پاکستان اورترکمانستان کاعلاقائی رابطے اور نقل و حمل کو فروغ دینے ، توانائی، دفاع، انفرااسٹرکچر ، تجارت ،سیکورٹی ، ویزے کے اجرا میں نرمی اور کھیل اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے پر اتفاق

بدھ 16 مارچ 2016 22:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔16 مارچ۔2016ء) صدر مملکت ممنون حسین اور ترکمانستان کے صدرقربان علی بردمحمد وف نے دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی رابطے اور نقل و حمل کو فروغ دینے ، توانائی، دفاع، انفرااسٹرکچر ، تجارت ،سیکورٹی ، ویزے کے اجرا میں نرمی اور کھیل اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین اور ترکمانستان کے صدرقربان علی بردمحمد وف کے درمیان یہ اتفاقِ رائے بدھ کو ایوان صدر میں تنہائی اور وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں ہوا۔اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، وزیر تجارت انجینئرخرم دستگیر ، وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق ، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت برائے مواصلات عبدالحکیم بلوچ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ طارق فاطمی اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اورترکمانستان کے برادرانہ تعلقات صدیوں پر محیط تاریخی اور ثقافتی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی قربت ہماری آئندہ نسلوں میں بھی منتقل ہو رہی ہے۔ صدر مملکت نے ذور دیا کہ ویزے کے سلسلے میں مزید سہوتیں دینی چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور ثقافتی تعلقات فروغ پائیں اور رابطے بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے تجارتی تعلقات صلاحیت سے کم ہیں۔ اس سلسلے میں تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ فضائی اور زمینی رابطوں کے آغاز سے دونوں ملک معاشی طور پر قریب ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں صدر مملکت نے ترکمانستان کی جانب سے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف بھی کی۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ ترکمانستان دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے بہترین سول اور ملٹری اداروں میں منعقدہ تربیتی پروگراموں سے مستفید ہونا چاہیے۔صدر مملکت نے ترکمانستان کے صدر کو آگاہ کیا کہ پاکستان اپنی پالیسی کے تحت تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت سے پرامن تعلقات کا خواہش مند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت سے جموں و کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے تاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ بھی ترقی کرے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان تہہ دل سے افغان مصالحتی عمل کو اسپورٹ کر رہا ہے جس کا آغاز خالصتاًافغانستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان چار جہتی کوآرڈینیشن گروپ جس میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ شامل ہیں کہ تحت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موقع پر ترکمانستان کے صدرقربان علی بردمحمد وف نے کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

انھوں نے صدر مملکت ممنون حسین کو ترکمانستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے کہاکہ کل دونوں ملکوں کے مابین بزنس فورم بھی منعقد ہو رہا ہے جس سے معاشی تعلقات میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اس سے قبل ترکمانستان کے صدر کی آمد پر صدر مملکت نے مرکزی دروازے پر ان کا استقبال کیا اور روائتی لباس میں ملبوس بچوں نے مہمان صدر کو گلدستے پیش کیے۔ صدر مملکت نے مہمان صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ایوان صدر میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیے کے اختتام پر پاکستان آرمی کے بینڈ پر مسحور کن دھنیں بھی پیش کیں۔

متعلقہ عنوان :