پاک بھارت کشیدگی

جمعرات ستمبر    |    ذبیح اللہ بلگن

مقبوضہ کشمیر کے قصبے اوڑی میں ہونے والے عسکری حملے کے نتیجے میں پیداہونے والی پاک بھارت کشیدگی بظاہر شدت اختیار کر گئی ہے ۔دونوں ممالک میں جنگ و جدل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ جاندار طریقے سے پیش کر کے بھارت کو مزید شش وپنج میں مبتلا کر دیا ہے ۔یہ بھارت کی بوکھلاہٹ ہی ہے کہ بھارتی سرکار نے دو روز قبل سکیورٹی کلئیرنس کو جواز بنا کر سمجھوتہ ایکسپریس کو بند کر دیا جبکہ چند ہی گھنٹوں بعد پہلا حکمنامہ منسوخ کر کے ٹرین سروس کی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ۔
بیان کیا جاتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اندرونی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سخت جذبات کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔

(خبر جاری ہے)

جہاں تک پاکستان کی موجودہ حکومت کا معاملہ ہے اس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی مو جودہ حکومت کیلئے کسی نعمت متبرکہ سے کم نہیں، کیونکہ پاکستان کے داخلی حالات میں سیاسی ہلچل بپا ہے ۔تحریک انصاف پانامہ لیکس کا فائنل راؤنڈ کھیلنے کا اعلان کر چکی ہے ،مذکورہ سیاسی حالات میں پاک بھارت کشیدگی سے عوام میں حب الوطنی کے جذبات پیدا ہونگے جس سے یقینی طور پر تحریک انصاف کا احتجاج متاثر ہوگا ۔

یہی حال ہمسایہ ملک بھارت کا بھی ہے۔بھارت کے اندرونی حالات بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں نہیں اور بھارتی تجزیہ نگار مودی سرکار کو ایک ناکام حکومت قرار دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی اوڑئی میں ہونے والے حملے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں وگرنہ ماضی گواہ ہے کہ یہ وہی کشمیر ہے جہاں عسکریت پسندوں کے حملوں میں برگیڈیر سطح کے افسر بھی مارے گئے اوردرجنوں فوجی اہلکار ایک ہی کاروائی میں ہلاک ہوئے ، اس وقت آسمان پھٹا اور نہ زمین کا سینہ چاک ہوا۔
بین الاقوامی حالات سے واقفیت رکھنے والے بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی دونوں اطراف کی حکومتوں کے حق میں جاتی ہے ۔جنگ تو شائد کبھی بھی نہ ہو البتہ اس کشیدگی کی بدولت پاک بھارت حکومتیں داخلی سیاسی دباؤ سے چھٹکارا ضرور حاصل کر لیں گی۔دونوں ممالک سفارتی محاز پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور اقدامات میں مصروف ہیں ۔شائید یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نرریندر مودی کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت پاکستان سے کئے گئے آبی معاہدے ”سندھ طاس “کو ختم کرنے کے بارے میں غور و فکر کر رہا ہے ۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے بھی میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں سندھ طاس معاہدے پر اختلافات موجود ہیں اور یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس پر دونوں ملکوں کو ہی تحفظات ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا اس طرح کے معاہدے پر عمل درآمد کیلئے ضروری ہے کہ دونوں طرف سے ہی باہمی اعتماد اور تعاون قائم ہو اور یہ تعاون یکطرفہ کبھی نہیں ہوسکتا ، باہمی اعتماد ٹوٹنے کی صورت میں کوئی معاہدہ مکمل نہیں ہوسکتا۔
یہاں روزنامہ ”نئی بات “ کے قارئین کیلئے سندھ طاس معاہدہ اور دیگر پاک بھارت مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قارئین دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے ماضی اور حال سے واقفیت حاصل کر سکیں ۔
پاک بھارت پانی کے تنازعے کا پس منظر( سندھ طاس معاہدہ)
