سامراجی مفادات کی خارجہ پالیسی کے نتائج

ہفتہ جون    |    قمر الزماں خان

مشیر خارجہ سرتاج عزیزنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اب کسی اور کی جنگ میں شامل نہیں ہونگے“۔قبل ازیں بھی مشیر خارجہ اور دفتر خارجہ سے بہت ہی دلچسپ بیانات جاری ہوئے ہیں ۔چند روز قبل سرتاج عزیز نے سینیٹ میں پاکستان کی خارجہ پالسی پر بریفینگ دیتے ہوئے کہ ’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ جب کبھی بھی امریکہ کو ہماری ضرورت پڑی تب ہمارے ملک میں فوجی حکومتیں تھیں، امریکہ کا ہمیشہ پاکستان میں آمروں سے تعلق رہا ہے‘۔
بھارت کے امریکہ اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا حوالہ دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا ’خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں جہاں امریکہ چین کو دبانے کی پالسی پر عمل پیرا ہے جس میں بھارت کا کردار اہم ہو سکتا ہے ، اس لیے ہمارا چین کے ساتھ تعلق بہت اہم ہے۔

(خبر جاری ہے)

وہ ہمارا اہم دوست اور ہمسایہ ملک ہے‘۔12جون کو پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سردمہری کی ایک وجہ پاکستان کی چین سے قربت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے۔


