آبائی گاؤں میں تین دن

ہفتہ اپریل    |    عمر خان جوزوی

آبائی گاؤں سے پیار و محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر انسان کو قدرتی طور پر اپنے آبائی گاؤں سے اس قدر لگاؤ ہوتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے گاؤں کے ذرے ذرے کواپنے دل ودماغ میں ہمہ وقت یادرکھتاہے۔ویسے بھی وہ آبائی گاؤں جس کی مٹی انسان کے وجود میں پیوست اور جس کا پانی انسان کی رگ رگ میں ہر وقت دوڑتا ہو اس کو بھولنا یقینی طور پر انسان کے بس کی بات نہیں۔پھر اس آبائی گاؤں میں اگر دنیا کی ہر چیز سے پیاری ماں ہمیشہ کیلئے میٹھی نیند سو رہی ہو تو انسان اس گاؤں کو بھول بھی کیسے سکتا ہے۔
۔؟ جوز جو میرا آبائی گاؤں ہے یہاں کی مٹی نے میری ماں کو اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس گاؤں سے کوسوں دورشہرمیں ہوتے ہوئے بھی میرادل ہروقت اس علاقے اورگاؤں کیلئے دھڑکتاہے ۔

(خبر جاری ہے)

یہ علاقہ بٹگرام شہر سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر یونین کونسل بٹہ موڑی میں شمال کی سمت ضلع بٹگرام کی دو بلند پہاڑیوں چیل اور گنجا کے دامن میں پر پھیلائے واقع ہے۔ اس علاقے کو قدرت نے بے پناہ حسن اور قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔

گھنے جنگلات، پانی کے صاف و شفاف چشموں، لہلہاتے کھیتوں اور سرسبز نظاروں سمیت اس علاقے میں قدرت کی دیگر نعمتوں کی کوئی کمی نہیں لیکن اس کے باوجود اس جنت نظیر وادی اور خوبصورت علاقے کو ہر دور میں حکمرانوں نے نظرانداز کیا۔ چند دن پہلے دل میں یہ خواہش لئے کہ خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں بھی تبدیلی آئی ہوگی اور ترقی کا نیا دور شروع ہوا ہوگاجوز کا سفر کیا لیکن جوز پہنچنے سے پہلے کھنڈر نما سڑکیں، سروں پر بجلی کی لٹکتی تاریں اور محکمہ تعلیم کی بلندوبالا بلڈنگوں کی جگہ خیموں میں قائم تعلیمی ادارے دیکھ کر میرے تو رونگھٹے ہی کھڑے اور دل کی دھڑکیں تیز ہو گئیں۔
پرویز خٹک اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جو کہا واقعی وہ کر کے دکھایا۔ٹھیک کہا،، گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر سے تو تبدیلی نہیں آتی،، اس لئے انصاف والوں نے اپنی حکومت کے تین سالوں میں ان کھنڈر نما سڑکوں کو ہاتھ لگانا تو دور ان کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ بٹگرام شہر سے جوز تک ان کھنڈر نما سڑکوں پر سفر کرکے صوبے میں تین سالوں کے دوران آنے والی تبدیلی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
جن سڑکوں اور راستوں پر گدھے بھی چل کر کان کھڑے کر دیتے ہیں افسوس صد افسوس پی ٹی آئی کی حکومت میں آج ان شاہراہوں اور راستوں پر غریب انسان سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس دنیا میں ایک ہی سڑک تو عوامی رابطے اور ترقی کا واحد ذریعہ ہے اس کی تعمیر کو ہی اگر شجر ممنوع قرار دیا جائے تو پھر تبدیلی اور ترقی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ۔۔؟ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے غریب لوگوں کو ایک بار پھر پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے۔
