کربلا، لال مسجد، جہادی تنظیمیں، عدالت اور سوشل میڈیا

ہفتہ اکتوبر    |    سبوخ سید

بیانیہ کیا ہوتا ہے؟
آج کل فیس بک پر ہمارے کئی دوست واقعہ کربلا پر بحث و مباحثے میں مصروف ہیں. دونوں کا اپنا اپنا بیانیہ ہے. بیانیے کی تعریف یہ ہے کہ پہلے بیانیہ تشکیل دو اور پھر اس کے مطابق قرآن و حدیث، تاریخ اور آثار بیان کرو. بیانیہ ہمیشہ حالات اور وسیع تر مفاد کے مطابق ہی ترتیب دیا جاتا ہے.

فیصلہ کہاں ہوتا ہے؟
سوشل میڈیا پر بھی ہمارے کئی دوست احباب وکیل بنے دلائل دے رہے ہیں اور جج بنے فیصلے صادر کر رہے ہیں ۔
بہتر یہ ہے کہ یزید کے حامی و مخالف کربلا کا کیس کسی عدالت میں اوپن کرائیں تاکہ فیصلہ ہو جائے۔ میڈیا کو اجازت دی جائے کہ وہ عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیا گیا فریقین کا مؤقف براہ راست نشر کرے ۔

(خبر جاری ہے)



دلائل تو دونوں کے پاس ہیں.
یہ حقیقت ہے کہ دونوں طرف کے صاحبان علم و فضل کے پاس دلائل کے انبار بھی ہیں اور کتب کے دیار بھی۔ عقیدتوں کی عبا بھی ہے اور عدل کی ردا بھی۔ اور سچی بات یہ ہے کہ دونوں طرف کے لوگوں میں حسن نیت بھی ہے کیونکہ ہر شخص (استثنا کے ساتھ) اپنی حیات عاقبت سنوارنے کے لیے گزارتا ہے، بگاڑنے کے لیے نہیں۔

اس مسئلے میں کسی کی ذاتی انا و عناد نہیں، جو جس کو حق اور سچ سمجھتا ہے، اسے بیان کر رہا ہے۔ نیتوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے اور ہم کسی کی نیت پہ فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔ اس لیے یہ سارا معرکہ اپنے اپنے بیانیوں کے تحت لڑنے کے بجائے ضروری ہے کہ اسے کسی جاندار اور مؤثر فورم پر زمانے کے اصول و قواعد کے مطابق لڑا جائے تاکہ نتیجہ خیز اور فیصلہ کن ہو۔ ایک فیصلہ تاریخ میں ہو چکا ہے، دوسرا فیصلہ آپ عدالت میں کر لیجیے۔


میرا ماضی
میں ایک دور میں خود ان معاملات میں بہت زیادہ الجھا ہوا تھا۔ خود تین برس تک مکتب تشیع کی طرف جھکا رہا۔ مجالس میں شرکت اس دور کا معمول تھا جو ابھی تک جاری ہے، اس دوران مطالعہ اور سوچنے کا عمل مسلسل جاری رہا۔ ان موضوعات پر فریقین کی کئی کتب پڑھیں اور غالبا دو برس پہلے فیس بک پر ان سب کے نام لکھے بھی تھے۔ مجھے اس ساری بحث، جنگ وجدل کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ پوری دیانت داری کے ساتھ آپ کی خدمت میں بھی پیش کرتا ہوں ۔


تاریخ کیا ہے؟
تاریخ پہلے وقت کے حالات واقعات اور حادثات کا علم ہے اور اسے بیان کرنے والے اس کے سارے پہلو نہیں بیان کر سکے۔ اگر وہ پوری دیانت داری کے ساتھ یہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوتے تو تب یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ہر واقعے کی پوری تفصیلات سامنے رکھ سکتے۔ جب وہ کسی واقعے کے تمام پہلو سامنے نہیں رکھ سکے تو لازمی سی بات ہے کہ نتیجہ اخذ کرنے کا سارا عمل ہی مشکوک ہو گیا۔
یہ تاریخ جزئی ہوتی ہے، مجموعی اور کلی نہیں ہوتی۔ تاریخ میں صرف ان واقعات کا علم ہوتا ہے جو ماضی میں ہو چکے ہوتے ہیں۔ تاریخ میں واقعات صرف نقل ہوئے ہوتے ہیں، عقلی اور منطقی نہیں ہوتے۔