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع بنیادی طور پر انگریز کا پیدا کردہ ہے۔جس طرح انگریزوں نے ہندوستان کی تقسیم کے معاملے میں مسلمانوں سے ناانصافی کی ایسے ہی پانی کی تقسیم کے معاملے میں پاکستان سے ناانصافی کی گئی۔
پانی کے معاملے میں کچھ نا انصافیاں اور پریشانیاں وہ ہیں جو انگریز نے ہمارے لیے کھڑی کیں اور کچھ وہ ہیں جو ہم نے خود اپنے لیے کھڑی کیں۔وہ مسائل جو انگریز نے ہمارے لئے کھڑے کئے۔مثلاًکشمیر پر ہمارا حق تھا جو بھارت کو دیدیاگیا ،جس سے کشمیر سے آنے والے دریا بھارت کے قبضے میں چلے گئے۔یہی حال پنجاب کی تقسیم میں ہوا۔پنجاب کی تقسیم کے وقت دریائے راوی پر مادھوپورہیڈورکس اور دریائے ستلج پر فیروزپور ہیڈورکس کا کنٹرول ریڈکلف نے بھارت کو دیدیا۔
مادھوپور ہیڈورکس1851ء میں انگریزوں نے مادھوپور کے مقام پر بنایا تھا ۔مسلم آبادی کی اکثریتی تحصیلیں گورداسپوراورتحصیل بٹالہ پر اصولاً پاکستان کا حق تھا اگر یہ دونوں تحصیلیں پاکستان کو مل جاتیں تو مادھوپور ہیڈورکس اور اس سے نکلنے والی تمام نہریں ماسوائے ایک دو کے باقی سب پاکستان کو مل جاتیں۔ مادھوپور ہیڈورکس کی پاکستان کیلئے اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ پاکستانی پنجاب کا75فیصد زرعی علاقہ اس ہیڈورکس کی نہروں سے سیراب ہوتا تھا۔
فیروزپور ہیڈورکس1920میں بنایا گیا تھا اور اس سے تین نہریں نکالی گئیں۔
1۔دیپالپور کینال،یہ نہر ضلع لاہور اور ضلع ساہیوال کے1044300ایکڑ رقبے اور کچھ مشرقی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرتی تھی۔تقسیم کے بعد یہ نہر پاکستان کے حصے میں آگئی اور اس کا پانی بھارت لے گیا۔
2۔دوسری نہرایسٹرن کینال تھی۔یہ نہر ریاست بہاولپور کے70000ایکڑ رقبے اور کچھ مشرقی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرتی تھی۔
تیسری نہربیکانیز تھی جو مشرقی پنجاب(بھارتی پنجاب)کی زمینوں کو سیراب کرتی تھی۔ان اعداد وشمارسے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں ہیڈورکس کی پاکستان کیلئے کیا اہمیت تھی۔ تقسیم ہند کے وقت جب سرحدوں کی حد بندی کیلئے کمیٹیاں بنائی گئیں تو اس وقت پانی کے معاملات کو طے کرنے کیلئے بھی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ اسی طرح ہیڈورکس سے پاکستان کی نہروں کو پانی دینے کے انتظامات کیلئے دو چیف انجینئرز پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔
پاکستان کی طرف سے اس کمیٹی کی نمائندگی شیخ اے حمید نے کی اور بھارت کی نمائندگی سردار سروب سنگھ نے کی۔اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فی الحال ایک عارضی معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کی نہروں کو31مارچ1948ء تک پانی دیتا رہے گا اور بعد میں اس معاہدے کی توسیع کرکے اسے مستقل شکل دیدی جائیگی۔افسوس یہ مدت ختم ہونے سے پہلے پاکستان نے اس معاہدے کی توسیع کیلئے کوئی کارروائی نہ کی۔ یہی غلطی بعد میں تین دریاؤں کی فروخت کا سبب بنی ۔
اس فاش غلطی کا ارتکاب دانستہ ہوا یا یہ ایک اتفاق تھا یہ سربستہ راز ہے۔بہر حال عارضی معاہدہ کی معیاد31مارچ1948تک تھی ۔جیسے ہی یکم اپریل کا سورج طلوع ہوا،بھارت نے پاکستان کی نہروں کا پانی بند کردیاجو مسلسل 34دن تک بند رہا۔دونوں ہیڈورکس بھارت کو دینے کی ایک وجہ تو انگریز کی انتہا درجے کی مسلم دشمنی تھی۔دوسری وجہ ہمارے اپنے لوگوں کی نااہلی تھی۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پنجاب میں سرحدوں کی حد بندی اور پانی کی تقسیم جیسے معاملات کو حل کرنے کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ۔