آج ان کھنڈر نما سڑکوں پر سفر کے دوران پتھر کے زمانے کی زندگی کا احساس سا ہوتا ہے۔ آبائی گاؤں جوز میں تین دن قیام کے دوران میں نے جو حالات دیکھے ان کو کوئی بھی باشعور اور ذی عقل انسان دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس ملک اور صوبے میں بھی آخر کوئی حکومت ہے ۔۔جہاں کسی دور میں بجلی کے کھمبے لگائے گئے ہوں ۔۔جہاں اب بھی بجلی کی تاریں انسانی سروں پر لٹک تو رہی ہوں مگر بجلی کا نام و نشان نہ ہو۔
۔ جہاں تعمیر ہونے والی سرکاری سکولوں کی عمارتیں سکڑ کر خیموں تک آگئی ہوں ۔۔ جہاں کے لوگوں کے دکھ درد بانٹنے اور آنسو پونچھنے کیلئے کوئی نہ ہو۔ وہاں کیسے یہ خیال اور گمان کیا جاسکتا ہے کہ یہاں بھی کسی کی حکومت ہوگی ۔۔؟ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے تو میرے آبائی گاؤں کے لوگوں نے بھی کردار ادا کیا۔۔ جمہوریت کی بحالی کیلئے جب بھی جہاں کوئی جلسہ، جلوس، مارچ اور احتجاج ہو ا۔اس میں میرے گاؤں کے کسی نہ کسی شخص نے بھی ضرور شرکت کی۔
تعلیم کا میدان ہو۔۔ صحت کا ہو یا پھر سیاست ۔میرے گاؤں کے نوجوانوں نے تو ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تین سال پہلے جب ملک میں عام انتخابات ہوئے اس میں بھی تو میرے گاؤں کے لوگ ووٹ ڈالنے والوں میں سب سے آگے رہے۔ انہوں نے بھی تو اپنے قیمتی ووٹ دئیے۔ آخر ان کے ووٹوں سے بھی تو اقتدار کے ایوانوں تک کوئی پہنچا ہوگا۔ پھر اس کے باوجود یہاں کے عوام سے سوتیلی ماں جیسایہ سلوک کیوں ۔۔؟ کیا قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں اس علاقے کے عوام کا کوئی نمائندہ نہیں ۔
۔؟ یا یہ علاقہ این اے 22 اور پی کے 59 سے منتخب ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقہ نیابت میں نہیں آتا ۔۔؟ کیا ممبر قومی اسمبلی قاری محمد یوسف اور رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ ولی محمد خان اس علاقے کے عوام کے ایم این اے اور ایم پی اے نہیں ہیں۔۔؟ اگر ہیں تو پھر ان دونوں نے یہاں کے عوام کو دیوار کے ساتھ کیوں لگایا ہے۔۔ ؟ عوام منتخب نمائندوں کوووٹ اس لئے دیتے ہیں کہ وہ پھر ان کے مسائل حل کر سکیں۔
عوامی مسائل میں اضافہ منتخب ممبران کاکام نہیں اور نہ ہی باعزت اورمہذب معاشروں کے منتخب ممبران اپنے ووٹروں اور سپورٹروں سے اس قسم کا سلوک کرتے ہیں۔۔ منتخب ممبران کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ان کے حلقے کے عوام تاریکیوں میں شب و روز گزار کر سڑکوں اور گلیوں میں پتھروں سے کشتی کریں اور ایم این اے و ایم پی اے چین کی بانسری بجاتے پھریں۔قیامت خیز زلزلے کے 10 سال بعد بھی گرلز پرائمری سکول بیڑھ کی عمارت تعمیر نہ ہو سکی۔
عمارت تعمیر نہیں کرنی تھی تو پھر گرائی کیوں ۔۔؟ وہ عمارت تو زلزلے سے مکمل تباہ نہیں ہوئی تھی۔۔؟ بلندو بالا و دلکش عمارت کی جگہ پھٹا پرانا خیمہ دیکھ کر میرا تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ایک طرف تو تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیمی انقلاب کے راگ الاپے جارہے ہیں لیکن دوسری طرف قوم کے نونہالوں کیلئے سر ڈھانپنے کی بھی جگہ نہیں۔ چاہیے تو یہ کہ پہلے پرائمری سکول بیڑھ کی عمارت تعمیر کی جاتی اس کے بعد چار دیواری کیلئے بندوبست کیا جاتا لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے بھی توتمام کام نرالے ہیں۔
