ڈاکٹرقوم کے مسیحایاڈاکو۔۔۔۔؟

ہفتہ مئی    |    عمر خان جوزوی

ڈاکٹر کو کسی دور میں قوم کا مسیحا کہا جاتا تھا لیکن آج ۔۔۔۔؟ لوگ ڈاکٹر کو ڈاکو۔۔ قصائی۔۔ سنگدل۔۔ ظالم و دیگرکئی ناموں سے پکارتے ہیں۔ ڈاکٹر واقعی مسیحا ہوتے ہیں کیونکہ عوام کے زخموں پر پہلامرہم ہی یہی ڈاکٹرتو رکھتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت اور اللہ کی مخلوق کے زخموں پر د کھ ۔۔ درد اور تکلیف میں مرہم رکھنا یقینی طور پر بہت بڑے ثواب کاکام اور بڑی عبادت ہے مگر افسوس کہ آج کے ڈاکٹروں نے اس ثواب پرگناہ اور عبادت پر کاروبار کو ترجیح دے دی ہے۔
اسی وجہ سے آج لوگ ڈاکٹروں کو مسیحا ماننے کیلئے تیار نہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت کو فراموش کرکے ڈاکٹروں نے جس طرح طبی شعبے کو نوٹ چھاپنے والی مشین کادرجہ دے دیاہے۔ اسی کا نتیجہ ہی تو ہے کہ اب مال و دولت کی حرص دل میں رکھنے والے ان ڈاکٹروں کے ہاتھوں سے اللہ نے شفاء بھی اٹھا لی ہے، آج یہ ڈاکٹر لوگوں سے ہزاروں اور لاکھوں روپے لے کر ان کا علاج تو کرتے ہیں مگرہزاروں اورلاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعدبھی ان ڈاکٹروں سے علاج کرانے والے لوگوں کو شفاء نہیں ملتی۔

(خبر جاری ہے)

