پولیس کلچرمیں تبدیلی۔۔۔۔۔؟

اتوار مارچ    |    عمر خان جوزوی

میرے کئی دوست اورتحریک انصاف کے سینکڑوں کارکن مجھ سے یہ گلہ کررہے ہیں کہ میں پی ٹی آئی کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا،چنددن پہلے ایک دوست جوآج کل ابوظہبی میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں نے میسج کیا ۔جوزوی صاحب کسی وقت توآپ عمران خان اورتحریک انصاف کے بڑے گیت گاتے تھے اب ہاتھ دھوکران کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں خیرتوہے۔۔۔۔؟میں نے جواب میں صرف ایک جملہ لکھا۔اچھائی کی تعریف اوربھٹکے ہوئے لوگوں کوراستہ دکھاناہمارافرض ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں اوردوستوں کے گلے اورشکوے بجا۔۔۔۔یہ بھی حقیقت کہ عام لوگوں کی طرح ہم نے بھی عمران خان کے بہت گیت گائے لیکن ہرچیزکاایک وقت ہوتاہے ۔جس وقت ہم عمران خان کے گیت گارہے تھے وہ بھی ایک وقت تھااوراس دورمیں عمران خان کے گیت گانااوران کودعاؤں کے ذریعے سپورٹ کرناضروری تھاکیونکہ مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی مک مکااوراقتدارکی باریوں کے سلسلے کوتوڑنے کے لئے کسی تیسری پارٹی کوسپورٹ کرکے آگے لاناضروری ہوگیاتھا۔

(خبر جاری ہے)

