سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قومی صحت کے اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جعلی ادویات کی رجسٹریشن کا انکشاف

ڈی آر اے پی کی منظورشدہ 10 جعلی ادویات کے ثبوت موجود ہیں ، کمیٹی چاہے تو پیش کرنے کو تیار ہوں، سینیٹر کلثوم پروین کا چیلنج , اگر ہم ایف ڈی اے کا معیار رکھیں تو ساری کمپنیاں بند ہو جائیں گی ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان میں اصول بدل جاتے ہیں، پولیو ویکسین کبھی جعلی نہیں ہوتیں، وزیرمملکت قومی صحت کی کمیٹی کو بریفنگ , ادویات کی قیمتوں میں اضافہ غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے،کمیٹی کا ادویات کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے پر برہمی کا اظہار،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو پرائسنگ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے اور وزارت کو قیمتوں کا درست تعین کرنے کی ہدایت