کسی اور کی جنگ میں پچھلے ستر سال شریک رہنے والے ملک کے مشیر خارجہ اب دوسروں کے پنگوں میں نہ پڑنے سے تائب ہونے کا اعلان بھی بڑے مضحکہ خیز اندا زمیں کیا، کہ وہ ایسا ”امریکہ کے چین کو دبانے “کے ردعمل میں کررہے ہیں۔پاکستانی خارجہ پالیسی کا محورومرکز اور قبلہ وکعبہ امریکی مفادات ‘رہے ہیں۔اب یہ معمولی (مگر عارضی) تبدیلی ’چینی مفادات‘کی وجہ سے ہورہی ہے۔امریکہ اور
۰چین کے اگرچہ باہمی گہرے اقتصادی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں ،مگرافغانستان اور پاکستان میں معدنیاتی دولت ہتھیانے، مختلف اقتصادی راہداریوں،جنوبی چین کے سمندروں میں مصنوعی جزیروں کی تعمیراوران پر فو جی تنصیبات کے حوالے سے اختلافات بھی موجود ہیں۔
سرمایہ داری نظام میں منڈیوں پر قبضوں کی کشمکش معمول کی بات ہے۔یہ کشمکش ‘تخریب اورجدل کی ہر شکل اختیار کرسکتی ہے۔امریکی مفادات کے لئے سرد اور گرم استعمال ہونے کی پاکستانی تاریخ کا آغازپاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کے سویت یونین کے متنازعہ ہوکر منسوخ ہوجانے والے دورے سے ہوا تھا۔1954ء کے ”جنوب مشرقی ایشائی ممالک “کے ’نظریاتی تحفظ ‘اور مبینہ طور پر ا س خطے میں سویت یونین کی توسیع پسندی کے خلاف’ سیٹو‘نام کے معاہدے اوراگلے سال ’بغداد پیکٹ ‘میں شمولیت‘ اس خطے سے تعلق نہ ہونے کے باوجود پاکستا ن کی پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے جیسی شرکت نے پاکستانی خارجہ پالیسی کی بنیادیں طے کردی تھی۔
یہ سلسلہ ایران میں برطانوی ،امریکی مفادات کے لئے قائم کردہ ’وسٹرن کمانڈ فورس‘ سے لیکر افغانستان میں امریکی مفادات کی طویل جنگ لڑنے اور مشرق وسطی میں باربار ’کرائے کے سپاہی‘ کا کردار ادا کے واقعات میں دکھائی دیتا آرہا ہے۔ اب مشیر خارجہ اور دفتر خارجہ کے کمال کے بیانات ہیں مگر بیانات کے متن میں امریکہ سے دوری مگر چینی مفادات کے لئے پاکستانی ریاست کے (خواہ مخواہ کے) حلیف بننے کی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکہ اور چین کے اختلافات میں پاکستان کے موجودہ کردار کی بہرحال قیمت پاکستانی عوام کو ہی چکانا پڑے گی ۔پاکستانی خارجہ پالیسی ‘ اگر یہ کوئی واقعی پالیسی ہے تو اسکا تعین عام طور پر بیرونی قوتیں اور انکے مفادات کے تحت ہی کیا جاتا رہا ہے۔
عمومی طورپر اگر حالات اچھے ہوں(اورامریکی وارسٹریٹیجی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کرداربنتا ہو)توپاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعین امریکی ماہرین کرتے چلے آئے ہیں اور انکے ہمراہ انکے پاکستانی عسکری حلیف اس پر تالیاں بجانے کا کام کرتے ہیں اور اگر حالات موجودہ کیفیت جیسے(خراب ترین) ہوں تو پھر خارجہ پالیسی کے ہمالیہ کو سر پر اٹھانے کا کام ’منتخب حکومت ‘کی بجائے ہمارے عسکری ماہرین کو اکیلے ہی کرنا پڑتا ہے۔
برے حالات میں بھی عسکری اسٹیبلشمنٹ خارجہ امور جیسے حساس شعبے کو سویلین کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لیتی۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں کوئی بھی آزاد خود مختار وزیر خارجہ رہا ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی’پاکستانی مفادات‘کی حامل رہی ہے۔ امریکی ضرورت پوری ہونے کے بعد کا دورانیہ ناراضگی کے ردعمل اور فرسٹریشن کا ہوتا ہے۔کیوں کہ’ امریکی پروجیکٹ ‘ختم ہونے کے بعد بھی پاکستانی حکمران طبقہ”پرانی نوازشوں“اور اسی قسم دلبری کا متمنی ہوتا ہے جب کہ تب تک دنیا بدل چکی ہوتی ہے۔
”پاکستان حکام“اپنے سادہ پن کی وجہ سے وقت کو ٹھہرا ہوا تصور کرکے گلشن کے کاروبار کو ہر حال میں چلانے کے متمنی ہوتے ہیں ۔ یہیں سے تضاذ شروع ہوجاتا ہے اور پھر اگلے ’امریکی پروجیکٹ‘ تک روٹھنے منانے کے نخرے چلتے رہتے ہیں۔خارجہ پالیسی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک گھسا پٹا جملہ سننے کو بہت ملتا ہے کہ ”ممالک کے مابین دوستی نہیں مفادات کا رشتہ ہوتا ہے“،مگر یہ حکیمانہ فقرہ پاکستان کے بارے میں سراسر غلط ہے۔
پاکستان کاایک ’طفیلی ریاست‘ ہونے کی وجہ سے (افراد اور گروہوں کو چھوڑ کر)بطور ریاست کوئی مفاد ‘ کلیدی نقطہ نہیں ہوتا،تعلقات میں مفاد ہمیشہ سامراجی ممالک کاہی ہوتا ہے۔ پاکستان کی ’کامیاب ‘خارجہ پالیسی کے دھاگے کے دوسری طرف ہمیشہ امریکہ کا مضبوط ہاتھ ہوتا ہے، مگر اس طرف اگر عسکری اسٹیبلشمنٹ کا بندھن ہو تو پتلی خو ب ناچتی ہے اور دام وصول کرتی ہے، مگر جونہی بندھن میں’ ’سویلین ناکارہ جسم“ بندھا ‘ادھر ہی دھاگہ درمیان سے ٹوٹنا شروع ہوجاتا ہے،دھاگہ کاٹنے والی ’گاٹی ‘ کا آہنی بدن اور امریکی یارانہ ہی کامیاب دوستی کا راز ہے ۔
’امریکی حکیم‘ کا منجن عسکری اسٹیبلشمنٹ بیچے تو بکتا ہے، نہیں تو مضر صحت قراردے دیا جاتا ہے۔کٹھ پتلی اور مالک کا یہاں رشتہ اطاعت اور ملکیت والا نہیں بلکہ اس میں داؤ پیچ ،اطاعتوں کے ساتھ بغاوتیں،فرمانبرداری کے ساتھ بدتمیزی بلکہ خودسری تک کے مظاہرموجودہیں۔نوازشریف نے بھارت کے ساتھ دوستی (یا ذاتی کاروبار)اورافغانستان میں عدم مداخلت کے خواب‘تعبیر کو مدنظر رکھے بغیر دیکھے تھے ۔
