حکمران یا اقتدار کے غلام ۔۔۔۔؟

جمعہ اگست    |    عمر خان جوزوی

تقریباًڈھائی سال بعد باباجی سے میری دوبارہ ملاقات ہوئی۔۔باباجی سے میری پہلی ملاقات عام انتخابات کے دوران ہوئی تھی۔۔مجھے اچھی طرح یادہے ۔۔بابا جی پولنگ کے روز مسلم لیگ ن کے کیمپ میں شیر پرتکیہ لگائے بیٹھے گھورتی نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔۔جوکوئی بھی عقابی نظروں کے سامنے آتا۔۔اس کواپنے پاس بلاتے اورکانوں میں سرگوشیوں کے ذریعے ان کون لیگ کی طرف راغب اورلیگی امیدواروں کوووٹ دینے پر آماہ کرتے۔
۔باباجی کے ہاتھوں کتنے نوجوان۔۔کتنے بوڑھے اورکتنے ووٹر دائرہ ن لیگ میں داخل ہوکرمشرف بامسلم لیگ ہوئے ۔۔اس کاتومجھے اندازہ نہیں لیکن یہ پتہ ضرور ہے کہ باباجی نے صبح سے شام تک اپنی ڈیوٹی انتہائی ایمانداری ،امانت داری سے بخوبی سرانجام دی۔

(خبر جاری ہے)

کیونکہ شام کوپولنگ سٹیشن کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے باباجی کواسی جگہ پر شیر کے بغل میں پھر بیٹھے دیکھا۔۔خیراب کی بارباباجی سے ملتے ہوئے یہ خوف تونہیں تھا کہ ن لیگ کی طرف راغب کرینگے یاووٹ مانگنے کاتقاضاکرینگے ۔

