تاریخ ساز سیکرٹری

منگل مئی    |    قاری عبدالرحمن

2016کے مئی کی 6تاریخ اور جمعے کا مبارک دن ، پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھے جانے والے دنوں میں سے ایک دن ، جب پاکستان کے سب سے غریب ، چھوٹے اور روتے دھوتے صوبے کے سیکرٹری خزانہ کے گھر سے پاکستانی روپے ، امریکی ڈالر ، سونے کے زیورات ، اور نہ جانے کیا کیا کچھ نکلا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ ارب روپے نقد اور سونے کی شکل میں بر آمد ہوئے ۔ غبن ، فراڈ دھوکا دہی اور ہیرا پھیری کی خبریں پاکستان میں قطعا نئی نہیں ہر حکومت اور ہر جماعت اس بابت ایک دوسرے سے بڑھ کر مثالی ریکارڈرکھتی ہے ، ہر شخصیت الزامات کی زد میں رہتی ہے ، لوٹنے والے مزید لوٹنے کے لیے زور لگاتے ہیں اور جنہیں باری نہیں ملتی وہ باری لینے کے لیے تڑپتے ہیں۔
یہ لوٹ مار تو خیر چلتی رہتی ہے مگر صرف الزامات اور خبروں میں ، کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو ثبوت نہیں ملتے، لیکن یہاں صاحب پکڑے بعد میں گئے اور کروڑوں کی نقدی اور کروڑوں کے زیورات ، انعامی بانڈ اور ڈالر پہلے ملے۔

(خبر جاری ہے)


جہاں کھانے پکانے کا سامان ہوتا ہے وہاں سے ڈبے سونا اگل رہے تھے ، جس الماری میں جوتوں کے ڈبے رکھے جاتے ہیں وہاں سے ڈالروں کی گڈیاں بر آمد ہوئی ہیں ، بیڈ کے گدے کے نیچے اور صوفے کی گدیوں کے نیچے ،جہاں ہاتھ ڈالا جائے کوئی نہ کوئی گڈی نکلتی رہی ۔

پانچ سو سے لے کر پانچ ہزار تک کے نوٹ م گنتی کے لیے مشینیں منگوائی گئیں، سات گھنٹے میں مشینیں گن کر فارغ ہوئیں۔ اس واقعے نے پورے ملک کو سوچنے کی دعوت عام دی ہے کہ جب سب سے چھوٹے صوبے کے ایک سیکرٹری کے پاس خزانے کا یہ حال ہے تو باقی صوبوں کے سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری کیا دودھ کے دھلے ہیں ، اور پھر وزیر وزراء اور مشیر حضرات!
یہ نیب کا ایک چھاپا تھا، نہ جانے یہ چھاپا مارنے سے پہلے متعلقہ سیکرٹری کو اطلاع نہ کرنے کی کیا وجہ تھی ، کہیں سیکرٹری نے کسی بڑے کی حکم عدولی تو نہیں کی ، شاید کسی بڑے کی کوئی چھوٹی موٹی بات نہ مانی ہواور اس نے ہلکا سا نمونہ دکھایا ہو، ورنہ مشہور تو یہ ہے کہ ملزم پکڑے جاتے ہیں مال بر آمد نہیں ہوتا۔
پہلے سے اطلاع ہو جاتی ہے تو ملزم پورے سکون ، یک سوئی اور اطمینان سے استقبال کرتے ہیں، گرفتار بھی ہو جاتے ہیں ،مگر اندر خانے بولیاں لگتی ہیں ،دیانت کی ،امانت کی صداقت کی ،جو جتنا بڑا دیانیت دار اور امانت دار اس کی اتنی ہی بولی لگتی ہے، مال نکلتا بھی نہیں اور بھاؤ تاؤ بھی ہوتا ہے، کچھ دے کر چھوٹو ، کچھ لے کر نکلو کی بنیاد پر سودے بازی ہوتی ہے ۔
آج کل ویسے بھی اپوزیشن اور حکومت میں آپا دھاپی چل رہی ہے ، پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر اپوزیشن میاں حکومت کی دُم پر پاؤں رکھے کھڑی ہے، ہلنے کا نام نہیں لے رہی ، میاں حکومت تلملا اور بلبلا رہی ہے ، وزیر اعظم نے ملک بھر میں جلسے شروع کر رکھے ہیں ، وہ اس پر خفا ہیں کہ ان کے احتساب کا مطالبہ کیوں ہو رہا ہے اور اپوزیشن اس پر چیں بجبیں ہے کہ میاں حکومت ان کے احتساب کی بات کیوں کر رہی ہے۔
دونوں طرف سے بڑے بڑے جلسے ہو رہے ہیں ، الزام تراشیاں ہو رہی ہیں ، دعوے اور جوابی دعوے، چیلنج اورجوابی چیلنج ، الزامات اور جوابی الزامات۔ سچ اور جھوٹ ،کھرے اور کھوٹے ،صحیح اور غلط میں فرق اور پہچان بہت مشکل ہو گئی ہے۔ جب سو فی صد غلط کام ایک سو ایک فی صد درست اور قانونی طریقے سے کیے جائیں گے تو کون پکڑاجائے گا اور کیسے ! یہ بے چارا غریب سیکرٹری خزانہ بلوچستان یا تو خوش فہمی کا شکار ہو گیا یا بے چارے کے پاس سمجھ داری ہی اتنی ہے ۔
ورنہ اتنی دولت گھر میں کون رکھتا ہے۔ بنک میں بھی اپنے نام پر کوئی نہیں رکھتا ، لاکر اور اکاؤنٹ بھی نہ جانے کس کس کے نام پر اور کس کس ملک میں ہوتے ہیں، قابل داد اور لائق تحسین ہے یہ سیکرٹری، اسے تاریخ ساز سیکرٹری کہنا چاہیے۔
آر می چیف کی طرف سے احتساب کی تعریف ، احتساب کی حوصلہ افزائی اور فوج میں کچھ افسران کی جبری ریٹائر منٹ نے عوام کے حوصلے بلندکیے تھے ، کچھ امید بنی اور بڑھی تھی ،لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں، خود فوج میں بھی، اندر اور بہت دور اندر تک گڑ بڑ کی اطلاعات ہیں ۔
پھر سیاسی حکومتیں اورحضرات جج !اور سب سے بڑھ کر بیوروکریسی ، وزیر مشیر تو آنے جانے والے ہوتے ہیں، لیکن بیورو کریسی ، آج اس شہر تو کل اس شہر ، آج اس سیٹ پر تو کل اس سیٹ پر ، 69سال سے پاکستان کو چاروں طرف سے لوٹا جا رہا ہے مگر پھر بھی ملک چل رہا ہے ۔ سچ کہا تھا مسٹر آصف علی زرداری نے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو سکتا یہ ان لمیٹڈ ہے ۔ مسٹر زرداری نے سب کچھ نہ صرف بہت قریب سے دیکھا ہے بلکہ عملا سب کچھ برتا بھی ہے ، ان کی رائے ایک سو ایک فی صد ٹھیک ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com