اس کمیشن کیلئے دو ممبر جسٹس دین محمد اور جسٹس محمدمنیر مسلم لیگ نے نامزد کئے اور دو ممبر کانگریس کی طرف سے تھے۔کمیشن کے سامنے دلائل دینے اور قانونی جنگ لڑنے کیلئے مسلم لیگ نے ظفر اللہ خان کو مقرر کیا ۔افسوس!ظفر اللہ خان نے پانی کے مسئلے کو صحیح طرح واضح نہ کیا اور نہ ہی یہ بات باورکروائی کہ مادھوپور اور فیروزپور،ہیڈورکس کی نہریں مغربی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کررہی ہیں۔اس لئے ان نہروں پر صرف پاکستان کا حق تھا، یہ نہریں پاکستان کیلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتی تھیں۔
ظفر اللہ خان کے دلائل ایک گورکھ دھندہ تھے انہوں نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے الجھادیا۔دوسری بات یہ ہوئی کہ شیخ عبدالحمید جوکہ سینئر چیف انجینئر پنجاب تھے نے پاکستان بننے کے بعد انجینئروں کو بتایا کہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کے دوران وہ دو مرتبہ اپنے ہم منصب انجینئرز کے ساتھ جسٹس دین محمد جوکہ کمیشن کے سینئر مسلمان ممبر تھے،ان سے ملنے گئے تاکہ انہیں مادھوپور اور فیروز پور ہیڈورکس کی اہمیت اور ان ہیڈورکس سے پاکستان میں وسیع رقبہ جات کو سیراب کرنے والی نہروں کے بارے میں معلومات دی جائیں۔
جسٹس دین محمد نے اس وفد سے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کردیا کہ وہ بطور جسٹس کسی سے ملکر اپنے ذہن کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔جسٹس دین محمد کا یہ انکار ایک انتہائی فاش غلطی تھی۔کاش وہ انجینئروں سے مل لیتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی اور پاکستان کو اپنے تین دریا نہ بیچنے پڑتے۔جسٹس دین محمد صرف جسٹس ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی تھے۔مسلمان ہونے کے ناطے انہیں اسلامی ریاست کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے تھا لیکن افسوس! وہ ایسا نہ کرسکے جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں اور آئندہ بھی بھگتیں گے۔

جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں پانی کی تقسیم کیلئے پہلے ایک عارضی معاہدہ کیا گیا تھا۔معاہدہ یہ تھا کہ دونوں ملک پانی کے صورت حال کو جوں کا توں رکھیں گے اور ایک دوسرے کا پانی بند نہیں کیاجائیگا۔یہ معاہدہ پاکستان کے حق میں تھاجو 20 دسمبر 1947ء کو ہوا ۔ اس دوران دونوں صوبوں(مغربی اور مشرقی پنجاب)کے وزیر اور انجینئر آپس میں کئی دفعہ ملے۔مغربی پنجاب کا ریونیومنسٹر سردار شوکت حیات تھا اور اس کا مشرقی پنجاب میں ہم منصب سردار سورن سنگھ تھا جو بعد میں ہندوستان کا وزیر خارجہ بھی بنا۔
ایک دفعہ شوکت حیات نے سکھ وزیر سے ازراہ مذاق کہا”اوئے سکھا توں ساڈا پانی تے بند نئیں کردیں گا“۔اس پر سورن سنگھ نے جواب دیا”توں کی گل کرداپیاں ایں‘کدے کسے نے بھراواں دا پانی وی بند کیتا اے“۔یہ سب اس وقت کی باتیں تھیں بعد میں نہ ہندو اپنے قول پر قائم رہے اور نہ ہی سکھ بلکہ مغربی پنجاب کا پانی بند کردیا گیا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ اس معاہدے کو مستقل شکل دیتا۔معاہدے کی معیاد ختم ہونے کے ساتھ ہی بھارت نے پانی بند کردیا ۔
پانی بند ہونے سے پاکستان کی1.66ملین ایکڑ کی آبپاشی ختم ہوگئی ،کسان اور جانور پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ۔ان تشویشناک حالات میں پاکستان کا ایک وفد دہلی گیا۔اس وفد کے سربراہ غلام محمد(یہ اس وقت پاکستان کے وزیر خزانہ تھے اور بعد میں پاکستان کے گورنر جنرل بنے)تھے۔ان کے ہمراہ پنجاب کے دو وزیر شوکت حیات خان اور ممتاز دولتانہ بھی بھارت گئے۔بھارتی وفد کے ساتھ میٹنگ میں مشرقی پنجاب کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ بند نہروں کا پانی اس وقت تک نہیں کھولاجائیگا جب تک مغربی پنجاب کے نمائندے یہ نہیں مانتے کہ ان کا متنازعہ پانی پر کوئی حق نہیں۔