ویسے بھی اس دورمیں ہمیں قلم کی چوکیداری کاشرف حاصل نہیں تھا، پھر عمران خان نے جومنشورپیش کیااس کا تقاضاتھاکہ ملک کی تعمیروترقی اورعوام کی خوشحالی کے لئے اس شخص کوآگے آناکاموقع دیاجائے۔سوان مجبوریوں کی روشنی میں ہم بھی عمران خان کے نام لیوابنے۔دوئم عمران خان اس وقت اقتدارسے باہرتھے اورآج کی طرح ہردورمیں صاحب اقتدارکے مقابلے میں ہماری ہمدردیاں اپوزیشن،غریب،ناچار،مجبور،مظلوم اوربے کسوں کے ساتھ زیادہ رہیں ،اسی عادت یامجبوری کی وجہ سے ہمیں عمران خان کے گن گانے پڑے۔
ہم نے آمریت کے دورمیں بھی ظالم کوظالم کہنے میں کبھی کوئی عارمحسوس نہیں کی پھرآج کے جمہوری دورمیں ہم خاموش کیسے رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔؟عمران خان بھی ویسے اب وہ پرانے والے خان نہیں رہے ،سیاسی لوٹوں اورلٹیروں سے سیاسی رشتہ قائم ہونے کے بعد اب عمران خان بھی کافی بدل چکے ہیں ،اسی وجہ سے روایتی سیاستدانوں کی طرح اب عمران خان بھی حالات کی نبض پرہاتھ رکھ کرسیاست کرنے لگے ہیں ،خیبرپختونخوامیں اس وقت عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت ہے جسے عمران خان براہ راست مانیٹرکررہے ہیں ،خیبرپختونخوامیں تبدیلی کے حوالے سے عمران خان نے جودعوے اوروعدے کئے یاجودعوے اوروعدے کررہے ہیں ان میں اورزمینی حقائق میں آج بھی زمین وآسمان کافرق ہے ۔
عمران خان اوراس کاوزیراعلیٰ توخیبرپختونخواکے جنت بننے کے دعوے کررہے ہیں لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے ،صوبے میں کل بھی غریب عوام کاکوئی پرسان حال نہیں تھاآج بھی انہی غریبوں کاکوئی حال نہیں ۔باقی تبدیلی تودورصرف تھانہ کلچرکے نظام کوہی دیکھ لیں جس کی تبدیلی کا عمران خان اورپرویزخٹک اٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے ہمہ وقت وردکرتے رہتے ہیں ۔ عمران خان اورپرویزخٹک کی کتابوں میں توخیبرپختونخوامیں تھانہ کلچرمکمل تبدیل اورتھانوں میں فرشتوں نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں لیکن ہری پوراورمانسہرہ کی ان غریب ماؤں اوربہنوں سے بھی توکوئی پوچھے جواپنے بیٹوں اوربھائیوں پرپولیس گردی کے باعث آنسوبہانے پرمجبور ہیں ،ہری پوراورمانسہرہ کی طرح ایبٹ آباد،بٹگرام ،کوہستان اورتورغرکی پولیس کاکرداربھی پنجاب کے گلوبٹوں سے کچھ کم نہیں ۔
پولیس وردیوں میں ملبوس اورطاقت کے نشے میں مدہوش شیرجوان کل بھی خودکوحاکم سمجھتے تھے جوآج بھی اپنے آپ کوغریبوں کے خادم کہنے اورعوام کے محافظ بننے پرہرگزتیارنہیں ۔جولوگ کل محرم کومجرم بنانے میں دیرنہیں لگاتے تھے وہ آج بھی دولت کے حصول کیلئے مجرم کومحرم بنانے سے دریغ نہیں کررہے ۔خان صاحب۔ اس صوبے کی تھانوں اورکچہریوں میں آپ کی دورحکومت میں بھی غریب عوام کے ساتھ جوسلوک ہورہاہے اسے دیکھ کرشیطان بھی کانوں کوہاتھ لگانے پرمجبورہے۔
کوئی ایساتھانہ بتائیں جہاں آج مال ودولت کی بجائے غریب کوسلام کیاجاتاہو۔۔کوئی ایساپولیس اہلکاربتائیں جوامیراورکبیرکوچھوڑکرکسی غریب کوسلیوٹ کرتاہو۔۔ہزارہ سمیت صوبے بھرمیں قائم اکثرپولیس تھانوں میں آج بھی سلمان خان اورشاہ رخ خان کے فلمی ڈائیلاگ سننے کومل رہے ہیں ۔خان صاحب ۔کوئی غریب آج بھی اگرکسی مجبوری سے ان تھانوں میں جائے توان تھانوں میں اس کی جوتواضع کی جاتی ہے اورآپ کے یہ شیرجوان جن گھورتی اورکھاتی آنکھوں سے اس کااستقبال کرتے ہیں اس کے بعدوہ غریب اپنی پریشانی ۔
