قِصّہٴ درد

منگل اپریل    |    پروفیسر رفعت مظہر

کُہن سالہ ”جوان“ محترم الطاف حسن قریشی نے ایک بار پھر محفل سجادی ۔موضوع تھا ”بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف اقدامات کا سدّ ِ باب“ َ۔ علمی وادبی اورسیاسی ومذہبی حلقوں میں قریشی صاحب کے احترام کایہ عالم ہے کہ وہ جس کسی کوبھی ”پائنا“ کے اجلاس میں بلاتے ہیں ،دوڑہ چلاآتا ہے ۔مخدوم جاویدہاشمی خصوصی طورپر ملتان سے تشریف لائے ۔اُنہوں نے کہا کہ وہ ملتان سے اتناطویل سفرکرکے لاہور نہیں آسکتے تھے لیکن جب قریشی صاحب کابلاوہ آیااور موضوع کاپتہ چلاتو وہ دوڑے چلے آئے ۔
اجلاس میں ایس ایم ظفر ،لیاقت بلوچ ،مجیب الرحمٰن شامی ،شمشاداحمد خاں ،احمر بلال صوفی ،میجرجنرل (ر)محمد جاوید ،حفیظ اللہ نیازی ،ڈاکٹرعمرانہ مشتاق اوردیگر بہت سے احباب شریک تھے ۔

(خبر جاری ہے)

اِس اجلاس کابنیادی مقصد بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کی نام نہاد جنگی جرائم ٹربیونلز کے ذریعے وحشت وبربریت سے بھرپور کارروائیوں سے قوم کوآگاہ کرنا اورمِل بیٹھ کراِس کے سدّ ِ باب کے لیے لائحہ عمل تیار کرناتھا ۔