بالآخر پاکستانی وفد کو مجبوراً4مئی1948ء کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے پڑے۔جب یہ مرحلہ طے ہوگیا تو پاکستا نی وفدنے کہا کہ چار مئی کی کارروائی سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ محض ایک”بیان“تھا۔ اس پر بھارت نے کہا ’نہیں یہ باقاعدہ معاہدہ تھا‘۔بہر حال یہ بیان تھا یا معاہدہ جو بھی تھا اس پر چار جون1948ء کو دونوں ملکوں کے نمائندوں نے دستخط کئے۔ اس معاہدے پر پاکستان کی طرف سے غلام محمد اور اس کے ساتھ جانے والے دو وزیروں اور مشرقی پنجاب کے وزیروں نے دستخط کئے جس کی مندر جہ ذیل تین اہم شقیں تھیں۔

1۔متنازعہ پانی(ستلج،بیاس اور راوی کا پانی)کے سارے حقوق مشرقی پنجاب کی حکومت کے پاس ہیں اور ان پر مغربی پنجاب کی حکومت کوئی حق نہیں رکھتی۔
2۔مشرقی پنجاب کی حکومت بند نہروں کا پانی کھول دے گی لیکن اس کو بتدریج کم کردیاجائیگا اسی اثناء میں مغربی پنجاب کی حکومت انہی نہروں کیلئے متبادل ذرائع سے پانی کا بندوبست کرے گی۔
3۔مغربی پنجاب کی حکومت مشرقی پنجاب کی حکومت کو اس دےئے گئے پانی کی قیمت اداکرے گی۔
یہ معاہدہ جو بھی تھا اس نے تین دریاؤں کے فروخت ہونے کی بنیاد رکھ دی تھی۔اس سے بھی بڑی دکھ کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھی حکومت پاکستان نے اس معاہدہ کے بارے میں کوئی مضبوط اور اصولی موقف اختیار نہ کیا بلکہ اس پر ایک لمبی خاموشی اختیار کرلی گئی۔ اس معاہدہ کے بعد اگرچہ بھارت نے دیپالپور کی نہروں اور سنٹرل باری دوآب کی نہروں کا پانی کھول دیا لیکن بہاولپور کی ریاستی نہر اور نو چھوٹے راجباہوں میں جو سنٹرل باری دوآب کا حصہ تھے کا پانی بند رکھا ،اس طرح بہاولپور کا بہت سا حصہ صحرا بن گیا۔
4جون1948ء کے معاہدے کے متعلق پاکستان نے دو سال بعد یعنی اگست1950ء میں اپنا پہلا ردعمل ظاہر کیا”جب ہزاروں جانور پانی کی وجہ سے مرنے لگے۔کسانوں کی کھیتیاں گرمی سے جھلس کر خشک ہونے لگیں،جب انسانی جانیں پانی نہ ملنے کی وجہ سے قریب المرگ ہوگئیں تو پاکستان کو چار مئی کے افسوسناک بیان پر دستخط کرنے پڑے“۔پاکستان کے اس ردعمل پر نہرو بہت سیخ پا ہوا ۔اس نے 12ستمبر1950ء میں پاکستان کے نام ایک مراسلہ میں لکھا کہ”مجھے یہ جان کر تعجب ہوا ہے کہ پاکستان کوراضی نامے پر مجبوراً دستخط کرنے پڑے۔
حالانکہ پاکستان نے بخوشی راضی نامے پر دستخط کئے اور سارے معاملات دوستانہ ماحول میں طے پائے“۔اس کے ساتھ نہرو نے دھمکی دی کہ چار مئی کے معاہدے کی روشنی میں مشرقی پنجاب کی حکومت کے پانی پر مکمل حقوق تسلیم کئے جائیں، آئندہ ہونے والی میٹنگوں کی بنیاد چار مئی کے معاہدہ پر ہوگی اور اگر پاکستان نے اس معاملے کو بلاوجہ طول دیا تو بھارت کو حق حاصل ہوگا کہ وہ چار مئی کے انتظامات کو مناسب نوٹس دینے کے بعد ختم کردے۔
“نہرو کی یہ دھمکی اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اب پاکستان کو ہمیشہ کیلئے تین دریاؤں سے دستبردارہوناپڑے گا۔
8تصفیہ طلب مسائل
پاک بھارت تعلقات کے نشیب و فراز کی کہانی اتنی پرانی ہے جتنا کہ خود ان ممالک کا وجود ۔ دونوں طرف کی حکومتوں نے کسی سیاسی یا اقتصادی مصلحت اور کبھی اندرونی و بیرونی دباؤ کے تحت ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش تو ضرور کی لیکن یہ قربت ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت سے تنازعات تصفیہ طلب ہیں۔
