خودنمائی یا رسوائی۔۔۔۔؟

بدھ مئی    |    عمر خان جوزوی

ہماری بے حسی اور سنگدلی کے ہاتھوں آگ کے بے رحم شعلوں میں جلنے والی معصوم عنبرین کا ویسے بھی ذکر ہو تو دل کی دھڑکنیں تیز اور آنکھیں نم سی ہو جاتی ہیں۔ میں نے کچھ دن پہلے ایک تصویر دیکھی جس کے بعد اب تک میری آنکھیں نم اور دل بے قرار ہے۔ اس تصویر نے اس دنیا اور اس کے ظالم لوگوں سے مجھے بہت مایوس کر دیا ہے۔ اس تصویر کو دیکھنے کے بعد میں رات بھر سو نہیں سکا، دن بھر فرائض کی ادائیگی اور کام کی وجہ سے تھکاوٹ کے باعث جونہی میری آنکھ لگتی تو یکدم کسی نہ کسی انجان سمت سے میرے کانوں میں یہ آوز گونجتی،، ہاں واقعی اس دنیا کے لوگ بڑے ظالم ہے،، جس کے بعد پھر میری آنکھ کھل جاتی، کروٹیں بدل بدل کر میں بے قرار دل کو قرار دلانے کی بہت کوشش کرتارہا لیکن دل پر لگنے والی چوٹ اور آنکھوں میں اترنے والی اس غمناک تصویر کے باعث میری تمام تدبیریں اور چالیں ناکام ہوتی گئیں۔

(خبر جاری ہے)

