زر اور زمین کا جھگڑا

جمعہ جولائی    |    قمر الزماں خان

کراچی میں تشدد،قتل وغارت گری اور ہمہ قسم کے جرائم چند ماہ سستانے کے بعد پھر سے سراٹھائے کھڑے ہیں۔ریاست اپنا آخری حربے یعنی عسکری طاقت کا استعمال کرچکی ہے۔سندھ پولیس پر عدم اعتماد کے بعدکراچی آپریشن کرنے والے ادارے رینجرز نے اضافی اختیارات بھی حاصل کئے ،جن میں غیر معمولی قسم کا اختیار یعنی نوے دن کا ریمانڈ بھی شامل تھا۔اس دوران بلامبالغہ بہت بڑی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ہزاروں جیل گئے،سینکڑوں مقابلوں میں مارے گئے،کچھ کو پھانسی بھی شائد دی گئی ،نوے روزہ ریمانڈکی زد میں آنے والے بھی کم نہیں ہیں،جنہوں نے لرزہ خیز جرائم کے اقدامات کے اعترافات کئے۔
سارے شہر میں سی سی ٹی وی کیمرو ں کی تنصیب کے بڑے بڑے ٹھیکے الاٹ کئے گئے۔ہر بنک کے اندر باہر بنکرز بنوکر سیکورٹی گارڈز بٹھا دئے گئے ۔

(خبر جاری ہے)

نجی سیکورٹی کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے۔ مگر ساری تدبیریں ایک طرف ،جرائم کی نئی لہر نے پھر سے سراٹھا کر ”آپریشن “ کے حل کو،حل تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔سارے وزراء بالخصوص وزیر داخلہ اور پھر عسکری قیادت کراچی شہر کے دورے کررہی ہے۔آپریشن کی ’حقانیت ‘پر اٹھائے گئے سوالات کو رد کرنے کی ہر کوشش کی جارہی ہے۔