نتیجہ کیسے حاصل کریں؟
میں اس چیز کو یوں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ قیام پاکستان، سقوط ڈھاکہ، ذوالفقار علی بھٹو کا قتل، بےنظیر بھٹو کا قتل، لال مسجد آپریشن، 2013 کا الیکشن، اکبر بگٹی کا قتل، بلوچستان کا مسئلہ، طالبان، ملا عمر کی موت سمیت کئی ایسے واقعات ہیں جن میں سے اکثر سے آپ باخبر ہیں اور اکثر آپ کے سامنے ہوئے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج تک ان واقعات کی مکمل تصویر آپ کے سامنے نہیں۔ آپ کے سامنے جتنا ہے، آپ اسی کے مطابق ہی تجزیہ اور تبصرہ کرتے ہیں۔ اب آپ پانچ منٹ کے لیے رک جائیں اور ذرا سوچیں کہ بےنظیر بھٹو کے قتل سے متعلق آپ نے کیا کیا کہا تھا اور کیا کیا سنا تھا؟ آپ کے ذہن میں بے شمار الفاظ اور بےشمار چہرے آئیں گے لیکن آج تک آپ کنفیوژ ہیں۔

تحقیق کے باوجود جواب نہیں، کیوں؟
آپ کے پاس وقت ہے تو ذرا سوچیں کہ کیا بے نظیر بھٹو کے قتل کے حواالے سے سکاٹ لیڈ یارڈ نے کام نہیں کیا، کیا اقوام متحدہ کی ٹیم پاکستان نہیں آئی تھی، کیا پاکستانی ایجنسیوں نے تحقیق نہیں کی تھی اور کیا سب کے جوابات مختلف نہیں تھے اور مجھے بتائیں کیا آپ کو آپ کے سارے سوالوں کے جوابات مل گئے؟ نہیں ملے تو تاریخ اتنی واضح سچائی نہیں ہوتی کہ جس کی بنیاد پر عقیدت اور عقیدے گھڑے جائیں۔
ایک واقعے کے طور سے اسے قبول کیجیے اور اگر آپ سمجھتے ہیں تو اس سے اس دور میں کوئی فائدہ لیا جا سکتا ہے تو ضرور اس پر کام کیجیے۔

عدالت میں جانا کیوں ضروری ہے ؟
میرے خیال میں یہ بحث عدالت میں اس لیے بھی جانی چاہیے کہ لال مسجد، طالبان، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ، القاعدہ، داعش اور اکثر مذہبی جماعتیں اپنی تحریکوں کی بنیاد سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک غاصب اور غیر عادل حکمران کے خلاف خروج کیا تھا۔
میں نے طالبان اور لال مسجد والوں کا یہی بیانیہ سنا۔ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز صاحب اور مقتول نائب خطیب علامہ عبدالرشید غازی صاحب سے اس بارے میں 2007ء میں ایک مفصل نشست بھی ہوئی تھی۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت بھی لال مسجد کو کربلا سے تشبیہ دی جاتی تھی اور مکتب تشیع کے علماء نے اس کے خلاف اپنا رد عمل بھی دیا تھا کہ لال مسجد والوں کی کربلا والوں سے کیا نسبت؟

لال مسجد والوں کا بیانیہ
ایک روز میں، حامد میر صاحب، طارق عظیم صاحب (اس وقت وزیر ممکت تھے، آج کل مسلم لیگ ن میں ہیں) اور مرحوم ڈاکٹر خالد علوی صاحب لال مسجد میں کیپیٹل ٹاک پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے گئے۔
علامہ عبدالرشید غازی صاحب نے یہی مؤقف اختیار کیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی غیر آئینی اور غیر اخلاقی حکومت کے خلاف خروج کیا۔ مشرف کی حکومت بھی غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی مؤقف ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تو غیر آئینی حکومت کے خلاف خروج کیا تھا اور سیاسی جماعتیں پارلیمان میں بیٹھی اسے مضبوط کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کون سا کام ہے جو یزید سے منسوب ہے اور مشرف نہیں کر رہا؟

