مصطفی کا کمال

جمعرات اپریل    |    رؤ ف اُپل

مصطفی کمال کے پہلے جلسے اور پہلی تقریر سے کوئی اور تاثر ملے ناں ملے ایک تاثر بہت صاف ملتاہے کہ مصطفی اینڈ کمپنی ایک محب ِ وطن لوگوں کی جماعت ہے جو پاکستانی سیاست میں محب ِ وطن اہل ِ کراچی اور اہل ِ پاکستان کی زبان بنے گی جس سے پورا کراچی اور پاکستان مہک اٹھے گا، یہی ہوگا مصطفی کا کمال۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے مقابلے میں نکلنا اس بات کی کھلی گواہی ہے کہ وہ بہادر اور نڈر انسان ہے ۔

حالات سازگار نہیں تھے گلی گلی لوٹ مار، غنڈا راج عام شہریوں کا گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہوچکا تھا۔ ۔ موبائل فون چھیننا اور جیبیں خالی کرانہ ایک مشغلہ بن چکا تھا۔ ۔ اغوا برائے تاوان کے واقعات ،بھتہ خوری ، لوٹ مار، قتل وغارت روزانہ کا معمول بن چکا تھا۔

(خبر جاری ہے)

۔روز کسی ناں کسی علاقے سے بوری بند لاشیں برآ مد ہوتیں۔ ۔ محبتوں کے شہر میں نفرتوں کا پرچار ۔ ۔ خوف وحراس ۔ ۔ محب وطن نوجوانوں کو راء کا ایجنٹ بنایا جا رہا تھا۔

۔ پاکستانی نوجوانوں کو بھارت اور افغانستان میں راء کے زریعے دہشت گردی کی تربیت دی جارہی تھی، ،نفرت کا بیج بو دیا گیا تھا، بدنام ِ زمانہ انڈین ایجنسی راء نے دہشت گردی اور نفرت پھیلانے کے لئے ایم کیو ایم کے ان کازندوں کو جدید اسلحہ اور پیسہ فراہم کیا تاکہ وہ پاکستان کو اندر سے کمزور اور کھوکھلا کرسکیں۔ ۔انڈیا اپنے مذموم عزائم ایم کیو ایم کے زریعے حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا اور اپنے عزائم میں تا حال مصروفِ عمل بھی ہے ۔

ایم کیو ایم کے کارکن کسی بھی واقع ، موقع یا احتجاج کو وجہ بنا کے شہریوں کا جینا حرام کردیتے تھے ۔ ۔ چند لمحوں میں حالات تباہ کرنے کے ماہر ایم کیو ایم کے کارکن خاص کر کراچی کے کچھ علاقوں میں جو ان کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور عمومی طور پر پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں، جسے چاہتے اور جس طرح چاہتے اپنی مرضی سے نشانہ بناتے ، معیشت اور امن وامان کو یرغمال بنائے رکھا تھا۔
بے لگام سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے کراچی کو توڑنے کا پلان تیا ر کیا اور پہلے فیز میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ پیش کردیا ۔
۔ روز سمندر پار سے ٹیلی فون خطاب میں پاکستان کے اداروں اور خاص کر سلامتی کے اداروں کے خلاف کھلا زہراگلا جانے لگا ۔ ۔ سیاست دان بزدلی کی تصویر بنے سیاسی مصلحتوں مین تماشا دیکھ رہے تھے اور پھر کیا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔پھر کراچی میں امن و امان کا ذمہ پاکستان آرمی نے اٹھایا ۔ ۔ جہاں پاک رینجرز کراچی اور پاکستان کے لوگوں کے لئے امن کی کوششوں میں دن رات مصروف ِعمل ہیں ۔ ۔ انتھک محنت اور قربانیوں سے امن امان کی صورتحال بہتر کرنے میں کامیا ب ہورہے ہیں۔
۔مگر وہا ں کے لوگ سیاسی لحاظ سے کراچی میں کسی مسیحا کی تلاش میں تھے ۔ ۔ اس صورتحال میں مصطفی کمال کراچی کے لوگوں کے لئے امید کی کرن بن کر سامنے آئے۔ ۔چند دن میں پاک سر زمین کے نام سے ایک محب ِ وطن پارٹی کھڑی کردی ۔ ۔ اس نئی نویلی پارٹی نے ایک مہینے میں قائد آعظم محمد علی جناح کے میزار کے احاطے میں پاکستانی پرچم کے سائے میں ایک بہت بڑاکامیاب جلسہ کر دیا ۔۔ ۔ ۔ اب مصطفی کمال کی پہلی ترجیح پاک سر زمین پارٹی کی تنظیمِ نو ہونی چاہیے ناں کہ اقتدار کی حوس، مصطفی کمال کو لوگوں کے دل جیتنے چاہیں یہ واحد راستہ ہے جس سے اقتدار خو د ہی ان کے جھو لی میں آ گرے گا۔
۔ بطور کراچی میئر ان کی کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سیاسی پو ٹینشل موجود ہے ۔ ۔ باو جود اس کے کہ ان کی سابقہ پارٹی مجموعی طور پر ایک غیر ذمہ دار پارٹی ثابت ہوئی، یہی غیر ذمہ دارانہ رویہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونا تھا جس کی وجہ سے آپ نے اس پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔
مصطفی کمال کے پہلے جلسے اور پہلی تقریر سے کوئی اور تاثر ملے ناں ملے ایک تاثر بہت صاف ملتاہے کہ مصطفی اینڈ کمپنی ایک محب ِ وطن لوگوں کی جماعت ہے ، یہی ہے مصطفی کا کمال۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com