میرے اساتذہ میرے محسن

جمعرات جنوری    |    عمر خان جوزوی

حضرت علی کا قول ہے کہ جس سے میں نے ایک لفظ بھی سیکھا یا پڑھا وہ میرا ستاد ہے لیکن ہم نے تو جن سے پوری کی پوری کتابیں پڑھیں ان کو بھی استاد کا درجہ دینا گوارہ نہیں کیا۔ دین اسلام نے استاد کو بہت بڑا مقام اور درجہ دیا ہے، مہذب معاشروں میں نہ صرف استاد کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے بلکہ استاد کو ہی قوم کے حقیقی رہنماء اور معمار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ نظام حکومت چلانے سمیت تمام ضروری امور میں استاد کی رہنمائی کو ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں۔
ہمارے ہاں استاد سکول کی چاردیواری تک محدود اور پڑھائی تک وہ ہمارے استاد ہوتے ہیں لیکن سکول کی چاردیواری سے باہر اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد اس استاد جس نے ہمیں جاہل سے عالم، ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، صنعتکار، ٹیچر، جنرل، کرنل، پولیس افسر، صحافی، کالم نگار اور سب سے بڑھ کر ایک پتھر سے قیمتی موتی بنایا سے پھر ہمارا کوئی تعلق اور رشتہ نہیں ہوتا۔

(خبر جاری ہے)