یہاں بھی تبدیلی کیلئے کچھ نیا کرنے کاکام کیا گیا۔ سکول کا تو وجود نہیں مگر چار دیواری کی تعمیر پر لاکھوں روپے اڑا دئیے گئے۔ جس طرح میت ہی نہ ہو تو قبر بنانا بیوقوفی ہے۔ اسی طرح سکولوں کی عمارت نہ ہونے کے باوجود چاردیواری کی تعمیر بھی بے وقوفی سے کم نہیں۔ چار دیواری پر آنے والے اخراجات سے اگر ایک کمرہ بھی تعمیر کیا جاتا تو معصوم اور پھول جیسے بچوں کو کم از کم کچھ نہ کچھ سایہ تو مل جاتا۔
مگر افسوس کہ حکمرانوں کو پیٹ کی جہنم بھرنے کے سوا کسی چیز کی کوئی فکر ہی نہیں۔تعلیم کے ساتھ میرے گاؤں کے لوگ طبی سہولیات کیلئے بھی ترس و تڑپ رہے ہیں۔ ہزاروں کی آبادی کیلئے علاقے میں ایک بی ایچ یو تو ہے مگر وہاں وہ طبی سہولیات میسر نہیں جن کی مدد سے قیمتی جانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جائے۔ بجلی تو اس علاقے میں گدھے کے سینگ کی طرح اس طرح غائب ہوتی ہے کہ دوربین میں بھی دور دور تک نظر نہیں آتی۔
گھنٹوں میں بائیس سے تائیس گھنٹے لوڈشیڈنگ ظلم اور بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے ۔۔؟ کیا دنیا کے کسی اور ملک اور علاقے میں 24 میں سے 22 تا 23 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا ظلم ہوتا ہے۔۔؟ لوڈشیڈنگ کی بات کی جائے تو صوبائی حکومت اپنی نااہلی ،غفلت،لاپرواہی اوربے حسی چھپانے کیلئے اس کاملبہ وفاقی حکومت پرڈال دیتی ہے۔ماناکہ واپڈاصوبائی نہیں وفاقی محکمہ اور اس کا کنٹرول بھی مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے لیکن آخر صوبائی حکومت کی بھی تو کچھ ذمہ داریاں ہیں، بجلی، صحت، تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی غریب عوام کو فراہمی حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے اور عوامی حقوق کا تحفظ حکمرانوں چاہے وہ صوبائی ہوں یا مرکزی ان پر فرض ہوتا ہے۔
ایسے میں نہ صرف میرے گاؤں کے مکینوں بلکہ پورے صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اب اگر صوبائی حکومت عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی تو اس میں پھر کسی اور کو ذمہ دار اور مجرم ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں۔ یہ اگر وفاق سے اپنا حق چھین کر نہیں لے سکتے تو کم از کم اپنے وسائل تو ان سے روکیں۔اسی بٹگرام کی تحصیل آلائی میں خان خوڑ ڈیم بنا۔ آج اس کی بجلی سے اسلام آباد تو روشن ہے مگر آلائی اور بٹگرام پھر بھی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
صوبائی حکومت وفاق کے منہ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتی لیکن کیا ان کے ہاتھ بھی صوبائی حکمران نہیں روک سکتے ۔۔؟ آبائی گاؤں جوز میں تین دن قیام نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے تو یہ حالات نہیں تھے۔ مسائل ہوں گے لیکن اتنے بھی نہیں کہ آج کی طرح شمار سے ہی باہر ہوں۔ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جوز جیسے پسماندہ اور بالائی علاقوں میں لگے بجلی کے بلب بھی تین سالوں سے بینائی یا روشنائی سے محروم ہیں۔