حقیقت یہ ہے کہ کئی دن گزرنے کے بعدآج بھی میں جب وہ تصویربھلانے کی کوشش کرتاہوں تو بے حس اور لاپرواہ لوگ اور ظالم حکمران مجھے وہ منظر فوراً یاد کرا دیتے ہیں۔ وقت کے ان ظالم حکمرانوں اور سماج کے ان سنگدل لوگوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔ یہ ظلم پر ظلم نہ کرتے تو ہمارے پرانے غم کم از کم ہلکے تو ہو جاتے۔وہ تصویر کسی نعش یا بھوک سے بلکتے کسی بچے کی نہیں تھی بلکہ اس شاندار اور پروقار تقریب کی تھی جو خیبرپختونخوا ہاؤس ایبٹ آباد میں سانحہ مکول کی تفتیش میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کو سرکار کی جانب سے انعامات دینے کیلئے سرکاری طور پر منعقد کی گئی تھی۔
اس تقریب کی وہ تصویر جو میں نے دیکھی اس میں کاٹن کے سوٹ اور ٹائیاں پہننے والے سیاستدان، ممبران اسمبلی اور دیگر سیاسی چور اور لٹیرے تو سٹیج پر لگی شاہی کرسیوں پر بیٹھے تھے لیکن بیٹی کی دردناک موت کا غم دل و سینے میں لئے عنبرین کے وہ بدقسمت والد کسی مجرم کی طرح سٹیج سے نیچے لگی ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سٹیج پر لگی مین کرسی پر عنبرین کے بدقسمت باپ کو بٹھا کر اس کے غم کو ہلکا کیا جاتا مگر افسوس کہ خودنمائی کے شوقین سیاستدان اور ممبران کو غریبوں کے دکھ۔
۔۔ درد اور غم سے کیا لینا دینا ۔۔۔ ؟ لگتا ہے عنبرین کے بدقسمت باپ کو غریبی کی اتنی بڑی سزا ملنے کے بعد بھی ظالموں کے دل ٹھنڈے نہیں ہوئے ۔اسی وجہ سے تو اس کو غریبی کی سزا پر سزا دی جارہی ہے۔ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔چاہے وہ بیٹی ہو یا بیٹا۔۔ انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے بچوں کا دکھ اور درد ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ تکلیف بچے کو ہوتی ہے لیکن دل ماں باپ کا پھٹتا ہے۔ انسان سب کچھ کرتا ہی تو اپنے بچوں کیلئے ہے۔
عنبرین کا بوڑھا باپ بھی تو اس عمر میں گھر سے کوسوں دور محنت مزدوری صرف عنبرین اور دیگر بچوں کی خاطرکرتا تھا ۔جس طرح صدر، وزیر اعظم، ایم این ایز ، ایم پی ایز، ناظمین، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، خانوں، نوابوں اور سرداروں کو اپنے بچوں سے پیار ہے۔ اس سے بڑھ کر مکول کے اس غریب کو بھی عنبرین سے پیار تھا۔ یہ بھی اوروں کی طرح اپنی عنبرین کو ہمہ وقت خوش و خرم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کی بھی خواہش تھی کہ اس کی عنبرین پر دکھ ۔
۔۔۔ درد و تکلیف کا سایہ بھی کبھی نہ لگے۔ خدارا ایک منٹ کیلئے سوچو تو سہی کہ جس پر تم دھوپ کی تپش لگنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ اس کو کوئی آگ کے شعلوں میں ہی جلا دے۔بتاؤتوسہی تمہارے دل پر اس وقت کیا گزرے گی ۔۔۔۔؟ بچے کے سر پر معمولی سا درد شروع ہوتا ہے تو ماں باپ کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ میں سوچتا ہوں جب مکول کے اس غریب کو اپنی لخت جگر عنبرین کی آگ میں جل کر راکھ بننے کی اطلاع ملی ہو گی تو اس وقت اس کا کیا حال ہوا ہوگا۔
۔۔۔ ؟ پھر جب گھر پہنچ کر اس نے عنبرین کے کپڑے ۔۔ جوتے اور اس کی روز مرہ استعمال کی دیگر اشیاء دیکھی ہوں گی اس وقت اس پر کیا گزر ی ہوگی۔۔؟ آج بھی وہ اپنے ماتم کدہ میں عنبرین عنبرین کی صدا بلند کرکے اپنی پیاری اور لاڈلی بیٹی کو جب پکارتا ہوگا تو عنبرین کی آواز اور جواب نہ آنے پر وہ کس کرب، تکلیف اور اذیت سے گزرتا ہوگا ۔۔۔۔؟ اس نے بھی تو صدر، وزیر اعظم، ممبران اسمبلی، ناظمین اور ہمارے بچوں کی طرح اپنی پھول جیسی معصوم عنبرین کو دو نہیں سو بار ہاتھوں میں اٹھایا ہوگا۔
۔۔۔۔؟ پھر جب وہ چلنے پھرنے لگی ہوگی یہ اس کی انگلی اور ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر ادھر ادھر یا دکان پر لے گیا ہوگا ۔۔۔؟ آخری بار جب اس نے عنبرین سے بات کی ہوگی تو عنبرین نے اس کو یہی کہا ہوگانہ ۔۔ کہ بابا آپ بہت یاد آتے ہو۔۔۔۔؟ بابا آپ گھرکب آؤ گے۔ ۔۔۔؟ بابا اب گھر آجاؤ نا۔۔۔۔؟ بابا میرے لئے کپڑے اور جوتے ساتھ لانا ۔۔۔۔؟ آج جب اس بدقسمت باپ کے کانوں سے معصوم عنبرین کی یہ باتیں ٹکرا رہی ہوں گی تو معلوم نہیں کہ وہ کس طرح جی رہے ہوں گے ۔
۔۔؟ عنبرین کے بدقسمت باپ کی دنیا اجڑ چکی ۔۔۔۔ اس کی زندگی میں اب غم، دکھ ۔۔۔ درد۔۔۔ تکلیف اور ماتم کے سوا کچھ نہیں۔۔ اب وہ جی کر بھی عنبرین کی یادوں میں روز مریں گے۔۔۔۔ اس پر غم و الم کا جو پہاڑ اس ظالم سماج نے گرایا ہے ۔اب وہ زندگی کی آخری سانس تک کبھی اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ عنبرین کی دردناک موت سے اس کا صرف دل نہیں سر سے لے کر پاؤں تک پورا وجود ہی زخموں سے چور چور ہے۔ غم کی تیز لہروں سے ان کی آنکھیں سرخ اور دل نیلا ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ تاریخ کا بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔ ظلم کرنے والے تو قدرت کی گرفت میں آچکے اب وہ انجام کو پہنچ کر ہی رہیں گے لیکن یہ وقت اس غریب مظلوم کو خود نمائی کی تقریبات میں سٹیج سے نیچے بٹھا کر تماشا بنانے کا نہیں۔ اس کو گلے سے لگا کر غم و الم اور مشکل کی اس گھڑی میں اس کو سہارا دینے کا ہے۔ مانا کہ ہمارے اس معاشرے میں غریبوں کی اتنی اہمیت، قدراور اتنے اوقات نہیں کہ ان کو سرکاری تقریبات میں سٹیج پر بٹھایا جائے۔
کیونکہ غریبوں کو سیاستدانوں، خانوں اور نوابوں کے ساتھ بٹھانے سے وی آئی پی کلچر کی توہین ہوتی ہے اور ہمارا یہ ملک اور معاشرہ قائم ہی وی آئی پی کلچر پر ہے۔ اس لئے وی آئی پی کلچر کو کمزور کرنا تو مناسب نہیں لیکن گستاخی معاف ایک عرض ہے کہ عنبرین کے باپ اب صرف ایک غریب ہی نہیں بلکہ ساتھ ایک مظلوم بھی ہے اورمظلوم اور اللہ کے درمیان جب کوئی پردہ حائل نہیں تو پھر یہ سیاستدان، ممبران اسمبلی، خان، نواب اور سردار کس باغ کی مولی کہ یہ مظلوم کے درمیان پردہ حائل کرنے کی کوشش کریں۔
۔؟ کہتے ہیں کہ مظلوم کی آہ سے بچو۔۔۔۔کیونکہ مظلوم اوراللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔۔اس لئے ہمارے ان سیاستدانوں اور وی آئی پی کلچر کے دلدادوں کو مکول کے اس مظلوم کی آہ سے بچنا چاہیے۔ یہ اگر اس کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے تو پھر کم از کم ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے کام بھی نہ کریں۔ سانحہ مکول کی تفتیش میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کو انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی خوش آئند اقدام لیکن اس تقریب میں عنبرین کے باپ کو مہمانوں سے دور بٹھا کر تماشا بنانا ظلم پر ظلم ہے۔ عنبرین کے باپ کوہی اگراس تقریب کا مہمان خصوصی بنا دیاجاتا اس سے تو کسی کا کچھ نہ جاتا لیکن عنبرین کے غمزدہ باپ کی دلجوئی ضرور ہوتی مگر خودنمائی کے شوقین سیاستدانوں اور حکمرانوں کو آخر سمجھائے کون۔۔؟کہ ایسی خود نمائی ہی تو ان کی رسوائی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com