عدالت جانے سے کیا فائدہ ہو گا؟
عدالت میں لے جانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے کم از کم ”خروج“ کی وضاحت ہوگی۔
جدید ریاستی نظم سمجھ میں آئے گا اور ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کا بیانیہ بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی تقریبا تمام مذہبی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی و جمیعت علمائے اسلام، پاکستان میں مسلح جدوجہد کو ناجائز کہہ چکی ہیں۔

خروج کا اقرار و انکار
اب یہ الگ بحث ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ کربلا کے واقعے کو خروج مانتا ہے، کچھ نہیں مانتے۔
ماننے والے کہتے ہیں کہ سیدنا حسین علیہ السلام کربلا میں اپنے نانا کا دین بچانے گئے تھے، یہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ اتمام حجت کے لیے جہاد کی سب سے بڑی شکل تھی جس میں امام عالی مقام اپنے چھ سالہ بچے کو بھی لے کر گئے تھے۔ دوسری جانب کہا جاتا ہے کہ خروج کے لیے کوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لےکر نہیں جاتا۔ بہرحال یہ مختلف مؤقف جو تاریخ میں درج ہیں، ان سے آپ آگاہ ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو فیس بک پر اس وقت کئی سنجیدہ احباب اس مسئلے پر علمی، عقلی، جذباتی اور عقیدت میں گندھی ہوئی بحث کر رہے ہیں، وہ آپ پڑھ لیں۔


یزید سے متعلق دارلعلوم دیوبند کی رائے
قابل احترام حضرت مفتی صاحب،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا یزید کو امیرالمومنین اور رضی اللہ عنہ لکھا جا سکتا ہے، ہم نے بعض علماء کو (یزید پلید) کہتے سنا ہے، دوران تقریر اگر تذکرہ آیاتو ”رضی اللہ عنہ“ بھی کہنے سےگریز کرتے ہیں. براہ کرم مع حوالے کے تفصیلی جواب مرحمت فرمایئں.
2۔ کیایزیدکی امارت کو تسلیم کی گئی ہے؟ اس کی امارت سے متعلق کیا رائے ہے؟
جن اصحاب رسول نے یزید سےمتعلق اچھے کلمات کہے ہیں یا بیعت کی ہے، اس پر کیا کس حکم کا اطلاق ہوتاہے؟
قاری کرامت اللہ اسعدی۔

الجواب و باللہ التوفیق
یزید کو نہ کافر کہنا جائز ہے نہ ملعون کہنا۔ علیہ السلام یا رضی اللہ عنہ یا امیر المؤمنین کہنا بھی باتفاق علماء امت جائز نہیں ہے بلکہ ان کلمات کی توہین ہے۔ زیادہ سے زیادہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کو مرحوم کہاجاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ کا وہ مستحق نہیں۔

ہر شخص کو اپنے ایمان وعمل کی فکر کرنی چاہیے۔ یزید کے فسق و صلاح کی بحثوں میں پڑنا کوئی شرعا ضروری چیز نہیں ہے۔ تلک امۃ قد خلت لھا ماکسبت ولکم ماکسبتم۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یزید کے بارے میں توقف فرمایا ہے۔ ہمیں بھی توقف کرنا چاہیے۔ درمختار میں ہے

