مجرم کون ؟ پولیس یا ہم

اتوار اکتوبر    |    سید بدر سعید

ہمارے یہاں تنقید کے نام پر حقائق کو مسخ کرنے کی روایت اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ۔ ہمیں سیاسی جماعتوں نے خوبصورت نعروں اور دعوؤں کی جال میں باندھ کر نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ۔ رواداری کے کلچر کا گلا ہم خود گھونٹ چکے ہیں ۔ ہمی نے مکالمہ کی زمین میں مفاداتی نفرت کے اتنے بیج بوئے کہ یہ زمین بنجر ہوتی چلی گئی ۔ تحقیق، مطالعہ اور آگہی کبھی ہماری پہچان ہوتی تھی ، اب ہماری اپنی کم ہمتی نے ہمیں افواہوں کے ٹرک کے پیچھے لگا دیا ہے ۔
اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرنے والوں نے یہی گوہر پایا کہ مکالمہ کا مقصد اپنی بات پر قائم رہنا ہرگز نہیں ہوتا ۔ دلیل ، اعداد و شمار اور حقائق کی بنیاد پر سوچ بدل جاتی ہے ۔ منظر نامہ کسی بھی لمحے تبدیل ہو سکتا ہے اور رویے بدل سکتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

المیہ یہ ہوا کہ ہم مکالمہ شناسی کی بجائے میاں مٹھو بن بیٹھے اور ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ کا نعرہ لگانے لگے ۔ میرا آپ سے ایک سوال ہے ۔ اگر ہر شخٰص کی اس بات پر یقین کر لیا جائے کہ وہی درست ہے اور اسی کی پارٹی بہتر ہے تو پھر اتفاق کرنا پڑے گا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت درست نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت میں اچھے اور برے دونوں لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ہر بڑی جماعت کے کھاتے میں جہاں برے کام ہیں وہیں اچھے فیصلے بھی شامل ہیں ۔ یہ زندگی کا پہلا اصول ہے ۔ زندگی تبدیلی کا نام ہے ۔ پیدائش سے بڑھاپے تک مسلسل تبدیلی ہی زندگی ہے ۔
ہم اسے ایک اور انداز سے دیکھتے ہیں ۔آپیقیناً مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ہمارے یہاں پولیس کا نام سامنے آتے ہی تھرڈ ڈگری ، طاقت ، کرپشن اور بدمعاشی جیسے خیالات جنم لیتے ہیں ۔
یہ ہماری مجموعی سوچ ہے ۔ اب اس سوچ کو منطقی انداز سے پرکھتے ہیں ۔ ہم میں سے کتنے لوگوں کو گذشتہ 6 ماہ میں گرفتار ہونا پڑا ؟ یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں کتنی بار تھانے جا کر رپٹ لکھوانے پڑی ۔ یقینا کئی لوگ تھانے گئے ہیں ہوں گے لیکن ان سے کہیں زیادہ افراد گذشتہ ایک برس یا اس سے بھی زیادہ عرصہ سے کسی پولیس اسٹیشن کے قریب بھی نہیں پھٹکے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ دونوں کے الگ تجربات اور سوچ ہو لیکن جو شخص کبھی پولیس اسٹیشن نہیں گیا اورکبھی کسی پولیس اہلکار سے اس کا واسطہ نہیں پڑا وہ بھی پولیس سے نالاں نظر آئے گا ۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ شاید اس لئے بھی کہ پولیس کے خلاف ہم مخصوص ذہن بنا چکے ہیں اور سوشل میڈیا پرپولیس مخالف سٹیٹس لکھنے سے ریٹنگ ملتی ہے ۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ہم ایماندار پولیس اہلکار کو برداشت کرنے کو تیار ہیں ۔ یقینا ہم سب ایماندار اور فرض شناس پولیس کے حق میں ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ پولیس کی ایمانداری کے قاتل ہم خود ہیں ۔ شاید اس لئے بھی کہ ہم قانون کی پابندی کی بجائے قانون ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ۔
ہم ایمانداری ، قانون کی حکومت اور معاشرے کی بہتری کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن ووٹ اسی بدمعاش کو دینا پسند کرتے ہیں جو تھانے سے ہمارا بگڑا ہوا بچہ چھڑوا لائے ۔ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہمارا بچہ ون ویلنگ ، لڑائی جھگڑے یا کسی اور جرم کے تحت گرفتار کیا گیا ہے تو اسے گرفتار کرنے والا پولیس اہلکار برا نہیں ہے ۔ برائی تو ہمارے اپنے دامن سے لپٹی ہوئی ہے ۔ ہمیں شریف اور ایماندار سیاسی قیادت کی بجائے وہ بدمعاش چاہئے جو ہمارے ناجائز کام کروانے کی سکت رکھتا ہو ۔

