بلاول بھٹو:بغاوت نعروں سے نہیں عمل سے کرنا ہوگی!

جمعہ اپریل    |    قمر الزماں خان

26مارچ کوصادق آباد سے ستائیس کلومیٹر شمال کی طرف، جمال دین والی نامی قصبے کے سامنے اکھٹا ہونے والا ہزاروں افراد کا مجمع غفیر لمبے عرصے کے بعد”پرجوش“ سیاسی اجتماع تھا۔بلاشبہ یہ تعداد اتنی تھی کہ ’اعداد وشمار‘ کے مبالغے کی گنجائش موجود تھی۔ یہ ملا جلا مجمع تھا،پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم تھامے، ڈھول کی تھاپ پر جھومر کھیلتے اور نعرے لگا نے والے ان نوجوانوں،بوڑھوں ،عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موٹر سائیکلوں، ٹرالیوں اور اپنی سواریوں پر جلسہ گاہ تک پہنچی تھی جبکہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے چیئرمین اور وائس چیئرمینوں کے زیر انتظام سینکڑوں بسوں،ویگنوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے بھی لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچایا گیا تھا۔

(خبر جاری ہے)

ضلع رحیم یارخاں میں اتنے بڑا جلسے کی مثال دینا مشکل ہے، اس بڑے جلسے کا موازنہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی کسی ماضی کے جلسے سے کیا جاسکتا ہے۔بالخصوص ،حالیہ سیاسی جمود اور سیاست سے عوام کی بے زاری کے ’معروض‘ میں اتنے لوگوں کا جمع ہونا یا کیاجاناحیران کن سیاسی ایونٹ تھا۔یہ جلسہ کئی حوالوں سے منفرد تھا۔جلسے میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کا خطاب بھی ماضی کے جلسوں میں کی گئی تقاریر سے یکسر مختلف تھا۔
بلاول بھٹونے اپنی تقریر میں شریف برادران پر تابڑ توڑ حملے کئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی ”فرینڈلی اپوزیشن “کی دیرینہ پالیسی سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتے تھے۔اسی طرح سندھ کے شوگر مافیاخاندان(زرداری) سے تعلق ہونے اور کئی شوگرملزکے مالک‘ مخدوم احمد محمود کی میزبانی کے باوجود بلاول بھٹونے شوگر ملز مالکان کو دی جانے والی سبسڈی پر تنقید کی اور کسانوں کے استحصال کو اپنی تقریر کا اہم موضوع بنائے رکھا۔
اسی طرح بلاول نے اپنی مختصر سی سیاسی زندگی میں کی جانے والے تقاریر کے برعکس کچھ نئے نقاط پر بات کی جو ان کے ماضی کے سیاسی نقطہ نظر(جس میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی تھی) سے یکسر مختلف تھا۔۔ مثلاََ انہوں نے کہا کہ ”یہ نظام غریب کو غریب اور امیر کو امیر بناتا ہے“،انہوں نے جلسے میں موجودہ ہزاروں کسانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”محنت آپ کرتے ہیں اور فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے“اسی طبقاتی لائین پر ہی بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ”میں تخت لاہور اور غریب دشمن نظام کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں،اسکی سزا کا بھی پتا ہے،پاکستان میں غریب کے حقوق کے لئے کھڑا ہونے والوں کو قتل کردیا جاتا ہے“ ۔
انہوں نے کہا کہ ” ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکو غریبوں کی جنگ لڑنے پر ماردیا گیا“۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ”ہماری لڑائی مظلوموں سے نہیں حکمرانوں،غاصبوں اور مفادپرستوں سے ہے“۔انہوں نے مزید کہا کہ”پاکستان کی اکثریت سیکنڈ کلاس زندگی گزاررہی ہے“۔اگلے دن ستائیس مارچ کو جمال دین والی میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب بلدیاتی نمائندگان اور پارٹی عہدے داران سے مخاطب ہوتے ہوئے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹونے کہا کہ کل کے جلسے میں ،میں نے جو سیاسی پروگرام آپ کے سامنے پیش کیا ہے اس کو عوامی رابطے کے ذریعے ملک بھر میں پھیلادیں تاکہ ہم پارٹی کو پنجاب سمیت ملک کی مضبوط پارٹی بناسکیں۔
