ارضِ وطن کی پُکار

ہفتہ مارچ    |    پروفیسر رفعت مظہر

یومِ پاکستان پورے تزک واحتشام کے ساتھ گزر گیا۔صُبح کاآغاز توپوں کی سلامی سے ہوا،اسلام آباد میں تینوں مسلح افواج کی شاندارپریڈہوئی ۔پورے پاکستان میں ریلیاں بھی نکلیں جواِس عہد کی تجدیدتھی کہ ہم نے دھرتی ماں کے حصول کامقصد فراموش نہیں کیا ۔ لیکن اگرپاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ پرنگاہ دوڑائی جائے توہمیں حصولِ ارض وطن کا مقصد کہیں نظر نہیں آتا۔ لاالہ اللہ کی بنیادیں منہدم ہو چکیں اور لبرل ازم کے تاریک سائے چہار سو پھیل چکے۔
من کی کھوٹ اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ جابجا۔ قائداعظم نے کہا ”اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں بلکہ دو مختلف معاشی نظام ہیں۔ میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد بلکہ متصادم ہیں۔“ لیکن ہمارے عاقبت نااندیش سیکولر ذہن رکھنے والے دانش ور اِسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وہ تقسیمِ ہند کو محض ایک لکیر سمجھتے اور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے لیے واویلا کرتے رہتے ہیں۔ وہ توقائداعظم ہی نہیں علامہ اقبال کو بھی سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں حالانکہ قائد نے فرمایا ”ہم ایک ایسی تجربہ گاہ چاہتے ہیں جس میں اسلامی اصولوں کو آزمایاجا سکے “۔ حضڑٹِ اقبال توبقول ڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم تھے ہی قُرآن کے شاعر۔اقبال کااپنا فرمان ہے کہ
گر دلم آئینہ بے جوہر است
ور بحرفم غیرِ قُرآن مضمر است
روزِ محشر خوار و رسوا کُن مَرا
بے نصیب از بوسہ ٴ پا کُن مَرا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن و حدیث میں کہیں سیکولرازم، لبرل ازم یا کسی دوسرے ازم کی گنجائش ہے؟۔
اگر نہیں تو پھر یہ سیکولر دانش ور کس بنیاد پر قائداعظم اور علامہ اقبال کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں؟ ۔یہ عین حقیقت ہے کہ آمر پرویزمشرف کے دور میں ان سیکولر دانش وروں نے پَرپُرزے نکالنے شروع کیے کیونکہ وہ خود ”کھلاڈُلا“ شخص تھا، اس نے کتوں کے ساتھ تصاویر کھینچوا کر اور اپنے آپ کو اتاترک کی فکر سے متاثر بتا کر اقوامِ عالم پر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ لبرل ذہن رکھنے والا شخص ہے۔
پھر 9/11 کے بعد اس نے جس طرح امریکہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے قوم کو کَرنوں پیچھے دھکیل دیا وہ تاریخ ہے۔ اکبر بگٹی، غازی عبدالرشید، بے نظیر بھٹو کے قتل کا ملزم اور سنگین غداری کیس کا مطلوب اب دبئی جا چکا۔ نوازلیگ کا خیال ہے کہ ”خس کم جہاں پاک“ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اسے نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تھا۔
یہ سب کچھ تو رکھیے ایک طرف، سمجھ میں نہیں آتا کہ پیپلز پارٹی کس بنیاد پر مشرف کی روانگی کے خلاف جلسے اور ریلیاں منعقد کر کے احتجاج کر رہی ہے۔
بلاول زرداری کو بھی یہ پریشانی کہ اس کی ماں کے قتل کا نامزد ملزم ملک سے فرار ہو گیا۔ یہ سوال تو بلاول کو اپنے باپ آصف زرداری سے کرنا چاہیے جس نے پانچ سال تک ملک پر حکمرانی کی لیکن مشرف کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت تک نہ کی۔ زرداری صاحب کو ”مال“ بنانے سے فرصت ہی کہاں تھی جو وہ پرویزمشرف کی طرف دھیان دیتے۔
