حالات کی سنگینی

منگل مئی    |    پروفیسر مظہر

فضاؤں میں گھلی بے یقینی اذہان وقلوب میں شکوک کے سنپولیوں کو جنم دیتی جا رہی ہے۔ مایوسیوں، ناکامیوں اور محرومیوں کے اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی مجبورومقہور اور راندہ درگاہ قوم حیرتوں میں گم کہ اب کس پہ اعتبار کرے، کسے رہنما سمجھے اور کس کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرے؟۔ عشروں سے حالت یہ کہ
کھولی ہے آنکھ ہم نے بلاوٴں کی گود میں
پَل کر جواں ہوئے ہیں خطاوٴں کی گود میں
اُمید کے روزن سے ہلکی سی کرن پھوٹی کہ شاید پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیرِاعظم کی تقریر کے بعد حالات میں سدھار کی کوئی سبیل نکل آئے لیکن معاملہ پہلے سے بھی دگرگوں ہوگیا بلکہ کردیا گیا۔
اپوزیشن کے سات سوالات کے جواب میں وزیرِاعظم نے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں مفصل بیان دیا لیکن اپوزیشن توہاتھ میں ڈنڈا پکڑکر ٹیچر بنی بیٹھی تھی ۔

(خبر جاری ہے)

اُس کایہ مطالبہ کہ ہرسوال کاالگ الگ جواب دیاجائے ، ہر ذی ہوش کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔ دراصل اپوزیشن وزیراعظم کو کٹہرے میں کھڑا کر کے ملزم ثابت کرنا چاہتی تھی جس میں وہ ناکام ہو گئی۔ وزیرِاعظم کے خطاب کے بعداپوزیشن لیڈرنے محض ایک منٹ میں یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہم نے سات سوال پوچھے تھے ، وزیرِاعظم کی تقریر کے بعدیہ 70 ہوگئے ہیں۔

عمران خاں نے سرے سے خطاب ہی نہیں کیا اورشیخ رشید کے کہنے پرساری اپوزیشن واک آوٴٹ کرگئی ۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے ساری اپوزیشن عمران خاں ، شیخ رشید اوراعتزاز احسن کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہو ۔حقیقت بہرحال یہی کہ وزیرِاعظم کے خطاب کے بعد اپوزیشن کے پاس کہنے کوکچھ باقی ہی نہیں بچاتھا ۔ اگر وزیراعظم نے جھوٹ بولا تھا تو اس کو ثابت کرنے کے لیے بھی فورم پارلیمنٹ ہی تھا نہ کہ پارلیمنٹ کے باہر۔
اگر بات میڈیا تک پہنچانا مقصود تھی تو سارا میڈیا تو اندر موجود تھا اس لیے یہ کہے بنا کوئی چارہ نہیں کہ اپوزیشن کے پاس وزیراعظم کی تقریر کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لیے اس نے واک آؤٹ میں ہی عافیت جانی۔
کپتان صاحب توویسے بھی اپنی آف شورکمپنی ، نیازی سروسز لمیٹڈ کے انکشاف کے بعدکچھ بوکھلائے بوکھلائے سے نظرآتے ہیں۔ نئے پاکستان کے نعرے کے بعد سے لے کر اب تک خان صاحب کو ہزیمتوں کا ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جب ”نئے پاکستان“ کا غلغلہ اٹھا تو قوم کاخیال یہی تھا بلکہ یقین بھی کہ جو شخص شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے محیرالعقول کارنامے سرانجام دے سکتا ہے، وہ ملک کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔ لیکن ”آزمودہ را آزمودن جہل است“ کے مصداق جب تحریک انصاف بار بار کے آزمودہ چہروں سے اَٹ گئی تو مایوسیوں کے سائے گہرے ہونے لگے۔ تب بھی اک موہوم سی امید باقی تھی کہ کپتان سچا اور کھرا آدمی ہے۔
خود کپتان صاحب نے بھی فرمایا کہ اگر سربراہ دیانت دار ہو تو وہ سب کچھ درست کر سکتا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں بری ہزیمت کے بعد بھی تحریک انصاف کے ”سونامیوں“ کا مورال ڈاؤن نہیں ہوا بلکہ یہ سمجھا گیا کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے ۔ اگست 2014 ء کا 126 روزہ دھرنا اسی کا ردعمل تھا۔ سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن میں بھی ہزیمت ہی خان صاحب کا مقدر ٹھہری۔
پھر ”پانامالیکس“ کا شور اٹھا تو تحریک انصاف کے تنِ مردہ میں جان پڑ گئی۔
ایک دفعہ پھر جلسے، جلوس اور دھرنوں کا ذکر ہونے لگا۔ وزیراعظم کے یکے بعد دیگرے دو مرتبہ قوم سے خطاب نے معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ وزیراعظم کے استعفے سمیت بہت سے مطالبات سامنے آئے۔ حسبِ سابق منفی سوچ رکھنے والے تجزیہ نگاروں نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانا شروع کردیا، لیکن شورِقیامت اُٹھا توصرف کپتان صاحب کی طرف سے ۔ قوم پر حیرتوں کے پہاڑ تو اس وقت ٹوٹے جب الزامات کی آڑھت سجانے والے کپتان صاحب کی بھی ایک آف شور کمپنی نکل آئی اور خاں صاحب نے اسے تسلیم بھی کر لیا۔
یہ کمپنی 10 مئی 1983ء کو معرضِ وجود میں آئی اور اس وقت تک کسی ایک پاکستانی کی بھی آف شور کمپنی نہیں تھی۔ اس لیے نوازلیگ کی طرف سے خان صاحب کو آف شور کمپنیز کا ”باواآدم“ کہا جانے لگا۔
اِس انکشاف کے بعدکئی سوالات نے جنم لیا۔ تحریک انصاف کی صفوں سے متواتر یہ کہا جا رہا تھا کہ خان صاحب کی آف شور کمپنی قصہٴ پارینہ ہے لیکن جرسی فنانشل کمیشن (جے۔ ایف۔ ایس۔ سی) کے مطابق نیازی سروسز لمیٹڈ کی آخری سالانہ ریٹرن 20 فروری 2014 کو جمع کروائی گئی اور2013ء کی سالانہ ریٹرن 28 فروری 2013ء کو جمع ہوئی۔
1983ء سے 2013ء تک خان صاحب نے تین انتخابات ( 1997 , 2002 , 2013) میں حصہ لیالیکن کسی ایک انتخاب میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت اپنے اثاثوں میں کسی آف شور کمپنی کی ملکیت تو ظاہرنہیں کی البتہ اُن کا یہ بیان حلفی الیکشن کمیشن کے پاس محفوظ ہے کہ ان کی ملکیت میں کوئی کمپنی نہیں۔
2009ء میں کپتان صاحب نے بھکر میں تقریباً 30 ایکڑ زمین 18 لاکھ کے عوض خریدی۔ یہ ان کا ٹیکس بچانے کا ایک حربہ تھا کیونکہ اس وقت بھکر میں زمین کی فی ایکڑ قیمت 4 لاکھ روپے سے زائد تھی۔
گویا ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی زمین کو اٹھارہ لاکھ ظاہر کر کے ٹیکس بچایا گیا۔ اسی زمین کی مالیت کپتان صاحب نے الیکشن کمیشن میں 42 لاکھ روپے ظاہر کی۔ یہ صریحاً ٹیکس چوری اور الیکشن کمیشن کو غلط اثاثے ظاہر کرنے کا کیس ہے جس کی بنا پر الیکشن کمیشن خان صاحب کو نااہل بھی قرار دے سکتا ہے کیونکہ پیپلز ایکٹ 1976 کے مطابق اگر کوئی شخص بدعنوانی کے کاموں میں ملوث ہو یعنی ایسے غلط گوشوارے ظاہر کرتا ہے جن میں تعلیم، اثاثے اور واجبات کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو اسے بطور سزا نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