اسی میٹنگ میں انہوں نے اپنی ماضی کی ”مفاہمت “ کی پالیسی کے جواب میں نواز حکومت کی طرف سے منفی جواب دئے جانے پر بھی تنقید کی۔اگرچہ بلاول بھٹو نے جلسے میں موجود سرائیکی قوم پرستوں کی طرف سے ”سرائیکی قوم پرستی“ پر مبنی نعروں اور مطالبوں کو یکسر نظر انداز کیا مگردوسری طرف جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور شریف برادران کی طرف سے لاہور کے ایک چھوٹے سے حصے پر وسائل خرچ کرنے کے معاملے کو بنا کرخوب تنقید کی۔
بلاول بھٹو کی رومن انگلش میں لکھی گئی تقریر جسکے متن سے (انگریزی میں سوچنے اور بولنے کی وجہ سے )انکی ذہنی مطابقت تھی یا نہیں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، مگر کچھ تضاد عیاں ہوتے ہیں ۔ مثلاََ انہوں نے جمال دین والی جلسے میں طبقاتی پوزیشن لی ،نہ صرف یہ واضع نہیں کیا کہ جس نظام کے تحت غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے ،اس کا خاتمہ کیونکر کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کا متبادل کیا پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی پروگرام میں طے کیا گیا ”سوشلزم نظام ‘ ‘ہے یا وہ آدھا سچ بول کر اور لوگوں کے جذبات سے کھیل کر‘ زوال پزیر پارٹی کی مردہ روح میں نئی جان پھونکنے کے لئے ایک ہتھکنڈے کا استعمال کررہے تھے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے شریف برادران پر تو بہت تنقید کی جو اسی’ ظالمانہ نظام‘ کے حقیر سے کارندے ہیں، جس نے بقول بلاول بھٹو ”پاکستان کی اکثریت کو سیکنڈکلاس زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے“، مگر انہوں نے اس نظام کے ’بالائی حصے‘ یعنی امریکی سامراج ،عالمی مالیاتی اداروں اور استحصالی بنکوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، یہاں پر پھر مفاہمت کی سیاست انکی سوچ(اگر تقریر انکی اپنی تھی تو) پر غالب آگئی۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے عوام دشمن ،جمہوریت مخالف کردار اور علاقائی عدم استحکام کی پالیسوں اورپاکستان کے مقتدر حلقوں کی طرف سے جاری پراکسی وارز کے اقدامات پر انہوں نے شائد اس لئے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا کہ ماضی قریب میں پیپلز پارٹی کی وفاق میں اور تسلسل کے ساتھ سندھ میں حکمرانی کرنے والے انکے پارٹی راہنماؤں،والد گرامی اور پھوپھی جان محترمہ پر لاتعداد کرپشن چارجز اور غیر قانونی اقدامات کے الزمات کی تلوار لٹک رہی ہے اورانکے خلاف ’یک طرفہ کاروائیوں‘ کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کاسرگرم کردار ہے۔
۔ اسی طرح بلاول نے پاکستانی عوام کی جس کسمپرسی اور سیکنڈ کلا س شہری ہونے کا تذکرہ کیا اسکی مزید وضاحت یا اسکے حل پر بلاول نے کوئی بات نہیں کی۔ بلاول بھٹو جن کا تعلق خود پاکستان کے حکمران طبقے سے ہے ،کو واضع کرنا ہوگا کہ اگر انہوں نے حکمران طبقے اور موجودہ سامراجی نظام کے خلاف لڑنے کا عندیہ دیا ہے تو ان کو خود بھی اپنے طبقے کے (سرمایہ دارانہ )مفادات کو چھوڑکر محنت کش طبقے کی جدوجہد میں شامل ہونے پڑے گا۔
