ناکام معیشت کے مفروضوں کا بجٹ

پیر جون    |    قمر الزماں خان

پہلے پہل تو صرف دانشور اور ماہرین ہی کہا کرتے تھے مگر اب سڑکوں اور بازاروں میں بھی یہ بات عام ہے کہ جس مملکت کو اپنی کل آبادی کا (مردم شماری نہ ہونے کے سبب )وثوق سے علم نہ ہو،اسکے اعداد وشماربے وزن اور بے اعتبارے ہوتے ہیں۔نہ صرف معیشت کی نمو کے اندازے ہوائی ہیں بلکہ تمام تخمینے بھی تخیلاتی ہی ہوسکتے ہیں۔میڈیا پر پاکستان کی کل آبادی 22کروڑ بتائی جاتی ہے جبکہ وزارت خزانہ کے تمام تخمینے 18.5کروڑ افرادکے مفروضے پر مشتمل ہیں ۔
گویا اعداد وشمار اور تمام اہداف کا تعین کرتے ہوئے ساڑھے تین کروڑ افراد کو شعوری طور پر ہذف کردیا گیا ہے۔ اسی طرح غیر حکومتی ماہرین معاشیات کے مطابق گزشتہ مالی سالوں کے معیشت کی شرح نمو کے اعداد وشمار غیرحقیقی ہیں،انہیں وزیر خزانہ کے دباؤ پر تبدیل کیا گیا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

وزیر خزانے کے بیان کردہ2014-15میں 4.7فی صد کی بجائے شرح نمو 3.1فی صد رہی ہے ،جبکہ اسکے حصول کا ہدف مجموعی داخلی پیداوار(GDP)کا 5.5فی صداضافہ تھا۔