دشمن کی کمر توڑنے کی بات کو ایک ہزار دفعہ دُہرایا جاچکا ہے،مگر یہ بزدل دشمن پھر سے کاری ضربیں لگانے لگا ہے۔چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کا اغوا اور امجد صابری کے لرزہ خیز قتل نے اس تمام دعووں کو مشکوک کردیا ہے جوپچھلے چند ماہ سے کئے جارہے تھے۔اسی اثنا میں دانا وبینا وزیر اعلی سندھ سائیں قائم علی شاہ (جن کا عام طور پر عمر اور اختیارات سے محرومی کی وجہ سے مذاق اڑایا جاتا ہے )نے بہت پتے کی بات کی ہے ۔
انہوں نے فرمایا ہے کہ”سارا جھگڑا زر اور زمین کی وجہ سے ہے “۔ انہوں نے ایساکہتے ہوئے اصل ضرب المثل کے ایک عنصر کو جان بوجھ کر بیان نہیں کیا تاکہ ایک نئی بحث کو سیاق وسباق سے ہٹ کراور مثال کی فلسفیانہ بنیادوں کو نظر انداز کرکے انکے گلے فٹ نہ کردیا جائے۔بہت سادہ سی بات جس کا پتا کارل مارکس سے بھی پہلے چلا لیا گیا تھا یہی تھی کہ جس کی نشاندہی قبلہ قائم علی شاہ نے کی ہے۔ فریڈریک اینگلزنے مورگن اور بہت سے دوسرے تاریخ کے ماہرین کی تحقیقات کا نچوڑ ”خاندان،ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز“نامی کتاب لکھ کر نکالا تھا۔
بادشاہوں کی فراست ،ذہانت اور حکمت عملی کی بجائے اینگلز نے”تاریخی مادیت “ کے اصولوں سے ’ملکیت اور اسکو تحفظ فراہم کرنے والی ریاست‘ کے بننے کی وجہ دریافت کرلی ۔قائم علی شاہ اپنی پارٹی کے نظریاتی انحراف کی وجہ سے صاف صاف بات نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انہوں نے اختصار اور احتیاط سے کام لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”کراچی میں امن وامان کا سب سے بڑا مسئلہ ’لینڈ مافیا‘ہے،زمین پر قبضے کی جنگ کی وجہ سے ہی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اور اسی باعث ہی دہشت گردی کو فروغ ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے لینڈریونیوکے ریکارڈ کو آگ لگ گئی۔پھرجب قبضہ مافیا کیخلاف کاروائی کا آغاز کیا تو پتا چلا کہ زمینوں پر قبضے میں بڑے بڑے لوگ ملوث ہیں“۔فساد کی پہلی قسم یعنی زر کی دو قسمیں ہیں،سفید یعنی سرکار کے علم والی دولت مملکت خداداد پاکستان میں بہت خفیف ہے جبکہ سرکاری کاغذوں سے باہرکالی دولت کا تعین 73فی صد کیا جاتا ہے۔ دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کے پاس 75ارب ڈالر ہیں جب کہ دروغ برگردن راوی‘ کہا جاتا ہے کہ کراچی میں موجودایک’ جیل برڈ‘کے پاس جمع کالی دولت 88ارب ڈالر ہے، جبکہ ایک ابھی تک جیل اور احتساب سے ’محفوظ‘ بلڈر کی دولت 38ارب ڈالر کے قریب ہے۔
پاکستان پر کل بیرونی قرضہ صرف 66ارب ڈالر ہے اور ہر قومی بجٹ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا مرہون منت ہوتا ہے۔اقتدارمیں موجود راہنماؤں کے پاس کس قدر دولت ہے ،اسکا کوئی حساب نہیں ہے اور ” مقدس گائے“ قسم کے اداروں کی کالی ،سفید دولت کا حساب رکھنا تو درکنار، اشارہ کرنا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔کراچی کے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ کراچی میں رینجرز کا آپریشن بھی ایک بڑے سرکاری قطعہ زمین کی ایک طاقتورادارے کو منتقل کرنے سے انکار پر شروع کیا گیا تھا۔
اسی وجہ سے اس آپریشن کی ”غیرجانبداری“ پر سوال اٹھائے جاتے رہے اور نوے روزہ ریمانڈ سمیت دیگر غیر معمولی اختیارات کی اسمبلی میں توسیع کے معاملے پر الجھاؤ اور توتکار ہوتی چلی آرہی ہے۔ اقلیتی طبقے کے پاس دولت کا ارتکاز، پیداوارکے تصرف اور استعمال پر مخصوص طبقے کی اجارہ داری اور عورت کا بطورجنس(Commodity) استعمال،ذرائع پیداوار پر ذاتی ملکیت کے نظام کی خاصیت ہے۔اسکے رہتے ہوئے ان مضمرات پر قابو پانا ناممکن ہے۔
اگر یہ نظام زر یعنی ’سرمایہ داری ‘کا وجودہے تو پھر اسکے ہوتے کسی قسم کا امن وامان یا استحکام کا حصول کسی ’دیوانے کا خواب ‘ ہوسکتا ہے اسکو عملی تعبیر ملنا ناممکن ہے۔’ذاتی ملکیت ‘کامسئلہ ہی اس زمین پر موجود تمام مسئلوں کی ماں ہے۔اگر تمام ذرائع پیداوار کو ذاتی کی بجائے ’اجتماعی مِلک ‘مان لیا جائے تو فساد کی جڑ ہی کٹ جائے گی۔ دنیا کا پہلا جھگڑا بھی گمان ہے کہ ’تیرے ،میرے ‘ کے تکرار سے شروع ہوا ہوگا۔
زمین کی حد براری،سرحدوں کے تعین پر قتل وغارت گری کے مظاہر اور جنگوں کا ہونا معمول کی بات ہے۔اگر جنگ نہ بھی ہورہی ہوتو منڈیوں پر قبضوں کے لئے تمام قوتیں ’حالت جنگ‘ میں ہی پائی جاتی ہیں۔ منڈیوں پر قبضوں یا منڈیوں تک رسائی کے معاملات پر بڑی جنگیں ہوچکی ہیں۔
ذرائع پیداواراور پیداوار کے لئے درکار خام مال کا غالب حصہ اسی زمین سے نکلتا ہے ،جس پر ملکیت کے دعوے دار سب کے سب قابض اورغاصب ہیں جو’ قدرت‘ کی طرف سے مہیا کردہ کسی بھی ’ملکیتی سرٹیفیکٹ‘ کے حاملین نہیں ہیں۔
