تاجروں کے ساتھ ود ہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیاجائے گا‘ 2018ء تک ملک اقتصادی لحاظ سے انتہائی مضبوط و طاقتور ہو گا‘ ملک میں ملک میں فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ‘ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے مالی معاونت کر رہی ہے‘ ضرب عضب آپر یشن اس وقت آخر ی مر احل میں ہیں وزیر اعظم آئی ڈی پیز میں امدادی رقوم کے چیکس تقسیم کر رہے ہیں‘ٹیکس افسران کو ہدایت کی وہ ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لئے تاجر و کاروباری افراد کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کریں اور مثبت رویوں کے ساتھ لوگوں کو ڈرائے دھمکائے بغیر ٹیکسوں کی طرف مائل کریں اور نئے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں‘ ایف بی آر کسٹم سمیت دیگر ٹیکس افسران کی محنت اور لگن سے رواں مالی سال 2015-16ء کا 3104 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا ‘ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران 8.8 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد ہوئی ،ایف بی آر کے تعاون سے قومی معیشت کو مستحکم اور تمام معاشی اہداف حاصل کرلئے جائیں گے، مالی خسارے‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے‘ درآمدات میں کمی سمیت برآمدات بڑھانے اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیلئے ٹیکس اصلاحات اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے

وزیر خزانہ اسحا ق ڈار کا ایف بی آر کے زیر اہتمام انکم ٹیکس آفس میں پاکستان کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے افسران سے خطاب