حیرت ہے کہ ہمیں خان صاحب کی سیاسی و معاشرتی زندگی میں سوائے جھوٹ اور ”یوٹرن“ کے کچھ نظر نہیں آتا۔ 2012ء میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں خان صاحب نے کہا کہ انھوں نے بنی گالہ میں 300 کنال زمین کے حصول کے لیے لندن میں اپنا ایک فلیٹ بیچا، جمائما خاں نے طلاق کے موقعے پر انھیں ایک فلیٹ گفٹ کیا، وہ بھی بیچ دیا گیا ، کچھ رقم جمائما خاں نے ادھار دی اور اس طرح سے وہ بنی گالا کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
قوم نے توخاں صاحب کے اِس جھوٹ پراعتبار کرہی لیالیکن اسی شام جمائما خاں نے ٹویٹ کیا کہ اس نے عمران خاں کو نہ تو کوئی فلیٹ دیا اور نہ ہی کوئی رقم ادھار دی۔ 1987ء میں عمران خاں نے وزیراعلیٰ پنجاب (میاں نوازشریف) کو پلاٹ کے حصول کے لیے ایک درخواست لکھی جس میں حلفاً اقرار کیا گیا کہ ان کے پاس کوئی پلاٹ ہے نہ مکان اور نہ ہی زمین اِس لیے اُنہیں گھر بنانے کے لیے اُنہیں پلاٹ الاٹ کیاجائے ۔ خاں صاحب کوپلاٹ تو الاٹ کر دیا گیالیکن اب یہ انکشاف ہورہا ہے کہ خاں صاحب تو 1983ء میں ہی آف شور کمپنی (نیازی سروسز لمیٹڈ) کے مالک بن چکے تھے۔
آج جب پارلیمنٹ میں میاں نوازشریف باتوں باتوں میں سب کچھ کہہ گئے توخاں صاحب کی تلملاہٹ دیدنی تھی ۔ اُن کے پاس پارلیمنٹ میں توکہنے کے لیے کچھ نہیں تھا لیکن پارلیمنٹ سے باہر آکر وہ خوب گرجے برسے اورایک دفعہ پھروزیرِاعظم پرالزامات کی بوچھاڑ کردی۔ قوم سوال کرتی ہے کہ اگروہ سچے تھے تو پارلیمنٹ میں وزیرِاعظم کے سامنے اُن کی زبان زنگ آلود کیوں ہوگئی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com