لاپتہ بچے ۔۔ کیا ہم کسی سازش کا حصہ بن رہے ہیں ؟

پیر اگست    |    سید بدر سعید

لاپتہ بچوں کے حوالے سے خوف کی جو فضا قائم ہو چکی ہے اس نے والدین کو سب سے زیادہ ہراساں کر رکھا ہے جبکہ افواہ ساز فیکٹریوں کا کاروبار بھی عروج پر ہے ۔ لوگ اپنے مخالفین کو بھی اغوا کار قرار دے کر تشدد کر نے لگے ہیں ۔ ذہنی معذوروں اور مزدوروں پر تشدد تو ہوا ہی ہے لیکن صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خود روتے ہوئے بچے کے والد اور ماموں بھی مشتعل افراد کے ظلم کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ اجنبی خاتون پر بھرے بازار میں تشدد کرتے ہوئے کپڑے تک پھاڑ دینے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
اس سارے عمل میں سب سے گھناؤنا کردار ہم ایسے خودساختہ دانشوروں نے سوشل میڈیا پر ادا کیا اوردیگر ممالک کے بچوں کی پرانی تصاویر کو لاپتہ بچوں کی سمگلنگ کے عنوان سے شیئرکرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔

(خبر جاری ہے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا میڈیا حقائق تک رسائی کے لئے جدوجہد ہی نہیں کرتا بلکہ اس سلسلے میں متعدد قربانیاں بھی دے چکا ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بریکنگ نیوز کلچر اور سب سے پہلے ایسکلوزیو خبر کے چکر میں ایسی خبریں بھی رپورٹ ہوجاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔

درحقیقت یہی خبریں خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہیں اور میڈیا کی ساکھ پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔
ہم کس سمت چل نکلے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دنوں ایک خوفناک افواہ یہ بھی پھیلائی گئی کہ بچوں کو اغوا کرکے انکے اعضا بیچے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب جب اس بارے میں سینئر ڈاکٹرز اور سرجنز سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایسا سرے سے ہی ممکن نہیں ہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اعضا کی منتقلی کیلئے پہلے ٹشو میچ کرنا ہوتے ہیں یعنی پہلے ٹشو میچ کئے جاتے ہیں اس کے بعد اگر ٹشو میچ ہو جائیں تب اعضا کی منتقلی کا عمل شروع ہوتا ہے ۔
اب یہ تو ممکن نہیں کہ اغوا کار پہلے اغوا ہونے والے بچے کے ٹشو میچ کریں اور جب ان کے ساتھی ڈاکٹر گرین سگنل دے دیں تب اس بچے کو اغوا کیا جائے ۔ اس سے بھی اہم اطلاع یہ ہے کہ بچے کے اعضا ابھی نمو پا رہے ہوتے ہیں اور انہیں کسی بڑی عمر کے شخص کے جسم میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ایک عام شہری بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ بڑی عمر کے کسی شخص کو بچے کا جگر یا گردہ لگا دیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے ۔
اسی طرح جگر ٹرانسپلانٹ کا عمل کراچی میں ہوتا ہے جبکہ گردے کی منتقلی بھی پیچیدہ عمل ہے ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ بریکنگ نیوز کے چکر میں گیس سلنڈر پھٹنے کو ”دھماکے کی آواز سنائی دی ہے“ کی بریکنگ نیوز جاری ہوتی رہی ہے ۔ ایک حملے میں گھوڑا مرنے کی خبر سن کر گورا یعنی انگریز مارا جاتا رہا ہے ۔ اس بریکنگ نیوز کے چکر میں عموما تصدیقی عمل سے گزارے بنا خبر چلادی جاتی ہے ،یہ درست ہے کہ بعد میں تردید بھی نشر ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے خبر سنی ہو گی ان میں سے کئی ایک تردید نہیں سن سکے ہوں گے ۔
آزاد صحافت ذمہ د ار انہ صحافت کا دوسرا نام ہے ۔ اب ہمیں خود سوچنا ہو گا کہ جب تک خبر کی تصدیق نہ ہوجائے تب تک اسے نشر نہ کیاجائے۔
موجودہ دور میں تو خاص طور پر کرائم کا سارا ڈیٹا ہمارے ایک کلک کی دوری پر مجبور ہے ۔ پنجاب پولیس کی جانب سے کرائم ریٹ اور دیگر تفصیلات سرکاری ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر وہاں سے ریکارڈ چیک کرنے کی بجائے سنی سنائی خبر کی بنیاد پر کالم تک لکھ دیتے ہیں ۔
اسی طرح ہمارا رویہ صحافی سے زیادہ پولیس اور جج کا سا ہوتا ہے ۔ ہم محض ایک غیر تصدیق شدہ خبر سنتے ہیں ۔ اس کی بنیاد پر پہلے تھانیدار بنتے ہیں اور پھر جج بن جاتے ہیں ۔ ہمیں شاید اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کہیں ہمیں انجانے میں استعمال تو نہیں کیا جا رہا ؟ ہم نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ جن مسائل کا ہم شکار ہیں ان سے کیسے نکلا جا سکتا ہے ۔ بچوں کے اغوا میں کتنی صداقت ہے یہ تو اب واضح ہو چکا ہے لیکن تاحال ہم نے محلہ کمیٹیوں کو فعال نہیں کیا ۔
ماضی میں ہم ہی محلہ کمیٹی کے نام پر اپنے اپنے محلوں کی ایسی ٹیمیں بناتے رہے ہیں جو اپنے اپنے محلہ میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھتی تھیں ۔ نمبردار سسٹم بھی شاید اب محض نام کے حصے تک محدود ہو چکا ہے جبکہ ماضی میں یہی لوگ جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کی آنکھ اور کان بن جاتے تھے ۔ ایک خبر کے مطابق سات ہزار پولیس اہلکار سے انسپکٹر رینک تک بھرتیاں کی جا رہی ہیں ۔ ان بھرتیوں سے یقیینا پولیس فورس میں اضافہ ہو گا لیکن سچ یہ ہے کہ جب تک ہم محلہ کمیٹیوں کو فعال کر کے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کی سکیورٹی کو فول پروف نہیں بنائیں گے تب تک یونہی خوف کا شکار ہوتے رہیں گے ۔
ہمارا حال تو یہ ہے کہ پولیس کسی ملزم کو گرفتار کرے تو وہ گواہ نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ جاتا ہے ۔ ہم وہی ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے ہیں اور ملزم کو گرفتار کروانے کے لئے گواہی بھی نہیں دیتے ۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر میں بچوں کے اغوا کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں اور دوسری جانب جن بچوں کے اغوا کا بتایا جاتا ہے ان کی اکثریت اپنے گھر میں موجود ہے ۔ خبروں کے مطابق ان میں سے کوئی ناراض ہو کر گھر سے گیا تو کوئی کسی اور وجہ سے گھر سے بھاگ گیا ۔
چند سال ہوتے ہیں ۔ پاکستان مخالف طاقتیں بم دھماکوں کے زریعے ملک بھر میں خوف کی فضا پیدا کر رہی تھیں ۔ اب حکومت کی جانب سے کالعدم گروہوں کی کوریج پر پابندی لگائی جا چکی ہے ۔ اس پابندی کے بعد ہی ہمیں مسلسل ایسے پراپگنڈے کا سامنا ہے جو عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے ۔ پہلے گدھے کا گوشت بکنے کی داستانیں پھیلائی گئیں اور اب بچوں کے اغوا کی داستانیں مرچ مسالحہ کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ملک میں خوف و ہراس کی فضا کون قائم کر رہا ہے اورحقائق کے برعکس خبریں منظم انداز میں کیوں پھیلائی جا رہی ہیں ۔ آپ اور ہم نے تو دیگر ممالک کے بچوں کی پرانی تصاویر موجودہ صورت حال کے تناظر میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہیں کیں ۔ ہم نے تو یہ خبر نہیں چلائی کہ بچوں کے اعضا نکالے جا رہے ہیں اور ہم تو اپنے مخالفین کو اغوا کار قرار دے کر تشدد کا نشانہ نہیں بنا رہے ۔ اس کے باوجود یہ سب ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کچھ طاقتیں ملک میں خوف کی فضا قائم کرنے کے لئے انتہائی حد تک منظم ہو رہی ہیں ۔
سوشل میڈیا پر بیرون ملک بیٹھ کر بھی ایسے کام کئے جاتے ہیں ۔ اب ہمیں بھی دیکھنا ہے کہ اگر منظم انداز میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے تو کہیں ہم سوشل میڈیا پر ملک مخالف ایسی کسی کمپین کا حصہ تو نہیں بنتے جا رہے۔ کہیں ہم انہی طاقتوں کے لئے استعما ل تو نہیں ہو رہے جو کبھی بم دھماکوں کے ذریعے خوف کی فضا قائم کرتی رہی ہیں اور اب اس میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا وار کو فروغ دے رہی ہیں ۔ سوال ہمیں خود سے کرنا ہے ۔حقیقت پر مبنی خبریں ہم ایسوں کی پہچان رہی ہیں لیکن تصدیق کے بنا پھیلائی جانے والی خبریں ہماری ساکھ ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com