نتیجے میں کچی نیند سے اٹھ کر بدمزہ ہونا پڑا۔موجودہ سالوں میں جملہ خارجہ امور ہمارے وطن کے محافظوں کی طے کردہ پالیسوں پر ’کامیابی ‘ سے چل رہی ہے۔ ایرانی صدر کی آمد پر نہ تو ہمارے سعودی مہربان خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے طاقتور حلقے ‘ لہذامذہبی،ثقافتی،تہذیبی،تاریخی اور ہمسائیگی کے بندھن‘ ایک طوفان بدتمیزی سے ادھیڑ کر رکھ دئے جاتے ہیں اور’جاسوس کلبشن‘ کے چرچوں سے سارا ماحول گرما گرم کردیا جاتا ہے۔
اسی طرح افغانستان کو ایک علیحدہ ملک تسلیم کرنا گویا زہریلی چھپکلی نگلنے کے مترادف ہوچکا ہے ۔ایران سے نکل کرپاکستان آنے والے ملاں اختر منصورکو نشانہ بنا کر ایک طرح سے طالبان اور پاکستانی عسکری حلقوں کے گہرے تعلقات کو طشت از بام کرنے کی کوشش کی ہے۔اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد روپوشی اور امریکی حملے کے بعد یہ دوسری بڑی حزیمت ہے ۔یہ حقائق کو آدھا کرکے دیکھنے کی دانستا غلطی ہے،طالبان کے ظہور کو امریکی حکام نے پاکستان کی مددسے عمل میں لایا تھا۔
مگر جن کو بوتل سے باہر لاکر کنٹرول میں نہ رکھ پانے کی وجہ سے امریکی حکمت عملی بدل گئی اور 9/11سے پہلے ہی افغانستان پر یلغار شرو ع کردی گئی۔ پاکستانی حکام ‘امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ آنکھ بچا کر’اپنے علاقائی عزائم‘ کے لئے بھی ’حکمت عملی‘ بنالیتے ہیں،مگر بالا ہی بالا ان پر عمل درآمد کی کوششوں سے ’مسائل ‘ شروع ہوجاتے ہیں۔افغانستان کے حکمران امریکی ’پپٹ ‘ہیں مگر انکے ساتھ یہی رویہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ روا رکھے یہ افغانی گماشتہ حکمرانوں کو قبول نہیں ہے۔
اس طرح بطور خاص ”تذویراتی حکمت عملی“ افغان حکام کو کسی طو ر پر منظور ہے نہ ہی اب امریکی مالکان کو ۔یہ جھگڑا تو چل ہی رہا تھا مگر اب چین کے علاقے کے ’معدنیاتی ذخائیر‘ اور آبی راستوں پر تصرف سے نئے سامراجی تضادات بھڑک اٹھے ہیں۔طورخم پر کشیدیگی کے منشیات کی ترسیل ،سمگلنگ سمیت دیگر کئی وجوہات ہیں مگر امریکی پالیسی ساز اس علاقے کو ایک نئے انتشار کی طرف کامیابی سے دھکیلنے کی طرف بڑھ رہے ہیں ،جس کا تدارک ایسی سرحدوں پر ممکن نہیں ہے ،جن کو تاریخی طور پر متنازعہ ہونے کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
انگریز سامراج کی کھینچی ہوئی لائینوں سے پشتونوں کے خونی رشتوں کو تقسیم کرنا ممکن نہیں ہے۔
امریکی ڈرون اور دیگر اقدامات پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ چراغ پا ہے،مگر محدود ردعمل کی قدرت بھی ایک حقیقت ہے۔پاکستانی ریاست کے ایران کے ساتھ تعلقات کی خرابی کے پیچھے بھی امریکی پالیسی سازوں کا دباؤ رہا ہے ،اب امریکہ ،ایران تعلقات کے بدلاؤ کے بعد بھی پاکستان، ایران کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے میں ناکام رہا ہے ۔
سازشیں تو ہوتی ہیں،ان سازشوں کو ناکام بنانا ہی کامیاب خارجہ پالیسی کا کام ہوتا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کی بھارتیوں کے ساتھ اشتراک سے تعمیر کے پیچھے بھی ’پرانے دوستوں‘ کی کارستانی تعبیر کی جارہی ہے۔پاکستانی ریاست کے کارمختار اقتصادی اور معاشی تعلقات اور مفادات کے لئے معاشی ترقی،پیدواری سرگرمیوں میں بہتری لانے،اپنے ملک کے وسائل کو استعمال کرنے اور تجارتی تعلقات کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر پرکشش بنانے کی بجائے ’جذباتی انداز ‘اختیار کرکے پرانی وابستگیوں اور قربانیوں کو جتلاتے ہیں۔
جبکہ سامراجی دوست ہر قربانی کی قیمت ادا کردیے جانے کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔سامراجی نظام کے خلاف کسی انقلابی پوزیشن یا نظریاتی اختلاف کی غیر موجودگی میں اسی سامراجی نظام کا حصہ ہوتے ہوئے نظام پر حاوی قوتوں کی منڈیوں کی لڑائیوں میں عبداللہ دیوانہ بننے کی صورت میں نتائج کبھی اچھے نہیں نکلتے ۔اس پر سونے پر سہاگہ پاکستانی ریاست نے روزاول سے ہی پراکسی جنگوں کا طریقہ کاراپنا کر مستقل طور پر مشکلات کا رخ اپنی طرف کیا ہوا ہے۔
اس پالیسی کے بیک فائیر نے ہولناک نتائج دیے ہیں ۔ اپنی ہی خُومیں چلنے اوردنیا کو اپنی مرضی سے چلانے کی خواہش رکھنے والی خارجہ پالیسی چلانے کا ایک نتیجہ تو وہ تنہائی ہے جس کا اقرار کرنے کا حوصلہ پاکستان کے کسی حکمران حصے میں نہیں ہے ۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے چہار اطراف کی سرحدوں کے طویل ترین 6,774 کلومیٹر بارڈرز میں سے صرف 585کلومیٹر کا پاک ۔چین بارڈرکو پرامن قراردیا جاسکتا ہے۔
ورنہ چہار اطراف ماحول غیر دوستانہ اور زیادہ تر دشمنانہ ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ،اس کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ نتائج سے لگایا جاسکتا ہے اورذمہ داروں کا بھی۔پاکستان میں داخلی پالیسوں میں بھی سامراجی مفادات کا غلبہ ہوتا ہے اور خارجہ پالیسی بھی داخلہ پالیسی کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ایک کے بعد دوسرے سامراج کے مفادات میں بنائی جانے والی پالیسیوں کے نتیجے میں مشکلات کا نشانہ عوام بنتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com