”اوئے“ سے ”سر “تک کا سفر!!

جمعرات دسمبر    |    سید بدر سعید

پنجاب پولیس تبدیل ہو رہی ہے۔ ماضی میں یہ بات شاید دیوانے کا خواب لگتی لیکن اب اس کا اعتراف متعدد ٹی وی چینلز کے پروگرامز اور اخبارات کے کالم بھی کر چکے ہیں ۔ تبدیلی کا سفر ایک دن میں طے نہیں ہوتا لیکن بہرحال پنجاب پولیس نے اس حد تک یقین دلا دیا ہے کہ اگر کوئی بڑا ”اپ سیٹ “ نہ ہو تو یہ انقلاب آیا ہی چاہتا ہے ۔ پنجاب پولیس میں ڈولفن سمیت جدیداسلحہ سے لیس فورسسز ، بہترین تربیت ، تیز رفتار گاڑیاں اور موٹرسائیکلوں سے لے کرمانیٹرنگ سیل، مجرموں کا آن لائن ریکارڈ، کمپلین سیل اور سیف سٹی تک آئی ٹی کا بھرپور استعمال نظر آنا شروع ہو گیا ہے ۔
اس وقت یہ اہم نہیں کہ ہماری پولیس مکمل طور پر کتنی جلد ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کو پیچھے چھوڑ دے گی ۔

(خبر جاری ہے)