۔۔۔غم اورفریادبھی بھول کرجان کی امان مانگنے کی راہ تلاش کرتاہے ۔کچھ دن پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی توباتوں باتوں میں جب اچانک تبدیلی کاذکرخیرآگیاتواس نے کہاکہ عمران خان اورپرویزخٹک کی پولیس تبدیلی کے حوالے سے روزبلندوبانگ نعرے اوردعوے سن کرسوچاکیوں نہ اس ظالم مخلوق کی تبدیلی اپنی گنہگارآنکھوں سے دیکھی جائے،اسی خواہش کی تکمیل کیلئے اچانک ایک تھانے پہنچا۔کیادیکھا۔۔؟وہاں پولیس کے شیرجوان کسی الزام میں تھانے لائے گئے ایک غریب اورلاچارنوجوان جوجسم کی ساخت سے بھی کوئی مفلوک الحال نظرآرہاتھاپرٹوٹ کرلاتوں اورمکوں کی بارش میں فلمی ایکٹروں اورفلمی پولیس انسپکٹروں کی طرح اوئے۔
۔۔تونہیں جانتا۔۔ذلیل کہیں کے ۔۔۔وغیرہ کے ڈائیلاگ بولتے جارہے تھے یہ تبدیلی دیکھ کرمجھے تواپنی جان کے لالے پڑگئے اورمیں الٹے قدموں وہاں سے نکل آیا۔ان حالات اوراس نظام کے باوجوداگرپھربھی عمران خان اورپرویزخٹک اٹھتے بیٹھتے پولیس نظام میں تبدیلی کے گن گاکرطاقت کے نشے میں مدہوش ان گلوبٹوں کوملک کی نمبرون پولیس ثابت کرنے کے دعوے کریں توکیا حقیقت کوجھٹلاکراس افسانے کوسچ تسلیم کر لیاجائے۔
۔؟یہ حقیقت کہ محکمہ پولیس میں ایمانداراوردیانتدارافسر اوراہلکاربھی بہت لیکن پولیس کی مجموعی صورتحال بہت خراب اوردلخراش ہے۔صوبے اورپورے ملک میں اس وقت پولیس پرعوام کاجوتھوڑااعتمادبچاہے وہ انہی ایماندارپولیس افسروں اوراہلکاروں کی وجہ سے ہے۔ آخرکب تک اقلیت اپنے اعلیٰ کردار،ایمانداری اورفرض شناسی سے اکثریت کے گناہوں اوربدنامیوں کے داغ دھوتے رہیں گے۔ہمیں ایمانداروں کی قربانیوں کاہرگزانکارنہیں ۔
جوپولیس افسراوراہلکارملک وقوم کیلئے امیدکی کرن بنے وہ کل بھی ہمیں یادتھے۔۔آج بھی ہم ان کونہیں بھولے اورکل بھی ہم ان کوبھول نہیں پائیں گے ۔عبدالغفورآفریدی بھی تواسی محکمے کے افسرتھے جنہوں نے اپنی ایمانداری اوردیانتداری سے لاکھوں لوگوں کے دل جیتے۔ وہ بھی توپولیس اہلکارہی تھے جوصوبے کے مختلف مقامات پردہشتگردوں سے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کرگئے ،وہ بھی توپولیس جوان ہی تھے جوامن کے قیام کے لئے اپناآج قوم کے کل کیلئے قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے ۔
لیکن یہ بھی توپولیس اہلکارہی ہے جوچندٹکوں کے لئے مجرم کومحرم اورمحرم کومجرم بنانے سے دریغ نہیں کررہے ۔۔یہ بھی توپولیس اہلکارہی ہیں جواس انتظارمیں تھانوں میں بیٹھے یاگلی ،محلوں میں ایکسرسائزکرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کہیں کسی غریب کومرغابناکرشکارکیاجائے ۔۔نہ جانے ایسے لوگوں نے اب تک کتنے گھراجاڑے ہونگے۔۔کتنوں کوجھوٹے مقدمات میں پھنساکراپنی ماؤں۔۔بہنوں اوربیٹیوں سے دورکردیاہوگا۔
۔یہ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہرشخص کوآخراپنے کئے کی سزابھگتنی پڑتی ہے۔ چاہے اس دنیامیں ہویاآخرت میں ۔۔اللہ کے ہاں دیرہے اندھیرنہیں ۔ماناکہ اللہ کی لاٹھی بے آوازہے لیکن جب کسی ظالم کااحتساب شروع ہوتاہے توپھراسے اللہ کے غیض وغضب سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ہمارے ان محافظوں کوبے گناہوں پرہاتھ ڈالنے سے پہلے ایک باراپنے گریبانوں میں بھی ضرورجھانکناچاہئے،اس کے ساتھ عمران خان اورپرویزخٹک کوفضاء سے زمین پراترکرپولیس کلچرکے خاتمے کے لئے عملی طورپراقدامات اٹھانے چاہیں ،قوم کے معماروں کی مانیٹرنگ کیلئے اگرٹیمیں بنائی جاسکتی ہیں توقوم کے محافظوں کوراہ راست پرلانے کیلئے مانیٹرکیوں مقررنہیں کئے جاسکتے۔۔؟عمران خان اورپرویزخٹک کواس بارے میں سوچناہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پولیس


متعلقہ کالم