مگر اس سے پہلے ان کو اپنے والد اورانکے ساتھیوں کے سیاسی فلسفے،مفاہمت اور اسی قسم کی سامراجی ہتھکڑیوں سے خود کو الگ کرنا ہوگا۔ان کو کھلے دل اور ذہن سے اپنی ماضی کی حکومت کے جرائم‘ جن میں لوٹ مار اور بدعنوانی کے علاوہ محنت کش طبقے کے خلاف مسلسل حملے کئے گئے تھے کا اعتراف کرکے ،مستقبل میں اس گھناؤنے ماضی کا تدارک کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو کو اپنے نظریات کا درست طور پر تعین کرنا ہوگا تاکہ وہ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں جو ان کی ماضی کی مختلف سیاسی پوزیشنز میں نظر آتی ہیں۔
بلاول بھٹونے نواز شریف کی نج کاری پالیسی پر کڑی تنقید کی مگر ان کو سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے کی جانے والی اسپتالوں کی نج کاری پالیسی کو رکوانے کے لئے جدوجہد کا آغاز کرکے اپنی نواز حکومت پر تنقید کو درست ثابت کرنا ہوگااور ساتھ ہی گیلانی اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں کی گئی نجکاری پر قوم سے معافی مانگنا ہوگی۔ بلاول کو واضع طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ وہ مستقبل میں نجکاری جیسی مزدور،ملک اور قومی معیشت مخالف پالیسی کو کسی طور پر اختیار نہیں کریں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور اپنے نانا کے سیاسی فلسفے اور انقلابی پروگرام کو اپناتے ہوئے تمام نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیں گے اور ان تمام غلطیوں اور خامیوں(سرمایہ داری نظام کو برقرار رکھنے ،ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑ کر غیر ضروری طور پر چھوٹے چھوٹے یونٹس کو نیشنلائیز کئے جانے) پر بھی قابوپائیں گے جو بھٹو دور میں اداروں کوقومیانے کی پالیسی میں موجود تھیں۔
اسی طرح بلاول بھٹو کو اپنی نئی سیاسی زندگی کا آغاز ہی سندھ کی پیپلزپارٹی کی حکومت پر اپنے نئے سیاسی فلسفے(جس کا جمال دین والی جلسے میں اعلان کیا گیا ہے) کے عملی اطلاق سے کرنا ہوگا۔جیسا کہ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جنوبی پنجاب میں جانوراور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پیتے پیتے ہیں ۔ یہ منظر ہمیں تواترسے سندھ کے طول وعرض میں نظر آتا ہے۔ خاص طور پر طویل صحرائی پٹی کی انسانی آبادیاں کئی سوسال پہلے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہی علاقوں میں رہنے والی ہندو آبادیوں کو پینے کے پانی سمیت مطلوبہ خوراک تک میسر نہیں ہے۔اسی فیصد سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور نومولو د بچوں کی اموات کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ بلاول کی طرف سے ہولی کی مناسبت سے خیر سگالی بیانات اور پاکستان میں ہندو صدر بنائے جانے کے مطالبات درست ‘مگر عام ہندو شہری کو انسانی سہولیات مہیا کیا جانا سب سے ترجیحی عملی اقدام ہوسکتا ہے ،جس کو کسی مطالبے کی بجائے خود بلاول اپنی سندھ حکومت کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح سندھ میں ”حکمران طبقے“ سے نجات اور ”عوام کی حکمرانی“بلاول کے لئے دوطرح سے ٹسٹ کیس بن سکتی ہے۔ایک تو ان کے قول وفعل میں تضاد کے تاثر کی نفی ہوگی اور انکی نعرہ بازی کو ”نئے دھوکے“کی بجائے سنجیدیگی سے لیا جائے گا،دوسرا سندھ میں ان کے انقلابی اقدامات کے بعد ان کو پنجاب سمیت ملک کے دوسرے صوبوں میں عوامی حمائت حاصل کرنے اور آئندہ الیکشن میں کلین سویپ کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔
حتہ کہ اگر وہ سندھ میں اپنے ان نظریات کاعملی مظاہرہ کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے جمال دین والی میں اپنی تقریر کے ذریعے کیا ہے تو پھر ان کو ”شریف برادران“ کی عوام دشمن اور متعصب حکومت کو اکھاڑنے میں کسی قسم کی دقت نہیں ہوگی۔ بلاول بھٹو کو یہ توبخوبی معلوم ہی ہوگا کہ حکومتوں کی تبدیلی اور اقتدار کا حصول نظام کی تبدیلی نہیں ہوا کرتا اورنہ ہی ان تمام مسائل اور مصائب کا حل اس نظام میں رہتے ہوئے ممکن ہی ہے۔