اہم سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کیسے آئی ہے ۔ مورخ کو اب تاریخ میں وہ نام محفوظ کرنے ہیں جن کی بدولت پولیس کلچر تبدیلی کی جانب گامزن ہو چکا ہے ۔ اس سلسلے میں موجودہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا اہم کردار ہے جنہوں نے پولیس اہلکاروں کے مسائل حل کرنے میں اس حد تک دلچسپی لی کہ محکمہ پولیس میں انہیں ”ویلفئر آئی جی “ کہا جانے لگا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پولیس کو مجرموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تربیت ، اسلحہ اور سہولتیں فراہم کیں تاکہ اہلکاروں کو کسی بھی لمحہ کم مائیگی کا احساس نہ ہو ۔ ماضی میں پولیس اہلکار واضح طور پر کہتے تھے کہ مجرموں کے پاس جدید اسلحہ آ چکا ہے جبکہ پولیس اہلکار روایتی اسلحہ تھامے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان حالات میں خطرناک مجرموں سے مقابلہ کا مطلب خودکشی کے سوا کچھ نہیں ۔ اب حالات یہ ہیں کہ ڈولفن سمیت پولیس کی دیگر فورسز بہادری کے ساتھ مجرموں کا پیچھا کرتی اور انہیں گرفتار کرتی نظر آتی ہیں ۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی پولیس کے لگ بھگ ہر شعبے میں نظر آ رہی ہے ۔ یہ سب آئی جی پنجاب کی ذاتی دلچسپی کی بدولت ممکن ہوا ہے ۔ پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے حوالے سے یہ شکایت رہی ہے کہ ان کے مزاج میں تلخی زیادہ ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پولیس اہلکاروں سے طویل ڈیوٹیاں لی جاتی رہی ہیں ۔ تھانے کا روایتی ماحول ، ٹوٹی ہوئی کرسیاں ، فائلوں کے انبار، کم تنخواہ اور چھٹی نہ دینے کے کلچر نے پولیس اہلکاروں کو چڑچڑابنا دیا تھا ۔
یہ بوسیدہ سسٹم اب تھانوں سے ختم ہو چکا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب کے پولیس دربار کے موقع پر چھوٹے ملازمین کی سکیل اپ گریڈیشن کا اعلان کروا کربھی اہلکاروں کا دل جیت لیا ۔ پنجاب پولیس میں ایک بڑا مسئلہ عدالتی احکامات کے بعد سیکڑوں افسروں اور اہلکاروں کی شولڈر پروموشن ختم ہونے سے ہوا ۔ ڈی پروموٹ ہونے والے ان افسرو اہلکار وں کا مورال کس حد تک گر گیاتھا اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے ۔
ان کو بددلی اور مایوسی سے بچانے کے لئے آئی جی پنجاب نے قواعد کے مطابق سنیارٹی فکس کر کے پروموشن بورڈ کے اجلاس بلانے پر زور دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی سنیارٹی تو کچھ کم ہوئی لیکن 85 فیصد افسرو اہلکار دوبارہ اپنی پہلی پوسٹوں پر آ چکے ہیں ۔آئی جی پنجاب کی جانب سے پولیس فورس کا مورال بلند کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ۔ یہ بات تو طے ہے کہ جب تک پولیس فورس کا مورال بلند نہیں ہو گا تب تک مجرموں کا مورال بلند رہے گا ۔
ماضی میں اس جانب خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ ہمارا واسطہ عموما عام پولیس اہلکاروں سے ہی پڑتا ہے ۔ یہ اہلکار طویل ڈیوٹیوں ، گرم سرد موسم ، کم تنخواہوں اور کئی کئی سال تک ترقیاں نہ ملنے کی وجہ سے جس قدر ڈپریشن کا شکار تھے اس کا علم ہر اس شخص کو ہے جس نے ان اہلکاروں سے گفتگو کی ہو ۔ ان حالات میں اگر کوئی اہلکار رشوت نہیں لیتا تو اس کے ولی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ کہیں افسران کی ذاتی چپقلش ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہو جاتی تو کہیں اے سی آر یعنی کارکردگی رپورٹ لکھنے والے افسران کی سستی آڑے آجاتی تھی ۔
بھلا ہو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا جنہوں نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا اور واضح طور پر کہہ دیا کہ جو افسر اپنے ماتحت کی بروقت اے سی آر نہیں لکھے گا اس افسر کی بھی اے سی آر روک لی جائے گی ۔ دوسری جانب بعض افسران گویا پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے کہ کسی طرح جلد از جلد چھوٹے ملازمین کے مسائل حل کر سکیں۔ اس حوالے سے سی سی پی او لاہور امین وینس اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور ایاز سلیم دن رات متحرک نظر آئے ۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ گذشتہ دو ماہ میں لاہور پولیس کے مجموعی طور پر1483 افسر و اہلکاروں کو ترقی ملی ہے جس میں 4 سب انسپکٹر ، 194 اے ایس آئی 1285 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہیں ۔ان ترقیوں سے اہلکاروں کا مورال بلند ہوا ہے ۔ ایک ایماندار اہلکار کے لئے اس کی ترقی کتنی اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اس سلسلے میں ایس ایس پی ایڈمن لاہوررانا ایاز سلیم نے جس طرح دن رات ایک کر کے دو ماہ میں پروموشن بورڈ کے چار اجلاسوں کا بروقت انعقاد کیا ،اس سے کئی صحافی باخبر ہیں ۔
صحافیوں کی جانب سے تو ان کی اس محنت کو سراہا ہی جا رہا ہے لیکن محکمہ پولیس میں بھی اس قدر ریکارڈ مدت میں اتنا زیادہ کام کرنے پر حیرت اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔سی سی پی او لاہور اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم نے جس طرح پولیس اہلکاروں کے ،مسائل حل کئے ہیں یہ دیگر اضلاع کے لئے بھی ایک مثال ہے ۔ اگر پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں محض دو ماہ کے لئے ایسے افسران تعینات ہو جائیں تو کوئی شک نہیں کہ پنجاب بھر میں پولیس اہلکار کا مورال بہت بلند ہو جائے گا جس کا فائدہ عام شہری اور نقصان مجرموں کو ہو گا۔
ہمیں اگر ملک سے جرائم ختم کر کے امن و امان نافذ کرنا ہے تو پولیس فورس کا مورال بلند کرنے کے لئے ایسے ہی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ جب عام پولیس اہلکار فورس کا مضبوط حوالہ بنے گا تو کسی میں یہ جرات نہیں ہو گی کہ اس کی موجودگی میں جرم کا سوچ بھی سکے ۔ آئی جی پنجاب ، سی سی پی لاہور اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور کے حالیہ اقدامات یہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پولیس اہلکار وں کے مسائل حل کر کے انہیں پولیس فورس کا مضبوط حوالہ بنانے کے لئے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں ۔
بلا شبہ ایسے اقدامات ہی پولیس فورس میں تبدیلی کی علامت بن رہے ہیں ۔ اہلکاروں کے مسائل حل ہوئے تو خود بخود ان کا انداز تخاطب بھی تبدیل ہو گیا ۔ ماضی میں جن ناکوں پر شہریوں کو ”اوئے “ کہہ کر روکا جاتا تھا اب انہی ناکوں پر ”سر “ کہہ کر کاغذات طلب کئے جاتے ہیں ۔ یہ اس تبدیلی کا آغاز ہے جو عروج پر پہنچی تو پنجاب پولیس ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کو پیچھے چھوڑ جائے گی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com