امن ہم سے دورکیوں ۔۔۔۔؟

جمعہ اکتوبر    |    عمر خان جوزوی

بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھاتوان سے رہانہ گیا۔۔فوراًکمہار سے اس کی وجہ پوچھی۔۔کہ یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا۔۔بادشاہ سلامت۔۔ جو لائن توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں۔۔اسی وجہ سے کوئی لائن سے ادھرادھرجانے کی کبھی کوشش نہیں کرتا۔۔ بادشاہ بولا ۔۔میرے ملک میں تولائنوں پرلائنیں توڑی جارہی ہیں۔۔ کیاتم میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر سکتے ہو۔ ۔کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کیساتھ چل پڑا۔
دارالحکومت پہنچتے ہی کمہارکواس کے کہنے پرجج بنادیاگیا۔۔جج بنتے ہی کمہارنے عدالت لگا ئی۔۔ چور کا مقدمہ آیا توکمہارنے بطورجج چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی۔ جلاد نے وزیر کی طرف اشارہ کیا کہ چوروزیرکاخاص بندہ ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔

(خبر جاری ہے)

۔ وزیر سمجھا شائد جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی۔۔ وہ آگے بڑھا۔۔ کمہار کے کان میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا۔

۔ چور کا ہاتھ اور وزیر کی زبان کاٹ دی جائے۔۔ بادشاہ نے فیصلے پرمن وعن عمل کراتے ہوئے چورکاہاتھ اوروزیرکی زبان کاٹ دی۔۔وزیرکی زبان کٹتے ہی کمہارکے اس ایک فیصلے سے آگ و خون کی ندیاں بند۔۔قتل وغارت۔۔چورچکاری ۔۔لوٹ مارکاسلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم اور ملک میں مکمل امن قائم ہو گیا۔آج اس ملک میں جنگل کاقانون رائج ہے۔۔امیروں کیلئے الگ اورغریبوں کے لئے الگ قانون اورنظام کی وجہ سے آج اس ملک میں گدھے کیاکہ انسان بھی سیدھے اورلائن میں نہیں چلتے۔
۔جس طرف بھی دیکھو۔۔ظلم اورناانصافی کی گرم گرم ہوائیں استقبال کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔۔اس کے باوجودہم ملک کی گلیوں اورمحلوں میں امن تلاش کرتے پھرتے ہیں ۔۔جہاں انصاف ملتانہیں بکتاہو۔۔جہاں امیرکے لئے الگ اورغریب کے لئے الگ قانون ہو۔۔جہاں انسان کی بجائے پیسے کوسلام کیاجاتاہو۔۔جہاں ایک پیسہ چوری کرنے والاجیل میں ایڑھیاں رگڑرہاہو اوراربوں روپے ہڑپ کرنے والاقتدارکے مزے لوٹتاہو۔۔جہاں غریب قاتل کے لئے پھانسی کاپھندااورریمنڈڈیوس جیسے امیرزادے وڈالرپتی کیلئے خودساختہ دیت ہو۔
۔ وہاں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔سعودی عرب بھی پاکستان جیساایک اسلامی ملک ہے۔۔ہمارے جیسے انسان وہاں بھی رہتے ہیں ۔۔اسلام کامرکزہونے کی وجہ سے ہم سے زیادہ وہ اغیارکے نشانے پرہیں ۔۔باطل کی ریشہ دانیوں اورسازشوں کے باوجودوہاں آج بھی امن قائم ہے ۔۔ہم نے امن کی تلاش کے لئے قبائلی علاقوں کاچپہ چپہ جیٹ طیاروں اورگولیوں سے چھان مارا۔۔کراچی سے بلوچستان تک آپریشن بھی ہم نے ایک نہیں کئی کئے۔
۔دشمنوں سے ہاتھ ملانے کے ساتھ طاقت کااستعمال بھی ہم نے خوب کیا۔۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عام عوام کے ساتھ ہمارے ہزاروں فوجی جوان بھی جام شہادت نوش کرگئے۔۔امن کی خاطرہم نے اپنی مائیں ۔۔بہنیں ۔۔بیٹیاں اورپھول جیسے بچے بھی خون میں نہلائے۔۔لیکن پھربھی اس ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہوا۔۔جبکہ ہمارے مقابلے میں سعودی عرب کے اندرنہ کوئی آپریشن ہوا۔۔نہ طاقت کاکوئی استعمال ۔۔پھربھی وہاں امن ہے۔
۔ مگرہم بدامنی کے سائے تلے زندگی گزاررہے ہیں ۔۔ایساآخرکیوں ہے۔۔کیاہم نے اس بارے میں کبھی سوچا۔۔اسلامی ملک پاکستان بھی ہے اورسعودی عرب بھی ۔۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں جولائن توڑتاہے اسے تخت پربٹھادیاجاتاہے جبکہ وہاں لائن توڑنے والے کو کمہارکی طرح تختہ دارپرلٹکادیاجاتاہے ۔۔ریمنڈڈیوس امریکی شہری ہے ۔۔وہ پاکستان آتاہے اورڈالروں کے نشے میں لاہورکی سرزمین پروہ قاتل کادرجہ حاصل کرلیتاہے۔