آپ کسی روز سڑک پر کھڑے ہو کر خود سروے کر لیں ۔ لائن اور لین کی پابندی تو دور ہمارے اکثر شہریوں کو ان کاعلم تک نہیں ہو گا۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں اشارے موجود ہونے کے باوجود ٹریفک اہلکار کھڑا کرنا پڑتا ہے ۔ ہر دوسرے ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا اور وہ شناختی کارڈ پر چالان کرواتا نظر آتا ہے ۔ گاڑیوں کی فٹنس کا حال اس سے بھی برا ہے ۔ گاڑیوں کے کاغذات پاس رکھنا ہم جرم سمجھتے ہیں ۔
ہیلمٹ اور سائیڈ مرر سے ہماری شان گھٹتی ہے ۔ معمولی باتوں پر اشتعال میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑ نا ہمارا معمول ہے ۔ہیرا پھیری کا یہ عالم ہے کہ سیاسی اکابرین سے لے کردودھ فروش تک اس میں ملوث پائے جاتے ہیں ۔ اکثر ٹریفک جام ہونے کی وجہ ہماری اپنی جلد بازی ہوتی ہے ۔ ان حالات میں جب پولیس اہلکار کسی کو گرفتار کرتا ہے تو الٹا اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ہماری پولیس کرپٹ ہے یا ہم خود کرپشن کی کھیر پسند کرتے ہیں ۔

اسی صورت حال کو ایک اور رخ سے دیکھ لیتے ہیں۔ہمارا مجموعی خیال یہی ہے کہ کسی صحافی کو گرفتار کرنے کی جرات سنگین جرم ہے ۔ کوئی قلمکار یا صحافی غلط ہو تب بھی ہمارے نعرے پولیس مخالف ہوتے ہیں ۔ کسی تاجر کو چوری کا مال خریدنے پر گرفتار کیا جائے تو مارکیٹ یونین احتجاجاً پوری مارکیٹ بند کر دیتی ہے ۔کسی وکیل کے خلاف رپٹ بھی لکھی جائے تو عدالتوں کو تالے لگا دیئے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ محلہ کے کسی کونسلر کو بھی کسی جرم میں گرفتار کیا جائے تو اسے سیاسی انتقام کا رنگ دے کر ٹائر جلانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم ایسے ہر موقع پر نہ تو تحقیق کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور نہ ہی تسلیم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ کوئی صحافی ، وکیل ،تاجر یا سیاست دان بھی مجرم ہو سکتا ہے ۔ ہم یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ سیاست دانوں کی اکثریت ملک لوٹ کر کھا گئی ہے اور ہم انہی سیاست دانوں کی گرفتاری پر ملک بند کر دینے کا اعلان بھی کرنے لگتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ پھر پولیس کسے گرفتار کرے ؟میری طرح آپ بھی کچھ دیر کے لئے سب کام چھوڑ کر یہی سوچیں کہ مجرم کون ہے ؟ ملزم کو گرفتار کرنے والی پولیس یا ملزم کو چھڑاوانے والے بااثر شہری ؟ ہمارے معاشرے اور اسلام کے عدل و انصاف کے کلچر کو کون تباہ کر رہا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ چند لمحات کی یہ خود احتسابی آپ کو بھی قانون کی پاسداری پر مجبور کر دے گی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com