البتہ بلاول نے جس خطرے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” غریب دشمن نظام کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں،اسکی سزا کا بھی پتا ہے،پاکستان میں غریب کے حقوق کے لئے کھڑا ہونے والوں کو قتل کردیا جاتا ہے“ ۔انہوں نے کہا کہ ” ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکو غریبوں کی جنگ لڑنے پر ماردیا گیا“یہ خدشہ درست ہے مگر غیر واضع اور مبہم نظریات کی صورت میں اس خطرے کے امکانات اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
ان خطرات پر ایک ہی طرح سے قابو پایا جاسکتا ہے وہ طریقہ ہے متذبذب نظریات کی بجائے واضع انقلابی اورطبقاتی پروگرام کا اعلان اور اس پر عمل درآمد ۔تب پاکستان کے کروڑوں مزدور اور کسان انقلابی قیادت اور طبقاتی جدوجہد کو آگے بڑھانے والوں کی حفاظت کا فریضہ خودسرانجام دیں گے۔مگر دونوں متحارب اور متضاد طبقات کو ایک ساتھ لیکر چلنے کی آرزو اور دشمن طبقات کے مفادات کوایک ہی وقت میں تحفظ دینے کی صورت میں وہ” سپارکنگ“ ناگزیر ہے جو جان لیو ا ثابت ہوتی ہے۔
اس صورتحال پر سب سے خوبصورت تجزیہ خود بلاول کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کا ہے جو انہوں نے موت کی کوٹھری میں بیٹھ کر کیا تھا ۔انہوں نے کہا تھاکہ ”میں نے ملک کے شکستہ ڈھانچے کو جوڑنے کے لئے دومتضاد مفادات کے حامل طبقات میں آبرومندانہ مصالحت(حالیہ دورمیں لفظ مفاہمت استعمال کیا جارہا ہے )کرانے کی کوشش کی تھی ،مگر موجودہ فوجی بغاوت(5جولائی1977ء) ثابت کرتی ہے کہ مختلف مفادات کے طبقات میں مصالحت ایک یوٹوپیائی خواب ہے۔
اس ملک میں ایک طبقاتی کشمکش ناگزیر ہے جس میں ایک طبقہ برباد اور دوسرا فتح یاب ہوگا“(اگر مجھے قتل کیا گیا صفحہ نمبر55)۔بلاول بھٹو کے لئے یہ کوٹیشن ہی روشنی کی قندیل ہے اور جیسے بلاول نے جمال دین والی کی تقریر کے آخر میں کہا تھا کہ جب بغاوت ہوگی تو پھر تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے ،پھر اٹھے گا انا الحق کا نعرہ اور راج کرے گی خلق خدا ۔مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی نعرہ بازی ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کی قیادتوں کی طرف سے کی جاتی رہی ہے ،مگر انہوں نے ہمیشہ انقلابی نعرہ بازی اور طبقاتی تضاد کو اجاگر کرکے پھر اسی غاصبانہ، طبقاتی اور استحصالی نظام کا حصہ بننے کا فیصلہ کرکے متعدد اقتدار حاصل کئے اورپاکستان کے کروڑوں محنت کشوں ،محروموں اور غریبوں کو دھوکہ دیا ہے۔
یہ کیسے ثابت ہوگا کہ بلاول کے موجودہ خیالات محض نعرہ بازی ہے یا کوئی سنجیدہ نقطہ نظر؟ کیا وہ تاریخ کی وہ ذمہ داری نبھانے کے لئے تیار ہیں جس کا وعدہ انہوں نے اپنے جمال دین والی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے؟ بغاوت کا نعرہ بلند کرنا آسان کام ہے مگر بغاوت اگر نظام سے کرنی ہے تو پھر سب سے پہلے بلاول کو اپنے ماضی (پیپلزپارٹی کی حکومتیں اور حکمران طبقے سے مفاہمتی پالیسی )سے بغاوت کرکے اپنی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔پیپلز پارٹی کے اڑتالیس سالوں کی تاریخ ،عوام کی جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے بعد اسی فرسودہ،عوام دشمن نظام سے سمجھوتوں کے تسلسل کے بعد اب محض لفاظی سے لوگوں کو دھوکہ دینا ناممکن ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com