے ٹکڑے ہوا، امریکہ نے اپنی معیشت کا بیڑاغرق کر لیا اس کا حل ہم چٹکیوں میں تلاش کر لیں گے۔
ہم نے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپر لانے کے لیے تاثر یہ دیاکہ جیسے وہ ہمارے قبضہٴ قدرت میں ہیں لیکن حقیقت یہ کہ وہ ملّا فضل اللہ جو تحریکِ طالبان پاکستان کاسربراہ ہے افغانستان میں ایک لحاظ سے افغان طالبان کی پناہ میں ہے کیونکہ وہ افغان طالبان کے امیر کے ہاتھ پربیعت کرچکا ہے ۔ پھرہم 3 ملین افغانیوں کو کس لیے پناہ دیے ہوئے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں امن و امان ہے، کوئی بھوکا نہیں سوتا؟ جب ہماری قوم بھوکوں مر رہی ہے تو زبردستی کے 3 ملین افغان مہمان کیوں؟
پی پی اور تحریک انصاف عیدکے بعد انتخابات کی تیاریوں میں سڑکوں پر ہوں گی۔
عمران خاں تو 2016ء کوانتخابات کاسال قرار دے بھی چکے ۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنے قدم جمانے اورتحریکِ انصاف کی جگہ لینے کے لیے بیقرار ۔ حقیقت یہ کہ مِڈ ٹرم انتخابات ممکن نہیں۔ اگراِن کی تحریک کامیاب ہوبھی گئی توالیکشن نہیں ، مارشل لاء آئے گااور یہ چراغِ رُخِ زیبالے کرجمہوریت کوڈھونڈتے پھریں گے ۔ ایسابھٹو کے دَورمیں بھی ہوچکا جب پی این اے کی تحریک کے سبب ضیاء الحق نوے روزہ انتخابات کاوعدہ کرکے آئے اورایک عشرے سے زائد گزارگئے تب اصغرخاں بھی وہی باتیں کیا کرتے تھے جوآج کل عمران خاں کر رہے ہیں۔
اب میمنہ، میسرہ تیارہ، ہتھیار نئے اور عزم بھی نیا، شدت پہلے سے زیادہ ہو گی کہ اب سب کچھ باقاعدہ پلاننگ کے تحت ہو رہا ہے اور ترتیب دینے والے وہی جو دھرنے کے خالق تھے۔ مولانا طاہرالقادری بھی17 جون کو دھرنا دینے کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ انھیں توتبھی بھیجا جاتا ہے جب ملک میں افراتفری پیدا کرنا مقصود ہو۔ اب کی بار جب اقتصادی راہداری پر دشمن کی سبھی چالیں ناکام ہو گئیں تو ”پاناماپیپرز“ سامنے لائے گئے۔ یہ وہ پیپرز ہیں جن کی تاحال تصدیق تو نہیں ہو سکی البتہ افراتفری کا ماحول ضرور پیدا کر دیا گیا ہے۔ اب اسی افراتفری کو دو آتشہ کرنے کے لیے ”مولانا قادری“ فیکٹر استعمال کرنے کی تیاریاں ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com