جب 2009ء میں سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کا کیس دائر کرنے کا حکم دیا تو پیپلزپارٹی نے بہانے طرازی شروع کر دی۔
اپنے دورِحکومت میں آصف زرداری تو کُجا، پیپلزپارٹی کا کوئی ایک شخص بھی مشرف کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں تھا۔ 2014ء میں سابق
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ مقتدر قوتوں اور پیپلز پارٹی کے مابین ڈیل ہو چکی تھی کہ اگرپرویز مشرف ایوان صدر خالی کرتا ہے تو اسے محفوظ راستہ دے دیا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ یوسف رضاگیلانی نے یہ اقرار بھی کیا کہ مقتدر قوتوں کی ایماء کے بغیر ایوانِ صدر خالی نہیں کروایا جا سکتا تھا۔
اس نے تو یہاں تک کہا کہ چونکہ ڈیل ہو چکی ہے اس لیے نوازلیگ کو بھی پرویزمشرف کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔
پیپلزپارٹی اپنی سیاسی چالیں چلتے ہوئے سڑکوں پر ہے اور اسے بے نظیر کے قاتل بھی یاد آ رہے ہیں۔ لیکن قوم کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں کہ اسے یہ تک بھی یاد نہ ہو کہ اُسی پرویزمشرف کو پورے پروٹوکول اور گارڈآف آنر دے کر ایوان صدر سے رخصت کرنے والی یہی پیپلزپارٹی تھی۔ بے نظیر کی شہادت کو ابھی تین دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ آصف زرداری کے حکم پر مخدوم امین فہیم مرحوم نے پرویزمشرف سے خفیہ ملاقاتیں شروع کر دیں ۔
پرویزمشرف ہی کی خواہش کے مطابق آصف زرداری نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ بے نظیر کی شہادت پر نوازلیگ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی تھی ۔ تحریک انصاف اورجماعت اسلامی پہلے ہی آمر مشرف کی موجودگی میں الیکشن میں حصہ لینے کو تیار نہیں تھیں۔ لیکن آصف زرداری کوتو مسندِ اقتدار تک پہنچنے کی جلدی ہی بہت تھی ۔ویسے بھی مخدوم امین فہیم کے ذریعے مشرف ،زرداری ڈیل ہوچکی تھی کہ اقتدار پیپلزپارٹی کوسونپ دیاجائے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد قاف لیگ کے کرتادھرتا چیخ اُٹھے کہ اُن کے ساتھ ”ہَتھ“ ہوگیا ہے ۔حصولِ اقتدارکے بعدآصف زرداری کی نظروں کا محورایوانِ صدربنا اوراسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت پرویزمشرف کوایوانِ صدرسے اِس شرط پررخصت ہونا پڑا کہ اُسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔
پیپلزپارٹی کے اربابِ اختیارنے اپنے دَورِحکومت میں پرویزمشرف کو”فری ہینڈ“ دیئے رکھالیکن جب نوازلیگ نے سپریم کورٹ کے حکم پرپرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کروایا تو پیپلز پارٹی کوبھی یاد آگیا کہ ”بِلا“ قابو میں آ گیا ہے اس لیے اب نوازلیگ اُسے بھاگنے نہ دے۔
یہی بِلا پیپلزپارٹی کے دور میں ”دودھ“ پی پی کرموٹا ہوتااور جابجا دندناتا رہا لیکن پیپلزپارٹی اُسے
کُھل کھیلنے کا موقع فراہم کرتی ہے کیونکہ ڈیل ہوچکی تھی ۔ویسے تو زرداری صاحب کاقول ہے ”وعدے قُرآن وحدیث نہیں ہوتے“ لیکن پرویزمشرف کے معاملے میں وہ اپنے عہدکے پابندرہے ،شاید”ڈَنڈے“ کاخوف ہو ۔اب اُسی پرویزمشرف کی روانگی پراحتجاج کرتی پیپلزپارٹی سڑکوں پر ہے ۔ہم اُسے کچھ کچھ نہیں کہہ سکتے سوائے اِس کے کہ ”شرم تُم کومگر نہیں آ تی“۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com