کچھ لمحے نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے نام !!

منگل مئی    |    یونس مجاز

صاحبو ! اپنے شعری مجموعے ” جنگلوں میں شام آئی “جو حال ہی میں انحراف پبلیکشنز کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے کی تقریب ِرونمائی( جو مئی کے آخری ہفتہ میں انشاء اللہ متوقع ہے) کے سلسلہ میں مشاورت کے لئے عزیز دوست اور چھوٹے بھائی اختر رضا سلیمی کے پاس اکادمی ادبیات پہنچا تو نماز جمعہ کا وقت ہو چکا تھا نماز سے فراغت کے بعدسب سے پہلے محترم قاسم بگھیو چہرمین اکادمی ادبیات اورڈائریکٹرجنرل اکادمی کو اپنی کتاب پیش کرنے کا مرحلہ طے کیا راشد حمید سے ملاقات میں پرانی یادیں تازہ ہوئیںٓ اسی اثنا میں نوائے وقت سے خورشید ربانی بھی آگئے چونکہ اختر سلیمی دفتری کام کے سلسلہ میں چہرمین صاحب کے ساتھ مصروف تھے سو ان فارغ لمحوں کو غنمیت جانتے ہوئے خورشید ربانی اور سرفراز زاہد کو ساتھ لے کرانعام الحق جاوید ایم ڈی نیشنل بک فاوٴنڈیشن سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے جا پہنچا جن سے کم و بیش بیس سال بعد ساتویں قومی کتب میلہ میں جب ملاقات ہوئی تو ان کے پر شکوہ جملے” کہاں غائب ہو “نے سواگت کیا تھا ا س لئے غائب کو حاضر میں تبدیل کرنے این بی ایف کے گیٹ سے داخل ہوئے تو ریڈرز کلب کے سامنے صحن میں نصب یک سنگی کتاب جسے دنیا کی سب سے بڑی پتھر کی کتاب ما نا جاتا ہے جس کا وزن چھ ہزار کلو گرام ہے نے استقبال کیا بلڈنگ میں داخل ہوئے تو ہر طرف شیلف میں سجی کتابوں نے اپنی سحر میں لے لیا ویٹنگ روم میں بیٹھے ہی تھے کہ ایم ڈی صاحب کا بلاوا آگیا دفتر میں انعام الحق صاحب گو مصرو ف تھے لیکن تپاک سے ملے آفیشل میٹنگ موقوف کر دی اور ہمارے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھ گئے میں نے کامیاب قومی کتب میلہ پر مبارک باد دی اور کتب بینی کے فروغ کے لئے ان کی کوششوں کو سراہا دوران گفتگو نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے پلیٹ فارم سے کئے جانے والے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ این بی ایف کا کتب بینی اور عادات مطالعہ کے فروغ سمیت مفید و معیاری ،،معلوماتی اور کم قیمت علمی و ادبی اور نصابی کتابوں کی اشاعت کے بنیای مقاصد کا پر عزم سفر 43برسوں پر محیط ہے اس ادارے نے تسلسل کے ساتھ اپنے مشن کے حصول کے لئے دائرہ کار کو بیرونِ ملک تک بڑھایا اور لاتعداد رہ جانے والے کام کئے بالخصوص موجودہ حکومت کے دور میں این بی ایف نے ”امن انقلاب بذریعہ کتاب“کے پیغام آفریں نعرے کے تحت کردار سازی ،شخصیت سازی ،قومی یگانگت کے فروغ اور پاکستان کے بہتر امیج کو ابھارنے کے لئے نئے وضع کردہ نظام کے تحت کتابوں کی اشاعت اور قارئین تک ان کی ترسیل کے عمل میں سرعت سے ترقی کی جس کے باعث ملک بھر میں قائم نیشنل بک فاوٴنڈیشن کی 24آوٴٹ لیٹس سے شائقین کتب نے لاکھوں کی تعداد میں کروڑوں روپیکی کتب خریدیں صدردفتر اسلام آباد میں نیشنل بک میوزیم،مائی بک شیلف ،ثمر بک کلب ،نظامی گنجوی کارنر ،حافظ شیرازی کارنر ،نیشنل بک پارک ،یک سنگی کتاب،بک وال کلاک اور دیگر کئی منصوبوں کو مکمل کیا گیا” این بی ایف یو نیورسٹی بک شاپس“کے منصوبے ،ریلوے اسٹیشنوں اور ائیر