پاکستانی مدر ٹریسا

منگل فروری    |    سید شاہد عباس

Leipzig جرمنی کا ایک شہر ہے۔یہ اس ترقی یافتہ ملک کا آبادی کے لحاظ سے چوہودواں بڑا شہر ہے۔ 9 ستمبر 1929 کو اس شہر میں ایک ایسی عجیب و غریب بچی نے آنکھ کھولی جس نے ہوش سنبھالنے کے بعد آسائشوں سے بھرپور زندگی ٹھکرا دی اور ایک ایسے معاشرے کا مستقل حصہ بن گئی جہاں کا رخ کرتے ہوئے بھی لوگ گھبراتے ہیں۔ اور یہ معاشرہ اور ملک وطن عزیز پاکستان ہی ہے۔ صحافتی تعلیم میں اکثر جا بچا سنا کہ کتا بندے کو کاٹے تو اس خبر میں ایسی کوئی خاصیت نہیں کہ قارئین اس میں دلچسپی لیں لیکن اگر بندہ کتے کو کاٹ لے تو یہ ایک ایسی خبر بنے گی جس میں ہر ایک کی دلچسپی ہو گی۔
اسی طرح اس خبر میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ آج کل پاکستان یورپی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑئے رہتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

لیکن قارئین کے لیے ہو یا نہ ہو لیکن میرے لیے بہر حال یہ واقعی ایک اچھنبے کی بات تھی کہ جرمنی جیسے ملک سے اس بندیء خدا پاکستان جیسے ملک کا رخ کر لیا وہ بھی 60 کی دہائی میں جب پاکستان اپنے قیام کی دو دہائیوں بعد بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ یہ یقینا ایک ایسی بات ہے جو ہر کسی کا خاصہ نہیں ہو سکتی۔


Leipzig سے کراچی کا سفر اس عورت نے کیوں طے کیا کیسے طے کیا یہ ایسے سربستہ راز ہیں جو اس 87 سالہ عورت کے چہرے کی جھریوں میں پنہاں ہیں۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس سے قدرت نے ایسا کام لینا تھا جو بہت کم لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ وہ جذام کے مریضوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی ۔ کیوں کہ جنگ عظیم دوم کے قرب و جوار میں یہ تاثر نسبتاً مضبوط ہو گیا تھا کہ جذام ایک ایسا مرض ہے جس کا نہ تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی اس مرض کا شکار مریض معاشرے کی کار آمد اکائی رہ سکتا ہے۔
اور اس مرض کا شکار مریض دوسروں میں بھی یہ مرض پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ لہذا اس مرض کے شکار مریض معاشرے میں تنہائی کا شکار ہوتے گئے۔ اور پاکستان میں بھی یہی رجحان تھا کہ اس مرض کا شکار مریضوں کے لیے الگ جگہ مخصوص کر دی جاتی تھی جہاں وقت پر کھانا بھی انہیں ایک مخصوص جگہ سے دیا جاتا تھا اور ان سے کسی بھی طرح کا ملنا جلنا نہایت کم کر دیا جاتا تھا۔ یوں کہہ لیں کہ جذام کا شکار مریض معاشرے کی نفرت کا شکار ہو رہے تھے۔
راقم خود راولپنڈی میں مشنری دور کی ایک ایسی جگہ کا خود مشاہدہ کر چکا ہے جو اس مرض کے مریضوں کی علاجگاہ ہے لیکن اس کو زبانِ عام میں مشہور ہی" کوڑھوں کا احاطہ"کر دیا گیا ہے۔یہ بنیادی طور پہ قیام پاکستان سے قبل کا ایک ایسا ہسپتال ہے جو ایسے مریضوں کا علاج کرتا تھا جو معاشرے کی بے حسی کا شکار ہو جاتے تھے۔ (جذام کو ہی عام زبان میں کوڑھ کا مرض کہا جاتا ہے)۔احاطہ بنیادی حوالے سے لفظی طور پر ایسی جگہ کو ہی کہتے ہیں جو کسی بھی مخصوص کام کے لیے استعمال ہو۔
اور اس مخصوص استعمال کے علاوہ اس جگہ عام افراد کا آنا جانا نہ ہو۔ ایسے ہسپتال کو جہاں جذام کے مریضوں کا علاج ہوتا تھا کوڑھوں کا احاطہ بھی اسی لیے کہا جانے لگا کہ وہاں داخل کروانے کے بعد اقرباء بہت کم ملاقات کے لیے جاتے تھے۔ راولپنڈی کی طرح بہت سے شہروں میں ایسے احاطے آج بھی موجود ہیں۔
پاکستان میں جذام کے علاج کے حوالے سے " میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر" کا آغاز 56ء میں ہو چکا تھا۔
60ء کی دہائی میں اس جرمن عورت کے پاکستان آنے سے جذام کے خلاف گویا ایک جنگ کا سا آغاز ہو گیا۔ مریضوں کا علاج ہو نے لگا۔ آج پاکستان میں " میری ایدیلیڈلپروسی سینٹر" جذام کے خلاف ایک علامت بن چکا ہے۔قیام پاکستان سے قبل منگھو پیرسینیٹوریم جذام کے مریضوں کی واحد امید تھی جو 1896 میں قائم ہوا تھا لیکن آج پورے پاکستان میں " میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر"کے 150 سے زائد سینٹرز قائم ہیں۔اور میکلورڈ روڈ پہ ایک ڈسپنسری سے آغاز کرنے والا ادارہ آج ایک قومی سطح کی تنظیم کا روپ دھار چکا ہے۔