۔ جن سڑکوں پر تین سال پہلے موٹر کار اور دیگر چھوٹی گاڑیاں چلتی تھیں اب ان پر جیپ کے ڈرائیور بھی جانے سے کتراتے ہیں۔ تین سال پہلے جن بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں دیکھنے کو ملتی تھیں آج ان کے ہاتھوں میں بھی پتھر اور لاٹھیاں نظر آرہی ہیں جن سے وہ گلی ڈنڈا و دیگر کھیل کھیل کر تعلیم حاصل نہ کرنے کا غم ہلکا کر رہے ہیں۔ جس ملک اور معاشرے میں جوتوں کی قیمت تو ہو مگر انسان کی کوئی اہمیت نہ ہو۔
۔ جہاں جوتے تو شوکیس اور اےئرکنڈیشنڈ دکانوں میں رکھے جائیں مگر سبزی و فروٹ کیلئے ریڑھیوں اور تھڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ہو۔۔ جہاں سکول کی چاردیواری تعمیر کرنے کیلئے تو فنڈز ہوں مگر سکولوں کی عمارتیں بنانے کیلئے ایک پیسہ نہ ہو۔ آپ خود سوچیں وہاں تبدیلی اور ترقی کیسے آئے گی ۔۔؟ جو لوگ زندہ انسانوں کی قدر کرنے کی بجائے مردہ انسانوں کی پوجا کرنے کو ثواب اور عقلمندی سمجھتے ہیں وہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
۔ عمران خان اور پرویز خٹک یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ سیمنٹ سریا کے استعمال اور گلیوں و سڑکوں کی تعمیر سے ترقی نہیں ہوتی جو بالکل غلط ہے۔ آخر سوچنے کی بات ہے جب گلیاں اور سڑکیں تعمیر نہیں ہوں گی تو پھر لوگ دیہاتوں اور بالائی علاقوں سے شہروں میں کیسے آئیں گے ۔۔؟ پہاڑی علاقوں اور دیہاتوں کا اگر شہروں سے رابطہ کاٹ دیا جائے تو پھر ترقی کا عمل بھی خود رک جائے گا۔ اشیاء کی درآمد اور برآمد جو ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے وہ بھی تو سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
پاک چین تجارت کی زیادہ تر سرگرمیاں شاہراہ ریشم کے ذریعے ہوتی ہیں اسی وجہ سے تو اقتصادی راہداری کا تاریخی منصوبہ منظور ہوا۔ تجارتی سرگرمیوں کو اگر نکال بھی دیا جائے تو تب بھی انسانی ترقی میں سڑکوں اور گلیوں کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سڑکیں اور گلیاں انسان کی ضرورت ہیں جن کی تعمیر کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ عمران خان اور پرویز خٹک کو اب بچوں والی باتیں چھوڑ دینی چاہئیں۔ کسی ملک میں قحط پڑی، لوگ بھوک سے مر رہے تھے بادشاہ کی بیٹی نے جب یہ منظر دیکھا توکسی سے پوچھایہ لوگ ایڑھیاں رگڑرگڑکرکیوں مررہے ہیں ۔
۔؟کسی نے جواب دیاکہ قحط ہے کھانے کیلئے کچھ نہیں تووہ بولی کہ یہ لوگ دہی اور چاول کیوں نہیں کھاتے۔۔؟ عمران خان اور پرویز خٹک بھی بادشاہ کی اس لاڈلی بیٹی جیسی باتیں کررہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے لوگ بہت غریب ہیں ان کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں کہ یہ ان میں اڑ کر ایک سے دوسری جگہ جائیں۔ یہی سڑکیں اور گلیاں ان کے آنے جانے کی واحد ذریعہ ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور بٹگرام کے منتخب ممبران اسمبلی سے گزارش ہے کہ خدارا جوز جیسے پسماندہ اور دوردراز علاقوں کی سڑکوں کو مزید کھنڈرات نہ بنائیں۔ آثار قدیمہ کا کام تو اور بھی کئی جلی کٹی اشیاء سے چل ہی جائے گا لیکن عوام کا ان سڑکوں کے بغیر گزارہ ہرگزنہیں چل سکتا ۔اس لئے ان دوردرازعلاقوں کی ان سڑکوں کو بننے اور رہنے دیں تاکہ غریبوں کی زندگی بھی کسی طرح گزر سکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com