ویستحب الترضی للصحابہ الخ۔۔۔کتاب الخنثی۔مسائل شتی 754/6۔
شامی میں ہے
حقیقۃ اللعن المشھورہ ھی الطرد عن الرحمہ وھی لاتکون الا لکافر۔
الخ۔416/3۔سعید کفایت المفتی91/3 ۔ و جلد اول صفحہ 351۔ وصفحہ140۔ فتاوی عثمانی 307/1۔محمودیہ 164/19۔۔
یزید نے خلافت کا دعوی نہیں کیا تھا بلکہ امیر معاویہ نے اس کو انتہائی مدبر تصور کرتے ہوئے اپنی زندگی ہی میں اس کو خلافت کا ولی عہد بنادیا تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اس کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے، اس کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے انہوں نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اس وقت تک یزید کی خلافت مستقر نہیں ہوئی تھی۔
استقرار خلافت کے چار طرق ازالۃ الخفاء میں بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک طریقہ سے اس کی خلافت اس وقت تک ثابت نہیں ہوئی تھی اس لیے امام عالی مقام سمیت جمہور صحابہ اس کے خلاف تھے، بعد میں اس کی طاقت مستحکم ہوگئی اور خلافت بھی مستقر ہو گئی۔
جن صحابہ سے اس کی تائید ثابت ہے، وہ ما بعد استقرار خلافت پر محمول ہے۔ ابن حجر نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ اولا صحابہ سے انکار ثابت ہے ۔ابن حجر لکھتے ہیں؟
عن نافع ان معاویہ اراد ابن عمر ان یبایع لیزید فابی وقال لا ابایع لامیرین ۔
فتح الباری کتاب الفتن ۔باب اذا قال عند قوم شیئا۔ الخ جلد 13۔صفحہ 87۔قدیمی ۔لسان المیزان میں ہے وامتنع من بیعتہ الحسین بن علی وعبد اللہ بن عمر وعبد اللہ بن الزبیر ۔واما ابن عمر فقال اذا اجتمع الناس بایعت۔الخ۔ لسان المیزان 293/6۔
اس کی امارت بعد میں مستحکم ہوگئی تھی۔تب صحابہ اس پر متفق ہوگئے تھے۔ شروع میں کوئی متفق نہیں تھے سوائےمغیرہ بن شعبہ اور بعض معدودے۔ اخیر زمانے میں ان کی امارت کو بھی لوگوں نے تسلیم کرلیا تھا۔

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

میری تحریک کی وجہ
گذشتہ روز برادرم آصف محمود صاحب نے اپنی وال محترم عمار خان ناصر صاحب کے مضمون کے جواب میں مضمون لکھا۔ میری ان سے بات ہوئی تو گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ”آج کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اٹھے اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کہے کہ انہوں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا، میں نے ان سے گذارش کی کہ یہ بات اگر عقیدت کے حوالے سے کی جا رہی ہے تو بالکل درست ہے، نہ ہم سیدنا حسین کا کردار زیر بحث لا سکتے ہیں اور نہ ہی سیدنا امیر معاویہ کا کردار زیر بحث لایا جا سکتا ہے تاہم اگر آپ تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو تحقیق سچائی کی تلاش ہے جو ہمت، بہادری اور حوصلے کے بغیر ممکن نہیں، اور اس کے نتائج پر اصرار بھی ضروری نہیں، مسلمانوں کی علمی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ہمارے اکابرین نے پوری محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنے نتائج مرتب کیے لیکن آخر میں یہ بات ضرور لکھی یہ میری طرف سے ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے.“
میرے ذاتی رائے یہ ہے کہ جب سانپ گزر جائے تو لیکر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اسی طرح تماشائیوں کے شور سے پہلوان کشتی نہیں جیت سکتا۔


اس بحث کافائدہ؟
محترم عمار خان ناصر صاحب، ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب، محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب، محترم مفتی محمد زاہد صاحب، محترم زاہد مغل صاحب، محترم سید متین شاہ صاحب، محترم عامر خاکوانی صاحب ، محترم آصف محمود صاحب اور کچھ دیگر احباب اس موضوع پر گفتگو فرما رہے ہیں۔ مجھے علم نہیں اس بحث کا علمی یا عملی کیا فائدہ ہے۔ شاید مجھے سمجھ نہ آ رہا ہو لیکن ممکن ہے کہ یہ سب اہل علم ہیں، وہ شاید سمجھتے ہوں کہ اس کا کیا فائدہ ہے۔
اگر اس ساری بحث کا اس زمانے میں کوئی فائدہ ہے تو اسے ضرور جاری رکھنا چاہیے، اور اگر نہیں تو قرآن اٹھارھویں پارے کی پہلی آیات میں مؤمنین کی کامیابی کی کنجی بتاتا ہے کہ کامیاب مؤمن وہ ہیں جو غیر ضروری باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔

آخری بات
بات شروع ہوئی تھی اس واقعے کو لیکر عدالت میں جانے کے لیے، دوسری گذارش یہ ہے کہ اگر آپ عدالت نہیں جا سکتے تو پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ اللہ رب العالمین ہے، مالک یوم الدین ہے تو اس معاملے کو اللہ پہ چھوڑ دیں، کیونکہ قرآن کریم نے پہلی پارے کی آخری آیت میں مسلمانوں کو اس بارے میں واضح طور بتا دیا ہے کہ
تِلکَ اُمَّۃٌ قَد خَلَت ۚ لَہَا مَا کَسَبَت وَ لَکُم مَّا کَسَبتُم ۚ وَ لَا تُسئَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعمَلُونَ
یہ امت ہے جو گذر چکی، جو انہوں نے کیا وہ ان کے لیے ہے، جو تم نے کیا وہ تمھارے لیے، تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔


نوٹ
یہ تحریر مکتب تشیع سے وابستہ افراد کے لے نہیں لکھی کیونکہ ان کا بیانیہ اہل سنت سے بہت ہی مختلف ہے۔ اس وقت اہل سنت کے ہاں اس مسئلے پر سوشل میڈیا میں بہت زیادہ بات ہورہی ہے۔ یہ مضمون بھی اس تناظر میں لکھا گیا ہے۔

محرم اور ہماری ثقافت
باقی محرم الحرام سمیت تمام ذوات مقدسہ کی حیات مقدسہ پر محافل کا اہتمام کرنا، مجالس منعقد کرنا، شہدا کا سوگ منانا، غم اور دکھ کا ظہار کرنا، اہل بیت کا ذکر کرنا، خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ، امہات المومنین رضوان اللہ علیھم اجمعین کی ذوات مقدسہ کی حیات مقدسہ پر محافل کا اہتمام کرنا سب ہماری ثقافت اور روایت کا حصہ ہے، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہے۔
میں 1998ء سے باقاعدگی کے ساتھ مجالس محرم سنتا ہوں، بچپن میں ٹی وی پر علامہ عقیل ترابی صاحب اور علامہ طالب جوہری صاحب کو شوق سے سنتا تھا۔
شہید بے نظیر بھٹو کی طرح مجھے بھی بعض ذاکروں کا انداز بیان بہت اچھا لگتا ہے۔ بس اس میں مکاتب اہل سنت کی دل آزاری سے گریز کرانے کی ذمہ داری مجلس کی انتظامیہ کی ہے۔ ایسے ذاکرین پر امام بارگاہوں کے دروازے بند کر دینے چاہییں۔ آپ علامہ نصیر الاجتہادی کی مجالس سنیں، کیا خوبصورت پڑھتے تھے، اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔
دوسرا میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ عزاداری کے جلوس، خلفائے راشدین کے ایام پر جلوس ضرور ہونے چاہییں لیکن اس سے اگر کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ طریقہ قرآنی تعلیمات، سنت رسول، صحابہ کرام، اہل بیت اور امہات المومنین رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ باقی حلیم، پلاؤ، زردہ، خیرات، صدقات سب کرتے رہنا چاہیے اور یہ ہمارے بزرگوں کی روایت ہے۔ اکابر اہل سنت کے ہاں بھی بزرگان کے لیے محافل اور مجالس جاری رہتی تھیں۔

ہمارے بچپن میں میری والدہ محترمہ اور دادی محترمہ محرم الحرام میں شہدائے کربلا کے نام پر والد صاحب سے چھپا کر پلاؤ اور زردہ ہم سے تقسیم کرواتیں، اس تاکید کے ساتھ کہ تمھارے ابو کو پتہ نہ چلے۔ محرم الحرام اور رمضان میں لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کا سامان آتا جاتا رہتا تھا اور اس سے جو روحانی خوشی محسوس ہوتی تھی، وہ دل ہی جانتا ہے۔ اللہ ہماری دادی محترمہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، بہت یاد آتی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com