یہ بہت بری اور خوفناک صورتحال ہے۔ مبالغہ آمیزی پر مبنی اعداد وشمار سے سیاسی مقاصد تو شائد کچھ لمحوں کے لئے حاصل کئے جاسکتے ہیں، مگر خود ساختہ اعداد سے معیشت میں بہتری کی بجائے زیادہ ابتری ہونا یقینی ہے۔ اسی طرح گزشتہ دوسالوں کے گروتھ ریٹ میں بھی حسب منشاء اضافہ کرکے پیش کیا گیا تھا۔ان مبالغہ آمیز اعداد وشمار کے باوجود ‘حکومت اپنے طے کردہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
پاکستان زرعی ملک ہے ۔کل آبادی کا دوتہائی حصہ زراعت سے منسلک ہے ، کل داخلی پیداوارمیں 19.8 صد حصہ زراعت کا شعبہ شامل کرتا ہے،جبکہ روزگار کی فراہمی میں زراعت کا حصہ 42.3فی صد ہے۔ اقتصادی سروے کی طرف سے جاری کردہ موجودہ معاشی اعداد وشمار کے مطابق زراعت کے شعبہ میں مجموعی طور پر0.5فی صدمنفی نمو اور نقد آور فصل کپاس کی پیداوار میں کمی 28فی صد رہی۔کپاس کی پیداوار میں کمی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کی پیش بندی کہیں نظر نہیں آتی۔
بجٹ 2016-17ء میں زراعت کی بحالی کے لئے جو دعوے کئے گئے ہیں ان سے زراعت کی بحالی ممکن ہی نہیں کیوں کہ محض یوریا کھاد کی قیمت میں چارسوروپے کمی کرکے پیداواری لاگت کو مطلوبہ لاگت تک کم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔یوریا اور ڈی اے پی کی قیمت غیر ضروری حد تک بڑھائی گئی ہے ۔اگر حکومت زراعت کو بحران سے بچانا چاہتی تھی تو دونوں کھادوں کی بوری کو ایک ہزار روپے سے کم کی قیمت پر لاکر انکے نرخ جامد کرنا چاہئے تھا۔
اسی طرح جعلی،غیر معیاری مگر مہنگی ترین کیڑے مار ادویات کی کوالٹی اور قیمت کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ زراعت کومحض بجٹ کے ذریعے نہیں بلکہ زرعی پالیسی کے ذریعے درست سمت پر لانے کی ضرورت ہے۔ٹیوب ویل کے فی یونٹ نرخ ابھی بھی زیادہ ہیں۔کپاس والے علاقوں میں کماد کی کاشت پر پابندی لگائے بغیر کپاس کی فصل کی پیداوار کو ماضی کی سطح پر لانا کافی مشکل ہے۔زرعی پیکج خاصا مشکوک ہے اور اسکے لئے طے کردہ مالیاتی ذرائع کا تعین مفروضوں پر مبنی ہے۔
زرعی شعبے کے کروڑوں زرعی غلاموں،بیلداروں،ملازمین اور چھوٹے کاشتکاروں کے لئے موجودہ بجٹ کسی قسم کی کشش کا حامل ہے اور نہ ہی ان کو مخاطب کرکے کسی قسم کی مراعت کا اعلان کیا گیا ہے۔جاگیرداروں کے لئے کام کرنے کسان تنظیموں کے مطالبات کی طرح بجٹ 2016-17ء کا مخاطب بھی جاگیر دار اور بڑا زمیندار ہی ہے۔ بے روزگاری میں کمی کے دعوے بھی غیر حقیقی ہیں ،کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہی معیشت نظر آنے والی کسی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوئی ہے جو اس قسم کے دعوے کئے جاتے،روزگار کی فراہمی سے حکومت کی مراد عارضی پراجیکٹس میں ملنے والی (بغیر سہولیات ، لیبر قوانین سے ماوراء )اورکم ترین اجرتوں والی عارضی ملازمتیں ہیں ،جن کو اجرتی غلامی کی بدترین شکل قراردیا جاسکتا ہے ۔
البتہ اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے ایک بات تسلیم کی ہے جو پچھلے سال تک 64فی صد آبادی کے غربت کی لکیر سے نیچے بسنے کا اعتراف ہے، مگر اس اعتراف کے بعد کا دعوی سفید جھوٹ ہے کہ غربت میں کمی کرکے اسکے بیس اور تیس فی صد کے درمیان لے آیا گیا ہے۔یہ معجزہ کس طرح رونماہوا؟ راوی مکمل خاموش ہے۔ قومی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے ۔ نہ صرف تمام پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکے بلکہ قومی بجٹ کی ترجیحات ایک غریب اور ترقی پذیر ملک سے کسی طور مناسبت نہیں رکھتیں۔
تجارتی پالیسی کا سفر مسلسل ناکامی کی طرف جاری ہے ،جسکی وجہ سے خسارہ (14.5ارب ڈالر)تاریخی طور پر بڑھ چکا ہے۔ بجٹ کا کل حجم بھی غیر حقیقی ہے جو آمدن کے ذرائع اور اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا،اخراجات اور آمدن میں خلیج ‘قرضوں کو اور زیادہ وسیع کرنے والی پالیسی ہے۔ غیر ملکی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ اور ریکارڈ قائم کرے گا۔کم سے کم شرح سود کے باوجود نجی شعبے کا قرضوں کا عدم حصول داخلی معیشت کی زبوں حالی بیان کرتا ہے دوسری طرف سرکارنے ملکی بنکوں سے قرضوں کا بھی ریکارڈ بنایاہے۔