نظامت محترم بھائی روٴف طاہرکے ذمہ تھی اورافتتاہی کلمات محترم الطاف حسن قریشی نے اداکیے ۔
یہ موضوع ایساخونچکاں کہ جس سے آج بھی لہو رِس رہاہے ، خون کی بوندیں ٹپک رہی ہیں۔ساڑھے چار عشرے گزرچکے لیکن سانحہ ”سکوتِ ڈھاکہ“ وقت کی دھول میں گُم نہ ہوسکا ۔مقررین کے جذبات عروج پرتھے اورسامعین کے بھی ۔سچ تویہی ہے کہ قریشی صاحب نے ایک دفعہ پھرہمارے زخموں کو کریدنے کی کوشش کی ،لیکن وہ مندمل ہوئے ہی کب تھے جو کریدنے کی نوبت آتی۔
جب وہ افتتاہی کلمات میں قِصّہٴ درد سنارہے تھے تومجھے وہ وقت یادآگیا جب پنجاب یونیورسٹی کے طلباء وطالبات یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں جمع تھے ،ہال کھچاکھچ بھراہوا تھا ،پھرشاعر کی دردبھری پُکاراُٹھی
پھول لے کر گیا ، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
تب ہال میں بیٹھے ہرنوجوان کی آنکھ اشکبار ہوئی ،لیکن اب تونسلِ نَوکو شاید اتنابھی پتہ نہ ہوکہ 16 دسمبرکو ڈھاکہ کے پلٹن میدان کی ٹھنڈی دھوپ میں ہماری عظمتوں کے تمغے کیسے نوچے گئے ،ملک دولخت کیوں ہوا اورمجرم کون تھا؟۔
میجرجنرل ریٹائرڈ محمد جاوید نے تویہ کہہ دیاکہ یہ شیخ مجیب الرحمٰن کی خباثت ،یحیٰی خاں کی حماقت اورذوالفقار علی بھٹوکی شرارت کانتیجہ تھالیکن بات اتنی مختصرتو نہیں۔پاکستان کودو لخت کرنے کے منصوبے توتشکیلِ پاکستان کے ساتھ ہی بننے شروع ہوگئے تھے اورپھر ہندولالے کی سازش کامیاب ہوئی ۔نریندرمودی نے توپچھلے سال بنگلہ دیش کے دَورے کے موقعے پراِس کانہ صرف برملااقرار کیابلکہ احساسِ تفاتر کے ساتھ اُس کی باچھیں بھی کھِلی جارہی تھیں۔
اُدھرہم ہیں کہ تحائف کے تبادلوں میں مصروف اورامن کی آشاکا ڈھول گلے میں لٹکا کربجاتے ہی چلے جارہے ہیں۔قریشی صاحب نے اچھاکیا جونسلِ نَوکو سمجھانے اورحکمرانوں کوشرم دلانے کے لیے یہ سمینار منعقدکیا ۔ماحول جذباتی تھا جس میں مقررین کا”فوکس “ حسینہ واجدکی وحشتوں کے سدّ ِ باب کالائحہ عمل تیارکرنے کی بجائے ”سقوطِ ڈھاکہ“ ہی رہا۔بہرحال زخم توہَرے ہوئے ،ہندولالے کی خباثتوں کا پتہ توچلا ۔
ہوسکتاہے کہ قریشی صاحب کی اِن کاوشوں کا ثمر ،کبھی نہ کبھی ، کہیں نہ کہیں مِل ہی جائے ۔
اجلاس میں محتر م جاویدہاشمی کاخطاب جذبات سے لبریزتھا ۔وہ کہہ رہے تھے کہ شیخ مجیب الرحمٰن تو ”را“ کاایجنٹ تھا لیکن بنگلہ دیشی عوام کی غالب اکثریت آج بھی پاکستان سے محبت کرتی ہے ۔حکمرانوں کو چاہیے کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ عالمی عدالتِ انصاف میں لے کرجائے ۔مجیب الرحمٰن شامی نے کہاکہ حکومت عالمی برادری کے سامنے بنگلہ دیش کے مظالم پیش کرے ۔
بجا ،سوال مگریہ کہ عالمی عدالت میں پہلے کسی کابھلا ہواہے جو اب ہوگا؟۔ بھارت نے پاکستان کو دولخت کرنے میں جو کردار اداکیا اورجس کااُن کے موجودہ وزیرِاعظم نریندرمودی نے ہی نہیں ،اندراگاندھی نے بھی یہ کہتے ہوئے بَرملا اقرارکیا کہ ”ہم نے دوقومی نظریے کوخلیجِ بنگال میں دفن کردیا“۔ تب بھی اقوامِ عالم کوشرم نہ آئی اورنہ اب آئے گی ۔محترم لیاقت بلوچ نے کہاکہ اِس مسٴلے پر سینٹ اور قومی اسمبلی میں بات ہونی چاہیے۔
ہم کہتے ہیں کہ بھائی ! سینٹ اورقومی اسمبلی تواپنی کرپشن چھپانے کے لیے نِت نئے طریقے ڈھونڈنے میں مصروف ہے ۔اُس کے پاس بھلا اتنی فرصت کہاں۔ احمربلال صوفی نے فرمایا کہ بنگلہ دیش میں قائم کرائم ٹریبونلز کو انٹرنیشنل ٹریبونلز نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اُنہیں کسی بھی عالمی ادارہٴ انصاف نے قبول نہیں کیا ۔سچ تویہی کہ کوئی عالمی ادارہٴ انصاف قبول کرے یانہ کرے ،اب تواِس دَورِجدید میں صرف جنگل کاہی قانون چلتاہے اورجرمِ ضعیفی کی سزاتو مرگِ مفاجات ہی ہے ۔
دُکھ ہے توصرف اتناکہ ایٹمی پاکستان کے حکمران بھی کسی اَن دیکھے ، اَنجانے ضعف میں مبتلاء ہوکر سُکڑے سِمٹے بیٹھے ہیں ۔کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی اُن میں ہمت ہے نہ سَکت ۔شمشاداحمد خاں نے کہا کہ بھارت اپنے ”را“ کے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مکمل جنگ کااعلان کرچکا ۔اب ہمارے حکمرانوں کو بھی مودی کی محبت کے سحر سے نکل کر قوم کودشمن کے خلاف متحدکرنا چاہیے ۔عرض ہے کہ ہم توعشروں سے ”را“ کے ذریعے بھارتی ریشہ دوانیوں کا سُنتے چلے آرہے ہیں لیکن کسی بھی حکمران نے پہلے کبھی اِس کا سدّ ِ باب کرنے کی کوشش کی نہ موجودہ حکمرانوں سے اِس کی توقع ۔
”را“ کاحاضرسروس آفیسر کلبھوشن یادیو گرفتار ہوچکا ،اُس نے اپنی خباثتوں کا اقراربھی کرلیا لیکن ہوگا کیا؟۔ کچھ دنوں تک شوراُٹھے گا، پھرحکمران بھی کلبھوشن یادیو کوبھول جائیں گے اورقوم بھی۔ ڈاکٹرعمرانہ مشتاق کامقالہ پُرمغز بھی تھااور چشم کُشابھی لیکن ہمیں اب حسابی کتابی باتیں چھوڑ کرمیدانِ عمل میںآ نا ہوگاکہ اِسی میں فلاح کی راہ نکلتی ہے ۔سمینارکے آخرمیں اعلامیہ جاری کیاگیا جس میں طے پایاکہ پاکستانی شہریوں کی طرف سے ایک یادداشت تیارکی جائے گی جس میں بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف اقدامات ختم کرنے کامطالبہ کیاجائے گااور پاکستان کی نمایاں سیاسی ،سماجی شخصیات اور دانشوروں پر مشتمل ایک وفداو آئی سی ،یو این او ،بنگلہ دیش ،امریکہ اورمسلم ممالک کے سفیروں سے مِل کراُنہیں یہ میمورینڈم دے گاتاکہ بنگلہ دیش میں جاری پھانسیوں کے عمل کوروکا جاسکے ۔
ہم محترم الطاف حسن قریشی کی اِن کوششوں اور کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہوئے دُعاگو ہیں کہ وہ اپنے مقصدمیں کامران ہوں کہ حکمرانوں سے توہم بہرحال مایوس ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com