میں نے طب کے میدان میں ایسے کئی ڈاکٹردیکھے جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کوعبادت سمجھ کر اپنے اعلیٰ اخلاق۔۔اعمال۔۔افعال اورکردارسے قوم کے حقیقی مسیحاہونے کاثبوت دیا۔میں ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد کے ڈاکٹر عتیق الرحمن جہانگیری، ڈاکٹر وقار،ڈاکٹرزاہدکے نام لوں ۔۔۔۔ڈاکٹرکمال کاتذکرہ کروں یا اپنے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر نثار کی دکھی انسانیت سے جڑے کارنامے بیان کروں جو نفسا نفسی اور مادہ پرستی کے اس دور میں آج بھی عوام کے زخموں پرحقیقی معنوں میں مرہم رکھنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہے ہیں ۔
اس کے ساتھ میں نے طب کے اسی میدان میں ایسے بھی کئی ڈاکٹروں کو دیکھا جو اپنے ہسپتالوں اور کلینک پر آنے والے مریضوں کے ساتھ سیاستدانوں کی طرح مداریوں والا گیم کھیل کر جیبیں بھرتے نہیں تھکتے۔میں نے اسی بدقسمت ملک کے کئی ہسپتالوں اورکلینک پرایسے کئی ڈاکٹروں کوانسانوں سے زیادہ کاعذکے ٹکڑوں سے پیارکرتے دیکھا۔درحقیقت کئی ڈاکٹرتوکلینک وہسپتال کارخ ہی نوٹوں کوگننے کیلئے کرتے ہیں۔۔قائداعظم کی مبارک تصویرکوگلے سے لگانے اوراس پرہاتھ پھیرنے میں توبہت سکون ہے نہ۔
۔اسی وجہ سے تونوٹوں سے پیارکرنے والے ڈاکٹرنوٹ گنتے گنتے۔۔گلے سے لگاتے لگاتے اوران پرہاتھ پھیرتے پھیرتے کبھی نہیں تھکتے۔۔ قائداعظم سے محبت اورنوٹوں کی اہمیت اپنی جگہ مگرسچ یہ ہے کہ ایسے ہی ڈاکٹروں کی وجہ سے آج لوگ ہر ڈاکٹر کو قصائی سمجھتے ہیں۔ماناکہ ہرڈاکٹرقصائی نہیں کیونکہ آج بھی اس دھرتی پرایسے ہزاروں اورلاکھوں ڈاکٹرموجودہیں جواللہ کاخوف اوردکھی انسانیت کی خدمت کامشن دل میں لئے سرکاری اورپرائیوٹ ہسپتالوں میں غریبوں۔
۔مسکینوں۔۔فقیروں اور بے سہارالوگوں کی دل سے خدمت کرکے ان کے زخموں پرہمہ وقت مرہم رکھ رہے ہیں لیکن آج اس دھرتی پر ڈاکٹرنما قصائی بھی کچھ کم نہیں ۔پرائیوٹ کلینک وہسپتال تودور سرکاری ہسپتالوں میں بھی ان قصائی نماڈاکٹروں کی بہتات ہے۔دورجدیدکے ان ڈاکٹروں نے مکمل طورپرقصائیوں کاروپ دھارلیاہے۔ان ڈاکٹروں اور قصائیوں میں اب کوئی زیادہ فرق نہیں کیونکہ قصائی جانوروں کو ذبح کرتے ہیں جبکہ یہ ڈاکٹر زندہ انسانوں کے گلے پر چھری پھیرتے ہیں۔
قصائی تو پھر بھی لاغر اور کمزور جانور دیکھ کر ان کے حال پرکچھ رحم کھا جاتے ہیں مگریہ ڈاکٹر لاغر اور کمزور انسانوں کے جسم نوچنے اور چمڑہ اتارنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔بعض ڈاکٹروں نے تو انسانی جسموں کو نوچنے اور چمڑے اتارنے کواپنامعمول بنالیاہے۔دکھی انسانیت کی خدمت سے عاری ایسے ڈاکٹروں کے ہاں ہر مرض کا پہلا علاج ہی آپریشن ہوتا ہے اور یہ کیوں نہ ہو۔۔۔۔؟ کیونکہ ایک انسان کوچیڑ پھاڑ کر ذبح کرنے سے ہی تو دولت کے ان پجاریوں کی جیبیں بھرتی ہیں۔
۔۔۔ ہم تو سادہ اور جاہل سے لوگ ہیں۔ ہمیں تو نہیں پتہ ۔۔۔۔شائد کہ سیاسی و سماجی مسئلوں کی طرح طبی مسئلوں کا آخری حل بھی آپریشن ہی ہو۔۔۔۔ لیکن اتنا بھی تو ظلم نہیں کہ ہر بیماری ۔۔ درد و تکلیف کا حل ہی آپریشن کو قرار دیا جائے۔ جس طرح مذاکرات کے ذریعے سے سیاسی و سماجی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے اسی طرح چھوٹی موٹی بیماریوں کا بھی تو دوائیوں کے ذریعے علاج وخاتمہ ممکن ہے۔ میں ہر گز نہیں کہتا کہ ہر ڈاکٹر ہر چھوٹی موٹی بیماری کو دور کرنے کیلئے آپریشن کیلئے تیار بیٹھا ہوتا ہے لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ ایسے کئی ڈاکٹر ضرور ہیں جو پیسوں کی خاطر ہر بیماری کا علاج آپریشن ہی تجویز کرتے ہیں۔
خاص کر پرائیویٹ کلینک پر بیٹھے ڈاکٹر تو مریضوں کو لوٹنے کیلئے اپنی چھریاں نیچے رکھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔پرائیوٹ کلینک پران ڈاکٹروں کے شکنجے میں اگرکوئی آئے تویہ کہتے ہیں کہ فوراًآپریشن کراؤورنہ جان کوخطرہ ہے۔پھرپرائیوٹ طورپریہ ڈاکٹرشکنجے میں آنے والے مریضوں کاچندمنٹوں اورگھنٹوں میں آپریشن بھی کرادیتے ہیں کیونکہ وہاں ان کوایک آپریشن کے چالیس ،پچاس ہزارسے تین تاچار لاکھ روپے ملتے ہیں لیکن اسی طرح کی بیماریوں میں مبتلاایک دونہیں سوسومریض سرکاری ہسپتالوں میں ہفتوں اورمہینوں سے ایڑھیاں رگڑرگڑکران ہی ڈاکٹروں کے ذریعے آپریشن کاانتظارکرتے ہیں مگریہ ڈاکٹرآپریشن کرانے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔
۔جب قائداعظم کے لش پش نوٹ سامنے نہ ہوں توپھراس وقت قوم کے یہی مسیحاانسانیت کوبھی بھول جاتے ہیں ۔۔سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ایڑھیاں رگڑائے ۔۔۔۔کوئی دردوتکلیف سے چیخے۔۔۔۔کوئی غربت کے ہاتھوں مارے مارے پھرے یاکوئی اپنی قسمت پرچلائے ۔ان ڈاکٹروں کوکسی کی کوئی فکرنہیں ہوتی ۔کوئی مرے یابچے۔۔۔ان ڈاکٹروں کاکیا۔۔؟سرکاری ہسپتالوں میں تڑپتے ۔۔رلتے ۔۔۔بلکتے ۔۔چیختے اورچلاتے مریضوں کودیکھ کرعام انسان بھی کانپ اٹھتاہے مگریہ ظالم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے خیبرپختونخواکے ڈاکٹروں کوسیدھاکرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے لیکن سرکاری ہسپتالوں میں غافل ۔۔سنگدل اورظالم ڈاکٹروں کاآمرانہ رویہ دیکھ کرلگتاہے کہ یہ ڈاکٹرعمران خان سے مارکھانے کی بجائے عوام کی طرح کپتان کوبھی کوئی ٹیکہ لگاچکے ہیں کہ جس کی خوف اورگھبراہٹ کے باعث عمران خان اب ان ڈاکٹروں سے دوربھاگنے میں ہی غافیت سمجھ رہے ہیں ۔رلتے ،تڑپتے اوردکھتے مریضوں کوچھوڑکر پیسوں کے گردطواف اورقائداعظم والے نوٹوں کوسلام کرنے والے ڈاکوتوہوسکتے ہیں پرقوم کے مسیحانہیں ۔
۔غریبوں کی اس نگری میں ہزار،ہزارروپے فیس مقررکرناکہاں کاانصاف اوردکھی انسانیت کی کونسی خدمت ہے۔۔؟اس مٹی پرتووہ لوگ بھی بستے ہیں جن کے پاس ایک وقت کی روٹی کھانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ پھریہ لوگ ان ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں کہاں سے لائیں گے۔۔؟ظلم پرظلم تویہ ہے کہ فیس میں ایک روپیہ نہیں اگرایک پیسہ بھی کم ہوتویہ ڈاکٹرپھربھی مریض کوچیک نہیں کرتے ۔یہ ڈاکٹرپہلے فیس کے پیسے گنتے ہیں پھرمریض کی طرف دیکھتے ہیں ۔جوڈاکٹر مریض سے زیادہ لش پش نوٹوں کی حفاظت کریں اسے قوم کامسیحاکہنابھی مسیحاکی توہین ہے ۔اللہ ایسے سنگدل اورظالم ڈاکٹروں کوہدایت دے اوران سے ہرغریب کوبچائے۔آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com