۔باباجی کے قریب ہوکرمیں نے السلام وعلیکم کہا۔۔باباجی نے اونچی آواز میں وعلیکم السلام کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی نرم وملائم انگلیوں سے دونوں آنکھوں کوملتے ہوئے میری طرف دیکھا ۔۔میراخوب دیدار کرنے کے بعد اپنے چہرے پرہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے باباجی بولے ۔۔کافی عرصے بعد نمودار ہوئے ہو۔۔کہاں غائب تھے۔۔؟میں نے ازراہ مذاق کہا کہ باباجی جب شیروں کی حکومت آتی ہے توپھر ہمارے جیسے کمزورانسانوں کوتوغائب ہی ہوناپڑتا ہے ۔
۔شیر کانام سنتے ہی بابا جی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔۔پھر گویا ہوئے ۔۔ہائے۔۔ جس شیر پرہم تکیہ لگائے بیٹھے ۔۔آپ کے ساتھ آج ہمارے جسم میں بھی اسی نے پنجے گاڑھ لئے ہیں۔۔میں نے حیرت سے پوچھا۔۔ باباجی شیر توآپ کااپنا ہے پھر آپ اس سے اتنے پریشان اوردلبرداشتہ کیوں۔۔؟یہ سنتے ہی بابا جی کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی ۔۔کہنے لگے ۔۔شیرہماراتھا۔۔ ہے نہیں ۔۔گنجوں منجوں کے پرفریب نعروں پر یقین کرکے بہت بڑی غلطی کی ۔
نوازشریف۔۔آصف علی زرادری ۔۔عمران خان ۔۔فضل الرحمن اورچوہدری شجاعت سمیت یہ سارے سیاستدان ایک جیسے ہیں ۔ویسے یہ اقتدار بھی کیا مقدس گدھا ہے کہ اس پر جوبھی بیٹھتا ہے سب کوپھر ہرطرف ہریالی ہی ہریالی نظرآتی ہے ۔گدھے سے یادآیا۔۔ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا۔ گدھا لے لو۔ پانچ سو روپے میں گدھا لے لو۔ گدھا انتہائی کمزور اور لاغر قسم کا تھا۔ وہاں سے بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ گزر ہوا، بادشاہ وزیر کے ساتھ گدھے کے پاس آیا اور پوچھا کتنے کا بیچ رہے ہو۔
۔؟ اس نے کہا عالی جاہ ! پچاس ہزار کا۔ بادشاہ حیران ہوتے ہوئے، اتنا مہنگا گدھا۔۔؟ ایسی کیا خاصیت ہے اس میں۔۔؟ وہ شخص توپاکستانی سیاستدانوں کابھی کوئی استادتھا۔۔کہنے لگا حضور جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ بادشاہ کو یقین نہ آیا اور کہنے لگا اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم ایک لاکھ کا خرید لیں گے لیکن اگر جھوٹ ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا ساتھ ہی وزیر کو کہا کہ اس پر بیٹھو اور بتا کیا نظرآتا ہے۔
۔؟ گدھے والابھی کمال کاہی کھلاڑی تھا۔۔جونہی وزیر بیٹھنے لگا تو اس نے فوراًاس کاہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔جناب مکہ مدینہ کسی گنہگار انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔ وزیر۔۔ ہم گنہگار نہیں، ہٹو سامنے سے۔ اور بیٹھ گیا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا۔ اب سوچنے لگا کہ اگر سچ کہہ دیا تو بہت بدنامی ہوگی، اچانک چلایا سبحان اللہ، ما شا اللہ، الحمدللہ کیا نظارہ ہے۔۔ مکہ، مدینہ کا۔ ۔بادشاہ نے تجسس میں کہا ہٹو جلدی ہمیں بھی دیکھنے د،واور خود گدھے پر بیٹھ گیا، دکھائی تو اسے بھی کچھ نہ دیا لیکن سلطانی جمہور کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیا اور کہنے لگا واہ میرے مولا واہ، واہ سبحان تیری قدرت، کیا کراماتی گدھا ہے، کیا مقدس جانور ہے، میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا اسے صرف مکہ مدینہ دکھائی دیا۔
۔ مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے۔یہی حال ہمارے حکمرانوں اورسیاستدانوں کاہے۔۔اقتدار کی کرسی پرچڑھ کرپھر ان کوبنجرزمینوں میں بھی لہلہاتے کھیت اورسبزہ ہی سبزہ نظرآتا ہے ۔۔اقتدار کے گدھے پرچڑھنے سے پہلے میاں نوازشریف اوران کے رفقاء ملک میں تاریکیوں ۔۔مہنگائی۔۔غربت وبیروزگاری کارونارو کرعوام کی تقدیر بدلنے کے دعوے اوروعدے کررہے تھے لیکن اقتدار کی کرسی پربیٹھنے کے بعد ان کوبھی ملک میں آج ہرطرف روشنی ہی روشنی اورترقی ہی ترقی دکھائی دے رہی ہے ۔
مہنگائی۔۔غربت وبیروزگاری کے ہاتھوں لوگ بھوک سے بلک بلک کرمررہے ہیں ۔۔19کروڑ عوام میں اکثریت کے پاس کھانے کیلئے روٹی ۔۔پہننے کیلئے کپڑا اورسرچھپانے کیلئے سایہ نہیں لیکن نوازشریف کی کتاب میں ملک وقوم کوکوئی مسئلہ درپیش نہیں۔۔اس بادشاہ اوروزیر کی طرح اقتدار کے گدھے پربیٹھ کرنوازشریف بھی آج یہ اعلان کررہے ہیں کہ ماشاء اللہ۔۔سبحان اللہ۔۔الحمد اللہ ملک میں ہرطرف ترقی ہی ترقی ہے لیکن ناکام حکمران اورگنہگار ثابت ہونے کے خوف سے وہ ملک میں مہنگائی۔
۔غربت ۔۔بیروزگاری اورلاقانونیت کااعتراف نہیں کررہے ۔باباجی کی کہانی ختم ہوئی تومیں نے عرض کیا کہ بابا جی قصور نوازشریف کانہیں۔۔نہ عمران خان۔۔آصف علی زرداری ،چوہدری شجاعت ،شیخ رشید،اسفندیارولی،آفتاب شیرپاؤاوردیگرسیاستدانوں اورنام نہادلیڈروں کاہے۔۔قصوراورگناہ میرا ۔۔آپ کا۔۔اوراس غریب قوم کاہے جس کویہ سیاستدان اورحکمران کچھ سمجھتے ہی نہیں۔۔ووٹ توہم ہی دیتے ہیں ۔۔سیاسی جلسوں اورجلوسوں میں بھی ان سیاستدانوں اورحکمرانوں سے آگے ہم ہوتے ہیں۔
۔لاٹھیاں اورگولیاں بھی ہم پربرستی ہیں۔۔تھانوں اورجیلوں میں سلاخوں کے پیچھے بھی ہم ہی بھیڑبکریوں کی طرح پڑے رہتے ہیں۔۔جہاں ان سیاستدانوں اورابن الوقت حکمرانوں کاپسینہ گرتاہے وہاں ہم ان کے لئے اپناخون گراتے ہیں ۔۔تاریخ اٹھاکردیکھئے۔۔اس ملک میں قربانیاں ہمیشہ غریبوں نے دیں۔۔بیج ہمیشہ غریبوں نے بوئی لیکن جب بھی فصل کاٹنے اورپھل کھانے کاوقت آیاپھریہی سیاستدان اورحکمران درجن درجن محافظوں کے سائے میں سب سے آگے رہے۔
۔اب بھی ہم عوام نے ہی تونوازشریف کوعام انتخابات میں کامیاب کراکے شیر پر بیٹھا یا۔گدھے پر بیٹھنے والے کواگرمکہ مدینہ نظرآتا ہے توشیر پربیٹھنے والے کوپھرامریکہ اوربرطانیہ کیوں نظر نہیں آئیگا ۔۔۔؟باباجی جب تک ہم ان مکارسیاستدانوں اورمفادپرست حکمرانوں کواقتدارپربٹھانے کی بجائے ان کوگدھوں اورشیروں کے آگے نہیں ڈالتے تب تک یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔۔جولوگ اقتدارمیں آنے کے بعدعوام کوبھول جائیں ۔
۔ایسے لوگ حکمرانی کے قابل نہیں ہوتے ۔۔مکارسیاستدانوں اورمفادپرست حکمرانوں نے ہرقدم پرہمیں ہی لوٹامگرافسوس ہم پھربھی سدھرنہ سکے۔۔حکمرانوں کی لوٹ ماراورسیاہ کرتوت اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجودجب بھی الیکشن کاموقع آتاہے ہم پولنگ سٹیشن کے باہرخانہ بدوشوں کی طرح ڈیرہ لگاکر،،اللہ کے نام پر،،شیر،،تیر،،بلے،،لالٹین،،چراغ نہ جانے کس کس کیلئے ووٹ مانگنے لگ جاتے ہیں ۔۔جب تک ہم خودسیدھانہیں ہوتے ۔۔اس وقت تک یہ سیاستدان اورحکمران کبھی سیدھانہیں ہونگے کیونکہ ا قتدارکے غلام کبھی حقیقی حکمران بن ہی نہیں سکتے۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com