اگر چہ ان مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان کئی بار مذاکرات بھی ہو چکے ہیں تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔جون 1997 میں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام نے اتفاق رائے سے جن آٹھ اہم مسائل کی نشاندہی کی تھی اور جن کو مشترکہ طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ قرار دیا گیا تھا کہ اگر یہ مسائل حل ہو جائیں توپاکستان اور بھارت کے مابین ہمسائیوں جیسے تعلقات قائم ہو جائیں گے۔ایک ایسا ہمسایہ جو دوسرے کو اپنے جیسا ہی سمجھتا ہو۔
اگرچہ چھوٹے بڑے دیگر مسائل بھی ہیں مگر سب سے زیادہ اہمیت کے حامل اور حساس مسائل یہی آٹھ ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر ایک ساتھ بات ہونی چاہیے کیونکہ دیگر تمام مسائل کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا جائے تو دیگر مسائل کا حل تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی گفتگو ساتھ ساتھ ہونی چاہے اور دیگرامور پر پیش ر فت کو کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا۔

بھارت کا اصرار ہے کہ ریاست کشمیر ہمارا حصہ ہے اور پاکستان کا اصرار ہے کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے۔ اس پر اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔جبکہ وہاں کے عوام کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔1948کے آغاز میں ہی یہ مسئلہ عالمی برادری کی نظر میں آچکا تھا۔ چنانچہ اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لیے اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کر لیا یعنی کہ اگر عوام کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہے گی تو کشمیر پاکستان کا حصہ اور اگر عوام کی اکثریت نے بھارت میں شامل ہونے کیلئے ووٹ ڈالا تو کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا۔
بھارت کے اس جمہوری طریقہ کار کے مطابق اور اخلاقی طور سے مناسب فیصلے کو ساری عالمی برادری نے سراہا مگر دوسری طرف بھارت نے ریفرنڈم کرانے کی بجائے کشمیر کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا۔اس کے بعد دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی جانی دشمن بن گئی۔جس کی وجہ سے دیگرتصفیہ طلب مسائل بھی پیدا ہوتے چلے گئے۔مفاد پرست طاقتیں بھارت اور پاکستان میں مفاہمت کرانے کی بجائے مزید ہوا دیتی رہیں۔ چنانچہ اب تک پاکستان کہتا رہاہے کہ کشمیری عوام ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ 1987 تک کشمیری ہندوستان کے آئین کے مطابق اس کے زیرانتظام علاقے میں ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اب کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔
1987میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونیوالے انتخابات میں اس وقت کی بھارتی حکومت کے ایما پر کافی بدعنوانیاں ہوئی تھیں جس کو ناانصافی سمجھتے ہوئے کشمیر کے عوام نے بھارت کے خلاف اپنے حق کے حصول کی خاطرجاری جنگ آزادی کو تیز کر دیا۔جس کو ہمیشہ کی طرح قابض حکمرانوں کی طرف سے حریت پسندوں کی آزادی کی جدوجہد کو بغاوت قرار دیاگیا۔ جیساکہ ہندوستان میں انگریز حکمرانوں سے آزادی کی جنگ لڑنے والے حریت پسندوں کو باغی قرار دیا گیا تھا۔
اس بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندی پاکستان کی شہ پر جاری ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے ،وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔
دوسرا مسئلہ پاکستان اور بھارت میں جونا گڑھ کا تنازعہ بھی موجود رہا ہے جہاں کی سمندری حدود پر متعدد بار گفتگو ہو چکی ہے جبکہ تیسرے نمبر پر انتہائی اہمیت کے علاقے سر کریک کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ہندوستانی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبے سندھ کے علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کے تعین پر بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔
یہ بھی 1947سے التوا میں چلا آرہا ہے۔یہ علاقہ سر کریک کا علاقہ کہلاتاہے۔ ساٹھ سے سو کلومیٹر کے اس علاقے میں بہت سی کریک یعنی خلیج اور دریاوٴں کے دہانے ہیں۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960کی دہائی میں سامنے آیا تھاجس پر 1968میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ویسٹرن باوٴنڈری ٹرائیبیونل ایوارڈ قائم کیا گیا۔ لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ سر کریک کے علاقے میں بین الاقوامی سرحد کا تعین کس قانونی بنیاد پر کیا جائے۔
اس علاقے کا کچھ حصہ آبی ہے اور کچھ حصہ خشک۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس مسئلہ پر مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سرحد کے تعین کے لئے بین الاقوامی قانون کا وہ اصول استعمال کیا جائے جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لئے بنایا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پانی والے علاقے پر عائد ہوتا ہے لیکن یہاں پانی اور خشکی دونوں موجود ہیں لہذا بھارت کا استدلال غلط ہے۔
دونوں ممالک کی اس علاقے میں دلچسپی یہاں پر ماہی گیری کی وسیع صنعت اور تیل کے وافر ذخائر کی وجہ سے ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہے کہ آخر سرحد کس جگہ پر قائم کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرکریک کا پورا علاقہ اسکا اپنا ہے۔ لیکن ہندوستان اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے تین برس قبل ایک مشترکہ سروے بھی کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔
مگر پھر بھی مسئلہ جوں کا توں باقی رہا۔
چوتھا اہم مسئلہ وولر پروجیکٹ کا ہے جو بھارت دریائے جہلم پر کشمیر میں وولر پروجیکٹ کے نام سے ایک ڈیم بنا رہا ہے جس کی پاکستان شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بھارت کا یہ کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کا پانی دیگر ذرائع کیلئے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ گرمی کے موسم میں دریائے جہلم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔
جس کی وجہ سے اس کے ہاں پانی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کو پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ اندرون ملک بھی پانی کے ذخائر بنانے پر اختلافات موجود ہیں۔ دریائے جہلم بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوکر پاکستان میں ختم ہوتا ہے۔جبکہ بھارت وولر پراجیکٹ کی طرح ایک دوسرا پراجیکٹ دریائے چناب پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ جسکو پانچواں مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔یہ دریا بھی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان کے دریائے سندھ میں شامل ہوکر سمندر میں گرتا ہے۔
پاکستان کو خدشہ ہے کہ اس دریا پر ہندوستانی پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اسے سلال ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہونا باقی ہے۔ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ہندوستان ان منصوبوں کو مستقبل میں سفارتی سطح پر برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔پانی کے حوالے سے پاک بھارت میں مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔اگرچہ ان کی اہمیت بھارت کی نزدیک زیادہ نہ ہو مگر پاکستان کیلئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔
کیونکہ پاکستان کو جن دریاؤں سے پانی ملتا ہے ان میں سے اکثریت بھارت کی زیر انتظام کشمیر سے نکلتی ہے اور اگر بھارت ان پر ڈیم بنا لے، جیسا کہ ستلج اور راوی پر بنائے ہوئے ہیں اور پاکستان ان دریاؤں کے پانی سے محروم ہو چکاہے۔ اب پاکستان کودیگر دریاؤں کے پانی سے بھی محروم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بھارت کے پاس کئی دیگر دریا بھی بہہ رہے ہیں۔
چھٹا مسئلہ تجارتی تعلقات کا ہے۔ اب پاکستان اور بھارت ڈبلیو ٹی او کے ممبر ہیں جو ایک آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔
عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم میں شامل تمام رکن ممالک کے لیے لازمی ہے کہ دنیا میں آزاد تجارت قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کو ایم ایف این یعنی خصوصی مراعات یافتہ قوم کا درجہ دیں۔ ایم ایف این کا درجہ جس ملک کو دیا جاتا ہے وہاں سے اشیاء کی درآمد اور برآمد میں تاجروں کے لئے آسانی ہوجاتی ہے۔چنانچہ اس بارے میں بات چیت تو جاری رہتی ہے مگر ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

ایک ساتواں دیگر مسئلہ جو ابھی چند سال سے ہی پیدا ہوا ہے وہ ہے گیس پائپ لائن منصوبہ۔پاکستان اور ایران نے 1995 میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت ایران سے کراچی تک ایک گیس پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تا کہ پاکستان کو ایران کی قدرتی گیس ترسیل کی جاسکے۔ بعد میں ایران نے یہ مشورہ دیا کہ اس گیس پائپ لائن کو بھارت تک لے جایا جائے تاکہ ایران سے بھارت کو بھی گیس فراہم کی جاسکے۔
پاکستان اور بھارت اصولی طور پر اس گیس پائپ لائن کے منصوبے پر متفق ہیں لیکن دیگر مسائل کی طرح سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اب تک اس معاملے پر بھی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ چونکہ یہ گیس پائپ لائن پاکستان سے گزرے گی اس لئے بھارت کو عدم تحفظ کا خطرہ لاحق رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ گیس پائپ لائن بچھالی جائے تو پاکستان کو اپنی سرزمین سے گیس کی ترسیل کے لئے تقریبا 70 کروڑ ڈالر کا سالانہ محصول ملے گا۔

آٹھویں نمبر پرپاکستان کا بھارت کے درمیان ایک اور تنازعہ چل رہا ہے وہ سیاچن کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ تنازعات کی فہرست میں 1984 میں شامل ہوا جب ہندوستان نے اپنی افواج کو ہمالیہ کی ان چوٹیوں پر یہ کہتے ہوئے بھیج دیا کہ پاکستان ان پر قبضہ کرنے والا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ 1947کے بعد سے اس علاقے میں دونوں ممالک میں سے کسی کی بھی فوج نہیں تھی کیونکہ یہ علاقہ انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے یخ ٹھنڈا علاقہ ہے۔
جہاں پر درجہ حرارت منفی سے بھی بہت نیچے تک رہتا ہے اور عام حالات میں وہاں پر زندہ رہنا انسانی جسم کیلئے ممکن نہیں۔اس پر بھی دونوں ممالک میں جنگ ہو چکی ہے جو دنیا بھرمیں انتہائی بلندی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی جنگ تھی ۔ جہاں دونوں ملک اپنی افواج کو وہاں رکھنے کے لئے کروڑوں روپے روزانہ صرف کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین اس پر کئی بار مذاکرات ہوئے کہ اس علاقے سے اپنی اپنی افواج واپس بلا لی جائیں،مگر دونوں ممالک کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔
سیاچن گلیشیر اور سرکریک کے متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے بھارت کا وفد اس سلسلے میں پاکستان بھی آیا تھا،مگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔سیاچن گلیشیئر سے فوجیں ہٹانے کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان دہلی میں بھی بات چیت ہوئی جو بے نتیجہ ختم ہوگئی ۔ بھارت کا موقف ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر فی الوقت جہاں فوج موجود ہے اگر اس پوزیشن کو تسلیم کرلیا جائے تو فوجیں ہٹائی جا سکتی ہیں۔
لیکن پاکستان صرف 1984 سے قبل کی صورتحال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن گلیشیئرز بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھیں۔
بھارت کے سابق ایڈمرل رام داس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں امن کی تحریک کو ابتد ا ہی سے کئی چیلنج درپیش رہے ہیں۔ ان میں دونوں ملکوں میں شدید غربت، مذہبی بنیاد پرستی، ملٹری کارپوریٹ کلچر، نیوکلیئر ، طرز فکر اور تعصبات اور بیرون ممالک خاص طور پر امریکہ کا اثر و نفوذ شامل ہیں۔
رام داس نے تجویز دی کہ امن کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے اور اس تحریک کا جائزہ لینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ دونوں طرف کے لوگ مل بیٹھیں۔جبکہ بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کا بھی کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے سب سے بلند محاذ جنگ، سیاچن گلیشئر کو ’امن کی پہاڑیوں‘ میں تبدیل کر دیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ من موہن سنگھ کا یہ بھی زور دیکر کہنا کہ امن کے لیے سرحدوں کی از سرنوحدبندی نہیں کی جائیگی بھارت کے اخلاص کو مشکوک بنا دیتی ہے ۔
منموہن سنگھ بھارت کے پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے سیاچن کا دورہ کیا تھا،وہاں پر تعینات ہندوستانی فوجوں کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا ’سیاچن کو دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ کہا جاتا ہے ،جہاں زندگی گزارنا بڑا مشکل ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ اس محاذ جنگ کو پر امن پہا ڑیوں میں تبدیل کردیا جائے۔اڑھائی سال قبل جب نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے بھی کچھ اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا تاہم بعد ازاں نریندر مودی پاکستان مخالف جذبات کے اظہار کرنے لگے ۔
ابھی حال ہی میں کیرالہ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دینے کی با ت کی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے ۔دراصل بھارت میں بی جے پی کی حکومت پاکستان مخالف نعرے کی بنیاد پرقائم نہیں ہوئی تھی بلکہ بے جے پی نے اکنامک گرومنگ کے منشور پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کو اپنی ہر تقریر میں عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی تعمیر و ترقی کا زکر کرنا پڑتا ہے ۔
دراصل بھارت اس وقت زیادہ تر توجہ اپنی معیشت پر دے رہا ہے اور اس کیلئے اسے امریکہ کا تعاون بھی حاصل ہے ان حالات میں بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔لہذا قرار دیا جاسکتا ہے بھارت پاکستان کے خلاف اس حد تک ہی جائے گا جہاں بھارتی عوام میں حب الوطنی بیدار ہو اور وہ بے جے پی کی حکومت کی کوتاہیوں نظر انداز کر کے اسے کام کرنے کا موقع دیں۔شائد یہی خواہش پاکستان کی حکومت کی بھی ہو تاہم ”دفاع حکومت“کی یہ ”جنگ“کسی طور بھی دونوں ممالک کے عوام کے حق میں نہیں۔ پاک بھارت حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مل بیٹھ کر دونوں ممالک کو لاحق حقیقی مسائل پر بات چیت کریں اور ان مسائل کا پائیدار حل تلاش کر کے اپنے اپنے ممالک کی تعمیر و ترقی پر توجہ دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com