پاکستان کو عالمی ادارہء صحت 1996 میں ہرگز جذام سے پاک ملک قرار نہ دیتا اگر 1929 میں جرمنی میں پیدا ہونے والی "ڈاکٹررتھ کیتھرینا مارتھاپفاؤ" 60 کی دہائی میں پاکستان کا رخ نہ کرتیں۔60ء میں جب انہوں نے جذام کے مریضوں کی کالونی کا دورہ کیا تو پھر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ اور آج ڈاکٹر پفاؤ ایک علامت کا درجہ پا چکی ہیں۔ خدا جب کچھ لوگوں کو چنتا ہے تو پھر ان کا نام کیسے تاریخ میں رقم ہو جاتا ہے اس کا پتا ڈاکٹر پفاؤ کی حیات کا مطالعہ کرنے پہ چلتا ہے۔
حیرانگی ہوتی ہے کہ کیسے ڈاکٹر پفاؤ جیسے کردار پر آسائش زندگی چھوڑ کر لوگوں کی تکلیفیں مٹانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ آج اگر پاکستان میں جذام کا مرض نہ ہونے کے برابر ہے تو ایسا صرف اس بدیسی پاکستانی کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ 1988میں ڈاکٹر پفاؤ کو پاکستانی شہریت دی گئی۔پاکستان اور جرمنی کے اعلیٰ ترین سول اعزازت کے علاوہ ڈاکٹر پفاؤ کو کم وبیش دس اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ڈاکٹر نے پہلی مرتبہ جذام کے مریضوں کا نہ صرف باقاعدہ ریکارڈ اکھٹا کیا بلکہ بعد از علاج بھی ان کو معاشرے کی سود مند اکائی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ " کوڑھ" کا لفظ تک معاشرے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 2010 میں غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو نے جذام سے مقابلے کی طرف راغب ہونے کو وہ ایک نوجوان پٹھان مریض قرار دیتی ہیں جو ہاتھوں پہ خود کو گھسیٹ رہا تھا۔ ایک مریض سے شروع ہونے والے سفر میں91 میں جذام کے حوالے سے ڈاکٹر پفاؤ کو وفاقی مشیر بنا دیا۔ یہ اعلیٰ حکومتی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف بھی تھا۔

ہم میں سے ہر کوئی ہمیشہ گلہ کرنا اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنا بھی گوارا کیا کہ ہم نے وطن عزیز میں مسائل سے نمٹنے کے لیے خود کتنی کوشش کی۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بیماریوں کی وجوہات خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہی جو مسائل کے خاتمے کے بجائے ان کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ کیا ہم میں سے ایسا کوئی نہیں جو پفاؤ کے نقش قدم پہ چل سکے؟ کیا ہم میں سے ایسا کوئی نہیں جو ایدھی کی روش کو اپنا سکے؟ کیا ہم رمضان چھیپا کی طرح مخلوق کی خدمت کا عہد نہیں کر سکتے ؟ آخر کیوں ہم ہمیشہ یہ توقع رکھتے ہیں حکومتی سطح پہ کوئی ہماری مدد کو آئے اپنے مسائل ہم خود کیوں حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے؟ ڈاکٹر پفاؤ نے اپنی مہم شروع 63ء میں کی لیکن اس کو قومی سطح پہ پذیرائی 71 میں ملی تو کیا درمیان کے سال ڈاکٹر پفاؤ نے کوشش جاری نہیں رکھی؟ تو ہم کیوں پھر چند دنوں میں اکتا جاتے ہیں۔
جیسے حال ہی میں غرباء کی مدد کے لیے دیوارِ مہربانی کا فلسفہ سامنے آیا اللہ کرئے ایسے ہی پاکستان کا ہر ذی شعور شخص اپنے مسائل خود حل کرنے کی طرف توجہ دئے اور مفادات سامنے رکھنے کے بجائے بے لوث جذبے شامل حال ہوں۔ الہی امین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com