۔قتل کیس میں وہ گرفتارہوتاہے۔۔اس کے گرفتارہوتے ہی فونوں پرفونز کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں ۔۔صدرسے وزیراعظم تک حرکت میں آتے ہیں ۔۔پھانسی کے پھندے کی طرف جانے والے راستے اورقانون کارخ راتوں رات دوسری طرف موڑدیاجاتاہے اوریوں ایک خودساختہ دیت کے ذریعے ریمنڈڈیوس کوقاتل سے فرشتہ بناکرامریکہ روانہ کردیاجاتاہے۔۔اس کے مقابلے میں سعودی عرب کے اندرشاہی خاندان کا چشم و چراغ شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر ،بادشاہ وقت کا بھتیجا،شباب کباب اور دھن دولت کے نشے میں اپنے ہی دوست عادل المحمیدکو قتل کرتا ہے، پولیس انہیں گرفتار کرتی ہے ،شہزادے کوہتھکڑیاں لگتی ہیں ۔
۔تھانے میں کوئی مک مکانہیں ہوتا۔۔ایس ایچ اویاایس ایس پی کوبادشاہ کی کوئی کال نہیں آتی۔۔بات تھانے سے فوراًعدالت پہنچتی ہے ۔۔عدالت میں مقدمہ چلتا ہے ۔۔جج پربھی کوئی دباؤنہیں ڈالتانہ ہی قاضی کوسرکاری مہمان بنانے کاکوئی قدم اٹھایاجاتاہے ۔۔عدالت پوری آزادی سے اپنی کارروائی مکمل کرتی ہے ۔۔ترکی بن سعود الکبیر قصاص کے طور پر سزائے موت کا حقدار ٹھہرتا ہے ۔۔ عدالت پر نہ کوئی دباؤ ہوتا ہے نہ جج کا قلم و ضمیر خریدنے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے۔
۔شہزادے کو بیرون ملک فرار کرانے کی کوئی ترکیب سوجھی اور سوچی جاتی ہے نہ ہی منصف کو اوپر سے کوئی فون آتا ہے۔۔شہزادے کو قصاصا ً18 اکتوبر 2016 کو تختہ دارپرلٹکادیاجاتاہے ۔۔اسی وجہ سے وہاں امن کے لئے کسی آپریشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔کیونکہ یہ اللہ کاقاعدہ وقانون ہے ۔۔جہاں انصاف کابول بالاہو۔۔وہاں امن کابھی راج ہوتاہے۔۔جہاں سے انصاف روٹھ جائے وہاں سے قدرتی طورپرامن بھی روٹھ جاتاہے ۔۔جس ملک میں زندہ انسانوں کی بجائے مردوں کوانصاف ملتاہو۔
۔وہاں کبھی امن قائم ہی نہیں ہوسکتا۔۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اپنے ہی اعمال ۔۔افعال اورکردارکی وجہ سے آج انصاف ہم سے روٹھ چکاہے۔۔ملک کے وزیراعظم۔۔صدر۔۔جاگیردار۔۔سرمایہ دار۔۔خان ۔۔نواب ۔۔چوہدری۔۔سردار۔۔رئیس۔۔وڈیرہ یاکسی اعلیٰ افسرکابیٹااگرچوری۔۔قتل ۔۔زنا۔۔ڈاکہ زنی اورچوری کرے تواسے کوئی نہیں پوچھتا۔۔زیادہ مسئلہ ہوتواسے سرکاری خرچے پربیرون ملک فرارکرادیاجاتاہے۔۔دوسری طرف اگرکسی غریب کابچہ پیٹ کی جہنم بھرنے کے لئے روٹی کاایک نوالہ بھی چھیننے تواسے مجرم بناکرقیدخانے میں بندکردیاجاتاہے۔
۔کوئی غریب اگرکسی ظالم ۔۔جاگیردار۔۔سرمایہ دار۔۔خان ۔۔نواب ۔۔چوہدری۔۔سردار۔۔رئیس۔۔وڈیرے یاکسی اعلیٰ افسرکے خلاف عدالت کادروزہ کھٹکٹھائے توسالوں تک اس کوپھرکوئی انصاف نہیں ملتا۔۔وہ غریب اگرپھرمظہرحسین جیساکوئی ہوتومرنے کے سال دوسال بعدوہ پھرانصاف کاحقدارٹھہرتاہے۔۔ امن ہم سے زیادہ دورنہیں ۔۔آج ہی اگرہم انصاف کادامن ہاتھ سے پکڑیں ۔۔تواس ملک میں امن کے لئے سعودی عرب کی طرح ہمیں بھی کسی آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
۔اس ملک میں صرف ایک باراگرکسی چور۔۔ڈاکو۔۔لٹیرے۔۔کرپٹ اورقاتل وزیراعظم۔۔صدر۔۔جاگیردار۔۔سرمایہ دار۔۔خان ۔۔نواب ۔۔چوہدری۔۔سردار۔۔رئیس۔۔وڈیرے یاکسی اعلیٰ افسرکاہاتھ کاٹاجائے یاان کوپھانسی کے پھندے پرلٹکایاجائے تواس کے بعداس ملک میں بھی پھر نہ صرف گدھے بلکہ انسان بھی کبھی لائن نہیں توڑیں گے۔۔آج یہ واویلاکیاجارہاہے کہ اس ملک کی قسمت میں ہی امن نہیں ۔۔یاامن قائم ہی نہیں ہوسکتا۔۔ٹھیک کہتے ہیں ۔۔جب تک غریب مجرم اورامیرمحرم ہوں گے اس وقت تک واقعی اس ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔لیکن صرف ایک باراگرکسی ایک بااثرشخص کوکسی چوک اورچوراہے میں الٹکالٹکایاجائے تواس کے بعداس ملک میں بھی آگ و خون کی ندیاں بند۔۔قتل وغارت۔۔چورچکاری ۔۔لوٹ مارکاسلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گااورپھرامن کے قیام میں ایک لمحے کی بھی دیرنہیں لگے گی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com