حکمرانوں کی تمام تر توجہ کا مرکزایسے منصوبے ہیں جن میں دماغ کی بجائے لوہے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ، جب حکومت کی اپنی صفوں میں لٹیرے بیٹھے ہوں توکرپشن کا سراغ کون لگا سکتا ہے، بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے اور محلوں میں رہنے والوں کو پکڑا جائے تو کرپشن کے سارے سراغ مل جائیں گے ،کرپشن عام آدمی نہیں اعلیٰ عہدوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے خاص لوگ کرتے ہیں ،جب تک کڑا اور بے رحم احتساب نہیں ہوتا کرپشن کے ناسور کو پھیلنے سے نہیں روکا جاسکتا،آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لینے والے اﷲ سے نہیں صیہونی اداروں سے ڈرتے ہیں ، جب انہیں قرضے کی بھیک مل جاتی ہے تو پھولے نہیں سماتے ،وزیر خزانہ قرضہ کی قسط ملنے پر قومی ٹی وی پر آکر اس طرح اعلان کرتے ہیں جیسے انہوں نے کشمیر فتح کرلیا ہو ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا استقبالیہ تقریب سے خطاب