پیداوار میں خام مال کے بعد (مشینری،اوزارسمیت)دوسراناگزیر عامل ’محنت ‘ ہے۔قدرتی وسائل اور محنت کے امتزاج سے جنم لینے والی پیداوارکی ملکیت کا قضیہ ہی اس وقت سب سے نزاعی ،متنازعہ اور جدل پر مبنی مسئلہ ہے ،جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔اس مسئلے کی حقیقت کو مخفی رکھنے کے لئے دنیا بھر کے طاقت ورحکمرانوں،سرمایہ داروں ،قابضین اور غاصبوں نے مہنگے ترین دانش وروں ،پروہتوں اور رنگ برنگے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔
یہ سیدھا مسئلہ ہے کہ’تمام پیداوار‘ قدرتی وسائل اور انسانوں(محنت کش طبقے) کی اکثریت کی محنت کے نتیجہ ہے اوراسپر محنت کرنے والے طبقے کا حق فائق ہے۔مگر پیداوار پر غاصبوں کے قبضے کو ہی”حقیقت اور سچ “ مان لیا جائے،سرمایہ داری اور اسکی حلیف قوتوں کا سارا زور اسی نقطے پر ہے۔ اس جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے دولت پانی کی طرح بہائی جاتی ہے،کتابیں چھاپیں جاتیں ہیں اور لوگوں کو پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اس پراپگنڈے کو تقدس کے غلاف میں لپیٹنے کے لئے مذہبی عمائدین کی ’خدمات ‘ حاصل کی جاتی ہیں۔اگر کوئی سرمائے کی حاکمیت ماننے سے انکار کردے تو پھر اسکے خلاف جنگیں کی جاتی ہیں ۔ محنت کرنے والی اکثریت کو اپنی ’محنت کی قدراور قدرتبادلہ ‘کے ادراک سے دور رکھنا ہی سرمایہ داری کے ادب،فلسفے،دینیات،ثقافت ،سیاست اور معاشرت کا فریضہ ہوتا ہے۔جب وہ اس میں ناکام ہوجائیں تو پھر جبر اور تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔
مزدور کو اپنی محنت کی قدر کا جب بطور طبقہ ادراک ہوتا ہے تو وہ انفرادی تکالیف کے اجتماعی تصور سے آشنا ہوجاتا ہے۔پھر اپنی زندگی بدلنے کی اسکی جدوجہد بھی انفرادی نہیں رہتی بلکہ اجتماعی شکل اختیار کرجاتی ہے۔یہاں پر زراور زمین پر تصرف رکھنے والی قوتیں باہمی انتشار اوراختلاف کی ہمہ جہت قسموں کے باوجود ،ذاتی ملکیت کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف اپنے تمام وسائل سے نمبردآزما ہوجاتی ہیں۔اس قسم کے طبقاتی چیلنج سے باخوبی نپٹنے کے لئے ہی ریاست کا وجود عمل میں لایا گیا تھا۔
ایک صحت مند سرمایہ دارانہ ریاست کے تمام ستون طبقاتی اتحادکی مضبوط ڈوری میں بندھے ہوتے ہیں۔جیسا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوھدری نے اپنی بحالی کی تحریک کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ”عدلیہ( سرمایہ دارانہ ریاست کے ایک ستون) کا سب سے بنیادی فریضہ ’ذاتی ملکیت ‘(ذرائع پیداورار پر نجی تسلط) کا تحفظ کرنا ہوتا ہے“۔یہی فرائض ریاست کے دیگر اداروں کے ہوتے ہیں۔
اس لحاظ سے سرمایہ دارانہ ریاست اور اسکے تمام اداروں کا وجود اور مقاصد بنیادی طور پر اس بددیانتی اور محنت کی لوٹ مار کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔لہذا محنت کے ستحصال کا قطعی خاتمہ سرمایہ دارانہ ریاست کی موجودگی میں ممکن نہیں ہوتا۔مگر ریاست کے تمام ادارے اور اسکے معاون ادارے (سیاسی جماعتیں،مذہبی سکالر،قومی یکجہتی کے پرچارک وغیرہ) حتی الامکان اسکے طبقاتی کردار کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
استحصال کا شکاراکثریتی محنت کش طبقے ایک لمبا عرصہ نظام کے اندر ہی ’انصاف ‘ اوربہتری کی تلاش میں مرتا کھپتا بالآخر اس نظام سے جان چھڑانے کی سوچ تک سفر مکمل کرلیتا ہے۔ماضی میں محنت کش طبقے کو گمراہ کرنے کی ”اصلاح پسندی“ اور سوشل ڈیموکریسی کی بھول بھلیوں کی راہ دکھائی گئی جو اب خود متروک ہوچکی ہے۔سرمایہ داری نظام میں ملکیت کی تمام لڑائیوں میں محنت کش طبقے کو مختلف جہتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
طبقاتی جمہوریت میں محنت کش طبقے کوبرباد کرنے والا طبقہ اسکا ووٹ لیکر ہی اسکو باری باری لوٹتا چلا جاتا ہے۔عام حالات میں کمزور اور لاچارگی کا شکار محنت کش طبقہ جب خود کو ایک طبقہ بن کراپنی نجات کے لئے راہ عمل میں نکل آئے تو پھر ماضی کی مضبوط نظر آنے والی مخالف قوتیں خس وخاشاک بن کر رہ جاتی ہیں۔کراچی کی ڈھائی کروڑ آبادی کا نوے فی صد حصہ محنت کشوں کی مختلف پرتوں پر مشتمل ہے۔یہ بہت بڑی قوت ہے ۔
اگر ان محنت کشوں کا طبقاتی جڑت سے اتحاد معرض وجود میں آجائے تو پھرکراچی ہی نہیں پورے پاکستا ن کا محنت کش طبقہ استحصالی طبقے اور حکمرانوں کی مختلف شکلوں سے نجات پاسکتا ہے۔ اس سادہ مگر طاقتور حقیقت کا ادراک محنت کش طبقے کی محنت لوٹنے والوں اور حکمرانوں کو بھی ہے۔اسلئے کراچی کے محنت کشوں کو رنگ ،نسل ،قوم اور فرقوں میں تقسیم کرکے آپس میں ہی لڑائے جانے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔اس لئے کراچی میں امن کا فیصلہ بھی حکمران طبقے نے نہیں بلکہ وہاں رہنے والے محنت کشوں نے کرنا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے 67-68ء میں انہوں نے تمام تعصبات کو جھٹک کے پھینک کر خو د کوا یک طبقے کے طور پر جدوجہد کے میدان میں پیش کیا تھا،مگر اس دفعہ فرد کی بجائے خود اپنے اندر سے اشتراکی قیادت تخلیق کرنا ہوگی تاکہ منزل مقصود کی راہ کھوٹی نہ ہوسکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com