جوڈیشل انکوائری کمیشن میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل

کمیشن کی (ق) لیگ،ایم کیو ایم،بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے وکلا کو(آج ) دلائل مکمل کرنے کی ہدایت , (کل) زیادہ دیر تک بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے، (پرسوں ) تک اپنی کارروائی مکمل کرلیں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس , تحریک انصاف انتخابات میں حصہ لینے والی نئی جماعت تھی، پیپلز پارٹی نے پورے پاکستان سے 15فیصد کے قریب نشستیں حاصل کیں، خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ(ن) کو 8لاکھ ووٹ پڑے، تحریک انصاف نے کے پی کے میں 13لاکھ90ہزار ووٹ حاصل کئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں انتخابات شفاف ہوئے، تحریک انصاف کے پی کے میں اقتدار میں نہیں تھی، اے این پی کو انتخابات میں غیر یقینی شکست ہوئی، کون کہتا ہے کہ ایم کیو ایم کے حلقوں میں انتخابات شفاف ہیں، ایم کیو ایم کے حلقوں میں تو فارم 15 نہیں ملے، نجم سیٹھی نے کمیشن کے سامنے اقرار کیا کہ 25 اپریل کے بعد نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے اختیارات محدود ہو گئے تھے‘ اگر وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود ہو گئے تو پنجاب حکومت کون چلا رہا تھا , تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کے جوڈیشل انکوائری کمیشن میں دلائل