نئے بجٹ میں بھی روزگار کی فراہمی کے لئے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی، حتہ کہ چینی سرمایہ کاری والے پراجیکٹس پر پاکستانی لیبر کے کام کرنے کا بھی کوئی معاہدہ نہیں کیا جاتا،صرف سخت محنت ،کم اجرت اور شدید استحصال والی(پیڑھی مزدور جیسی) مزدوری پاکستانی مزدورکے حصے میں آتی ہے۔ اسی طرح نواز لیگ کے پسندیدہ کام یعنی موٹرویز اور دیگر شاہراہوں کی تعمیرسے عارضی طور پر روزگار کے ذرائع پر ہی اکتفا کرتے ہوئے اس کو ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ملازمین کی تنخواہوں میں(رننگ بیسک پر 10فی صداڈھاک الاؤنس) اضافے کی شرح اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی نسبت کئی سوگنا کم رکھ کرتنخواہ دار ملازمین کو مایوس کیا گیا۔بغیر کسی قانونی دباؤ اور حصول کے طریقہ کارکے مزدورکی تنخواہ 14ہزارروپے رکھی گئی جو موجودہ مہنگائی کی کیفیت میں صرف ایک ہفتے کے(محتاط ) خرچ کے برابر رقم ہے۔نجی شعبے کے کروڑوں مزدوروں کو بجٹ میں یکسر نظر انداز کردیا گیا۔
بچوں کے دودھ پر ٹیکس لگانا ایک شرمناک قدم ہے جس کو فخریہ اندازمیں پیش کیا گیا۔اسی طرح ایک سو پندرہ ارب روپیہ اس مالی سال میں بھی بے نظیر انکم سپورٹ سکیم میں ضائع کیا جائے گا۔اس رقم کا اسی فی صد سے زیادہ حصہ خردبرد ہوجاتا ہے ،اگر ساری رقم بھی غریب بیواؤں کو ملے
تب بھی اس رقم سے غربت نہ دورہوسکتی ہے نہ ہی اسکا تدارک ہوسکتا ہے البتہ بھیک کی نفسیات پھل پھول رہی ہے اور معاشرہ غیر صحت مندانہ رجحانا ت کا شکار کیا جارہا ہے۔
بجٹ میں سارا زور سڑکوں اور موٹرویز کی تعمیر پر لگایا گیا ہے کیونکہ حکمرانوں کی یہ سب سے بڑی ترجیح اورمبینہ طور پر معاشی منفعت کا شعبہ ہے۔ پاکستان کی اسی فی صد آبادی مضر صحت پانی پی رہی ہے ،اسکے بارے میں’ معاشی بابو‘ چپ ہی سادھے رہے۔علاج اور تعلیم کو صوبوں کے سپرد کرنے کے بعد وفاق خود کو مبرا کرکے کھڑا ہے۔قرضوں کی معیشت سے کیسے جان چھڑائی جائے،بجٹ میں کوئی پیش بندی ہے نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جس معاشی راہداری کے چرچے ہیں اس میں سراسر چین کا اقتصادی فائدہ ہے مگر پاکستان کے بجٹ میں سے اس پر بھی سواسوارب روپے اور اسکی سیکورٹی کے لئے ڈیرہ ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ اسی طرح سبسڈی کی آدھی رقم کم کرنے سے مہنگائی غریب آدمی کے گرد اور شکنجہ کسے گی۔
وزیر خزانہ اورحکومت کے دعووں کے برعکس ‘ مستقبل کے حقائق خوفناک ہیں۔ماہرین کے مطابق 2019ء کا سال پاکستان کی معاشی ابتری میں فیصلہ کن ثابت ہوگا اور وہ معاشی بحران جو عالمی معاشی بحران کی نسبت (کالے دھن کے پاکستانی معیشت میں حاوی ہونے کی وجہ )سے اتنا شدید محسوس نہیں ہورہا ،اسکے اثرات (تاخیر کو پھیلانگتے ہوئے)زیادہ شدت سے پاکستانی سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
یہ وہی وقت ہوگا جبکہ سعودی عرب سے(ایک کروڑخارجی مزدوروں) اور دیگر خلیجی ممالک سے(75فی صد) تارکین وطن کی واپسی بھی بڑی تعداد میں ہوچکی ہوگی اور ترسیلات زر کے کل حجم میں سے چالیس فی صدی حصے میں کافی کمی آچکی ہوگی۔ منڈی کی معیشت اپنے بحران اور گہرے زوال میں ماضی کے پانچ سالہ منصوبوں کی تشکیل کی اہلیت بھی کھوچکی ہے،حکمران طبقہ اچھے خواب دیکھنے کی صلاحیت تک نہیں رکھتا۔ایک سال کے بجٹ کے بعد ہر ماہ تیل ،بجلی کی قیمتوں ردوبدل،اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کی روزانہ وار تبدیلی،ضمنی بجٹ اور خاص طور پر قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ماوراء اسمبلی مالیاتی پالیسیوں میں من مرضی کی تبدیلیاں معیشت پر حکومت کی گرفت اور بجٹ کی ایک سالہ حقانیت کی نفی کرتے ہیں۔
پھر پالیسیوں کا تعین انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز اور دیگر سامراجی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور مفادات کے تحت کرنا پاکستان اورپاکستانیوں کے مفادات کی یکسر نفی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی ملک سرمایہ داری نظام کے تحت چل رہا ہے تو پھر اسکے تمام وسائل کا رخ سرمایہ داروں(پاکستان جیسے سابق نوآبادیاتی ملک میں سامراجی طاقتوں) کی طرف ہوگا اور تمام مصائب اور مشکلات کا شکار عوام ہونگے۔موجودہ بجٹ لوٹ کھسوٹ کی قوتوں کے لئے بہت اعلی اور تاریخی ہی قراردیا جائے گاکیوں کہ اس کے تمام اہداف کا رخ انہی کی طرف ہے۔جبکہ خواہشاتی، مشکوک اور مفروضوں پر مبنی اعداد وشمارکی بنا پر دعووں اور توقعات کے نتائج مایوس کن رہنے کی ہی توقع ہے۔عوام کے لئے یہ بجٹ کوئی نوید لانے کی بجائے ان کی زندگی کو اور زیادہ مشکلات سے دوچار کرنے کا باعث بنے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

بجٹ


متعلقہ کالم