درحقیقت استاد تو ہمارے محسن ہیں مگر ہمیں احسان فراموشی سے ذرہ بھی فرصت نہیں۔

ہم تو شروع سے اپنے محسنوں کو بدلہ ہی برا دیتے ہیں۔ ہم محسن کش اور احسان فراموش نہ ہوتے تو ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دنیا کے سامنے تماشا بناتے۔ ہم تو وہ بدقسمت قوم اور لوگ ہیں کہ ہمارے شر سے ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت ہمارے دیگر محسن بھی کبھی محفوظ نہ رہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے اساتذہ سے رابطہ جاری اور تعلق کسی نہ کسی طرح برقرار رہے لیکن والدہ کی جدائی کا بھاری غم ناتواں کندھوں پر آنے اور والد کی بیماری کی وجہ سے جہاں اپنا پتہ نہ رہا وہاں کچھ اساتذہ سے رابطے میں بھی وقتی طورپر خلل آیا۔
کچھ دن پہلے راولپنڈی سے استاد محترم مولانا برہان الدین نے ٹیلی فون کرکے یاد نہ کرنے کا شکوہ کیا۔ مولانا برہان الدین سے بات کرنے کے بعد میں پھر کافی دیر تک سوچتا رہا کہ استاد کتنے عظیم ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کو کبھی نہیں بھولتے۔شاگردتودنیاکی رنگینیوں میں گم ہوکراپنے بہن ،بھائیوں اوررشتہ داروں تک بھول جاتے ہیں لیکن اساتذہ اپنے شاگردوں کوکبھی نہیں بھولتے۔استاداورشاگردکے درمیان روحانی رشتہ ہوتاہے اس لئے شاگردوں کی جانب سے بھی اس رشتے کوٹوٹنے اورتعلق کوختم نہیں کردیناچاہئے،میرے استادمیرے محسن ہیں ،آج میں جس مقام پرہوں یہ انہی اساتذہ کی محنت ،شفقت اورپیارکانتیجہ ہے ورنہ میں اس قابل ہرگزنہ تھا۔
مجھے توہاتھ میں قلم پکڑنے کاطریقہ بھی نہیں آتاتھاان اساتذہ نے ہی مجھے قلم سے لکھناسکھایا،حضرت علی کے قول کی روشنی میں میرے دوتین نہیں درجن سے زائداستادہیں ،میں اپنے مذہبی پیشواؤں اوررہنماؤں کاذکرکروں ۔۔۔۔۔عصری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ٹیچروں کے نام لوں۔۔۔۔ یاپھرصحافتی میدان میں اپنے کرم فرماؤں کی پیار،محبت اوررہنمائی کے پھول آپ کے سامنے پیش کروں ۔عصری تعلیمی اداروں سے لیکردین اسلام کی درسگاہوں اورپھرصحافت کی پرخاروادیوں تک جہاں جہاں بھی مجھے مصائب ومشکلات اورمسائل کاسامناکرناپڑا۔
مجھے میرے انہی محسنوں نے ہاتھ سے پکڑکرہرمشکل سے پارکرایا،یہ انہی عظیم اساتذہ کی محنت ،پیاراورمحبت کانتیجہ ہی تو تھاکہ پھر قلمی دنیامیں بغیرکسی استاداوررہنماء کے بہت ہی کم عمرمیں کالم نگاربننے کامیراایک دیرینہ خواب بھی پوراہوگیا۔پرائمری سکول جوزبٹگرام کے ٹیچرزشیخ بابواورادریس استادسے لیکرہائی سکول کے مطیع اللہ،غرفان ،عبدالقدوس اجمیرہ ،سیف الرحمن،محمدامین ،حضرت یوسف ،محمدسراج مرحوم،قاری حسن مرحوم اوردینی مدارس کے پروفیسر محمدادریس مفتی،مولاناضیاء اللہ دیوبندی ،مولاناعارف ،مولانابرہان الدین سمیت دیگرکئی محسن ایسے ہیں جن کوبھولنامیرے لئے کبھی ممکن نہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جن کی محنت اوررہنمائی سے میں نے اپنے حقیقی رب کوپہچانااورانسانیت کوسیکھا،میرے یہ محسن اگرمیراہاتھ پکڑکرمیری رہنمائی نہ کرتے توآج میں اس مقام پرکبھی نہ ہوتا،بٹگرام شہرسے کئی کلومیٹردورجوزجیسے پسماندہ علاقے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات آج بھی ناپیدہے ،جیل اورگنجاکے پہاڑوں کے دامن میں واقع اس جوزکی گلیوں اورمحلوں میں گھوم پھرکرجب میں کسی اخبارکاکوئی ٹکڑااٹھاتاتواس وقت ذہن میں ایک خیال آتاکہ کیامیں بھی کبھی کالم نگاربن سکوں گا۔
۔۔۔؟کسی اخبارمیں میرابھی کوئی کالم جگہ بناپائے گا۔۔۔۔؟جوزجہاں سے بٹگرام شہرتک پہنچنے کیلئے بھی گھنٹے کاٹائم لگتاہے وہاں سے صحافت کی پرخاروادی تک پہنچنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہی دکھائی دے رہاتھالیکن انہی عظیم محسنوں کی شب وروز محنت کی وجہ سے پھرمیں نے بہت جلداپنی گنہگارآنکھوں سے اس ناممکن کوممکن اورخواب کوشرمندہ تعبیرہوتے دیکھا۔میری اس کامیابی میں میراکوئی کمال نہیں ۔کمال توان اساتذہ اورمحسنوں کاہے جنہوں نے میرے کل کے لئے اپناآج قربان کیا،استاداورشاگردکے درمیان ایک روحانی رشتہ ہوتاہے اس رشتے کوتعلیم مکمل کرنے کے بعدبھی جاری وساری رکھناچاہئے ،ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنا کام نکلنے پراپنے محسنوں کوبھی بھول جاتے ہیں ،ڈاکٹرعبدالقدیرجس نے ہماری بقاء،تحفظ وسلامتی کے لئے کیاکچھ نہیں کیالیکن اس کے باوجودجب ہم نے ایٹم بم کاکامیاب تجربہ کرلیاتواس کے بعدہم نے اپنے اس محسن کے ساتھ وہ سلوک کیاکہ جس پرآج بھی ہمارے سرشرم سے جھکے ہوئے ہیں ،محسن محسن ہوتے ہیں ،جولوگ احسان فراموشی کواپنااوڑھنابچھونابنالیتے ہیں ایسے لوگوں کوپھرمشکل وقت میں محسن کم ہی ملتے ہیں ،اسی طرح جولوگ اپنے اساتذہ سے منہ موڑتے ہیں زندگی میں وہ پھرکبھی کامیاب نہیں ہوتے ،آج یہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہم تعلیم حاصل کرنے کے بعداپنے اساتذہ اورکام نکلنے کے بعداپنے محسنوں کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھول جاتے ہیں ،ہم احسان فراموش نہ ہوتے توآج ہمیں غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اورسرجھکانے کی ضرورت پیش نہ آتی،ہم نے خودی اپنے آپ کواحسان فراموشوں کی صف میں کھڑاکرکے اپنی تباہی کاسامان تیارکردیاہے ،ہمارے محسن اگرڈاکٹرعبدالقدیرکی طرح یوں ہی ہم سے روٹھتے رہے توپھر دنیاکی کوئی طاقت ہمیں ذلت ورسوائی سے نہیں بچاسکے گی ۔
اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے محسنوں کوگلے لگائیں کیونکہ محسن محسن ہوتے ہیں جن کوبھولناکسی انسان کاشیوہ نہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com