پورٹس پر ٹریولز بک کلبز کی تزئین نو اور دیگر مرکزی اہمیت کے مقامات بشمول موٹروے کے سی مارٹس پر بک شیلف اور ای بکس کے کامیاب آغاز کی وجہ سے ملک بھر کے عوام نے فائدہ اٹھایا مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب این بی ایف” شہرکتاب “ کے نام سے فروغ مطالعہ و کتب بینی کے لئے اسلام آباد ،کراچی ،اور پشاورمیں ایک نیا بامعنی علمی دریچہ متعارف کرا رہا ہے جی سیون مرکز اسلام آباد میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے اس منفرد ”شہر کتاب “میں نیشنل بک فاوٴنڈیشن سمیت معروف پبلیشرز اپنے اسٹالز لگا رہے ہیں جن پر شائقین کتب کو پرکشش رعایتی نرخوں پر تازہ ترین اور متنوع موضوعات کی مطبوعات کے علاوہ قیمتی اولڈ بکس اور ہر وہ کتاب مل سکے گی جو وہ خریدنا اور پڑھنا چاہتے ہیں”شہر کتاب “ درحقیت علمی و ادبی حب کا نام ہے کتابوں کی ورائٹی ،اسٹیشنری اور اس نوعیت کی ضرورت کی تمام چیزیں ایک چھت تلے دستیاب ہوں گی اسلام آباد کے بعد کراچی میں ایک سو بک سٹالز پر مشتمل وسیع عریض” شہر کتاب“کی تکمیل کا کام تیزی سے جاری ہے جہاں ”کتاب سرائے“اور ”کتاب کیفے “کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جب کہ اگلے مرحلے میں این بی ایف خیبر پختون خواہ میں پشاور حیات آ بادکے مقام پر ”شہر کتاب“سجے گا چائے کے ساتھ گفتگو ختم ہوئی تو انعام الحق صاحب کا حکم ہواکہ نیشنل بک میوزیم کا آ پ کو وزٹ کراتے ہیں سو سلیم احمد کی معیت میں میوزیم دیکھنے چل پڑھے ویٹنگ روم میں سجے نظام گنجوی گوشہء جو آذر بائی جان کے شاعر کی کتب پر مشتمل تھا سے وزٹ کا آغاز کیا حافظ شیرازی گوشہء اور پھر کوری ڈور کے شیلف میں رکھی بک دیکھتے ہوئے احمد فراز آڈیٹوریم کے پاس پہنچے تو سلیم احمد نے بتایا یہاں احمد فراز مرحوم نے گیارہ سال گزارے لکڑ کے بنے روائتی گلکاری پر مشتمل دروازے سے میوزیم میں داخل ہوئے تو اس حیرت کدے میں جہاں پھولوں سے بنی خوبصورت کتاب دیکھنے کو ملی وہاں ہمیں چاروں صوبوں کے صوفی شعراء لطیف بھٹائی، مست توکلی ،رحمان بابا اور وارث شاہ گوشوں کی سیر کرائی گئی میوزیم میں قران پاک قلمی اور نادر نسخوں کے دیدار سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون ملا جو زاہدپرویز بٹ کے گفٹ کردہ تھے مرزا غالب، علامہ اقبال، حفیظ جالندری، فیض احمد فیض، سعاد ت حسن منٹو ، احمد ندیم قاسمی اور شیکسپیر کی کتب اور ذاتی استعمال کی اشیاء بھی میوزیم کا حصہ تھیں میوزیم میں قائد اعظم ،فیض احمد فیض ،احمد ندیم قاسمی ،سعادت حسن منٹوسے بھی ملا قات ہوئی ان کے ساتھ تصویریں بنوانے کا شرف حاصل کیانیشنل بک شاپس میں نادر کتب اور خریداروں کی معقول تعداد نے حوصلہ بڑھایا کہ نیشنل بک فاوٴنڈیشن کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور نوجوان نسل کتب بینی کی طرف راغب ہو رہی ہے ان محسور کن لمحوں کی خوشبو لئے واپس اکادمی ادبیات پہنچے اختر رضا سلیمی بھی دفتری کاموں سے فارغ ہوچکے تھے سو ان کے ساتھ بیٹھ کر کتاب کی تقریب رونمائی کے معاملات پر مشاورت مکمل کی جس کی میزبانی انحراف اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس مشترکہ کر رہی ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com