ملک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے‘ ملک میں ہر ادارہ اپنا کام کر نے کی بجائے دوسرے پر تنقیدکر رہا ہے ‘ ہم بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ‘ملک میں ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ‘آئین ہمیں حقوق کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی سونپتا ہے جنہیں ہمیں پورا کر نا چاہیے ‘بدقسمتی سے ہم اپنے وسائل کا بے دردی سے ضیاع کر رہے ہیں ‘ہم بجلی ‘گیس اور پانی کے بل جمع کروانے میں بھی اپنی ذمہ داری پوری کر نے کی بجائے چور بازاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں ‘میری اولین تر جیح میرٹ اور ملک میں سستا و فوری انصاف کر نا ہے، مسائل کے حل کیلئے کوئی آسمان سے اتر ے گا نہ ہی کہیں باہر سے آئیگا، مجھے افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ ہم آج اپنی منزل سے کوسوں دور ہیں اور ہمارے بعد آزاد ہونیوالی قومیں اپنی ایمانداری اور محنت کی وجہ سے آج ہم سے بہت زیادہ آگے تر قی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکی ہیں اگر ہم بھی آئین وقانون کے مطابق اپنی ذمہ داریا ں پوری کر یں اور ایک قوم بن جائیں تو ہم ایک دہائی کے اندر تر قی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء سے خطاب

عدلیہ میں احتساب سے متعلق سوال جائزہے‘ہمارا مقصد نظام کو تباہ کر نا نہیں بلکہ ججز کو مضبوط کر نا چاہیے‘جسٹس ثاقب نثار